ادب
عزل.... عشیار عبداللہ

نہ کٹھن سفر ہو تو اور کیا ہو مرا ہم سفر ہی مریب ہے
مجھے جان کر یہ خوشی ہوئی مرا اختتام قریب ہے
--------------------------------------------------
یہ کراہتیں یہ وضاحتیں یہ ہمارے بیچ کی دوریاں
نہ مُحَبَّتیں رہیں درمیاں نہ سکوں ہی ہم کو نصیب ہے
---------------------------------------------------
ہمیں تجھ سے غم کے سوا نہ کچھ ملا، زندگی تراشکریہ
مجھے تجھ سے کوئی گلہ نہیں، مری شخصیت ہی عجیب ہے
----------------------------------------------------
جو رہے سو ہم رہے باوفا، یہ غلط ہوا یہ قصور ہے
مجھے کھینچۓ کیوں نہ دار پرکہ صلہ وفا کا سلیب ہے
--------------------------------------------------
مری غلطِیاں بے شمار ہیں مرے جرم بھی بے حساب ہیں
ترا جو بھی ہو نقطۂ نظر، وہ خدا ہی میرا حسیب ہے
---------------------------------------------------
نہ ہی دل میں کوئی ملال ہے نہ لبوں پہ میرے سوال ہے
میں نہ لڑ سکوں کہ نہ بس چلے، مری تیغ تیغِ شکیب ہے
----------------------------------------------------
نہ یقیں رہا نہ گماں رہا کہ ہے اضطراب سی کیفیت
سنوں کس کی بات بتاؤ میں، یہاں دل ذہَن کا نقیب ہے
----------------------------------------------------
یہ مباحثے یہ غلط بیانیاں یہ فضول مناظرے
یہاں سب کو سب سے ہیں نفرتیں یہاں کون کس کا حبیب ہے