Ad
مضامین

عظمتِ مصطفیٰ ﷺ کانفرنس: بٹہ گنڈ ترال کی سرزمین پر

✍️ :. محمد عرفات وانی 


عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم وہ مقدس، ابدی اور نورانی حقیقت ہے جو صدیوں سے دلوں کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ یہ وہ چراغ ہے جو کبھی بجھتا نہیں بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ اور بھی زیادہ روشن ہوتا جاتا ہے۔ یہی عشق انسان کو اس کی حقیقت سے آشنا کرتا ہے، اس کے باطن کو پاکیزگی عطا کرتا ہے اور اس کی زندگی کو مقصدیت بخشتا ہے۔ جب یہی جذبہ اجتماعی صورت اختیار کرتا ہے تو وہ محض ایک اجتماع نہیں رہتا بلکہ ایک روحانی انقلاب بن جاتا ہے۔ بٹہ گنڈ ترال کی سرزمین پر ۳۱ مارچ ۲۰۲۶ کو منعقد ہونے والی عظمت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کانفرنس اسی روحانی انقلاب کی ایک درخشاں، ناقابل فراموش اور تاریخ ساز مثال بن کر سامنے آئی۔

یہ کانفرنس دراصل بٹہ گنڈ عیدگاہ میں منعقد کرنے کا منصوبہ تھا جہاں ایک وسیع و عریض میدان میں ہزاروں افراد کے اجتماع کی توقع کی جا رہی تھی مگر بعض ناگزیر وجوہات کے باعث اس کا مقام تبدیل کر کے مرکزی جامع مسجد بٹہ گنڈ کر دیا گیا۔ بظاہر یہ ایک معمولی تبدیلی تھی مگر حقیقت میں یہی فیصلہ اس اجتماع کے لیے مزید برکت، روحانیت اور اثر پذیری کا باعث بن گیا۔ مسجد کے مقدس ماحول نے اس کانفرنس کو ایک ایسی نورانیت عطا کی جس نے ہر دل کو جھکا دیا اور ہر روح کو سرشار کر دیا۔

اس دن بٹہ گنڈ کا منظر کسی عام دن جیسا ہرگز نہ تھا بلکہ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے پورا علاقہ ایک روحانی جشن میں ڈوبا ہوا ہو۔ صبح سے ہی گلیوں، کوچوں اور سڑکوں پر ایک غیر معمولی چہل پہل تھی۔ لوگ جوق در جوق، قافلوں کی صورت میں اس بابرکت محفل میں شرکت کے لیے آ رہے تھے۔ دور دراز علاقوں سے آنے والی گاڑیوں کی لمبی قطاریں اس بات کا اعلان کر رہی تھیں کہ یہ صرف ایک مقامی پروگرام نہیں بلکہ ایک عوامی، روحانی تحریک بن چکا ہے۔ پارکنگ کے لیے جگہ کم پڑ گئی، گاڑیاں سڑکوں کے کناروں پر کھڑی تھیں اور کئی مقامات پر ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی تھی مگر کسی کے چہرے پر بے زاری نہ تھی بلکہ ہر شخص کے دل میں ایک ہی خوشی تھی کہ وہ عشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس محفل کا حصہ بننے جا رہا ہے۔

مرکزی جامع مسجد بٹہ گنڈ اور اس کے اطراف کا منظر واقعی ایمان افروز تھا۔ مسجد کے تینوں فلورز عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لبریز تھے یہاں تک کہ تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ بہترین انتظامات کے تحت دوسرے فلور پر ایل سی ڈی اسکرین کا بھی اہتمام کیا گیا تھا جہاں موجود افراد اسٹیج پر ہونے والی تمام سرگرمیوں کو براہ راست لائیو دیکھ رہے تھے۔ اس کے باوجود لوگ مسجد کے صحن، ملحقہ گلیوں اور سڑکوں تک کھڑے ہو کر اس محفل سے فیض حاصل کر رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے انسانوں کا ایک سمندر سکون اور وقار کے ساتھ موجزن ہو۔ ہر چہرہ عقیدت سے روشن، ہر آنکھ نم اور ہر دل درود و سلام کی خوشبو سے مہک رہا تھا۔ مجمع کا نظم و ضبط اور خاموشی سے خطابات سننا اس بات کی دلیل تھا کہ یہ قوم آج بھی اپنے دین اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت رکھتی ہے۔

اس عظیم الشان کانفرنس کی رونق کو دوبالا کرنے میں جید اور باوقار علماء کرام کی شرکت نے مرکزی کردار ادا کیا۔ محفل کی سرپرستی حضرت علامہ مولانا عبدالرشید داؤدی صاحب نے فرمائی جن کا خطاب اپنی تاثیر، گہرائی اور حکمت کے اعتبار سے ایک یادگار درس بن گیا۔ انہوں نے قرآن مجید کی عظمت، اس کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرنے کی ضرورت اور خاص طور پر نوجوان نسل کو درپیش فتنوں خصوصاً منشیات، بے راہ روی اور دین سے دوری پر نہایت دردمندانہ انداز میں روشنی ڈالی۔ ان کے الفاظ محض سنے نہیں گئے بلکہ دلوں میں اتر گئے اور بہت سے چہروں پر سنجیدگی اور غور و فکر کے آثار نمایاں ہو گئے۔

حضرت مولانا محمد لطیف قادری صاحب نے اپنے بیان میں موت کی حقیقت کو اس انداز میں پیش کیا کہ مجمع پر ایک عجیب سی خاموشی طاری ہو گئی۔ ان کے الفاظ نے انسان کو اس کے انجام کی یاد دلا کر دلوں کو نرم کر دیا۔ انہوں نے آخر زمانے کی نشانیوں کا ذکر کرتے ہوئے ان پانچ چیزوں کی طرف اشارہ کیا جن سے لوگ غیر معمولی محبت کرنے لگیں گے یہ بیان ہر سننے والے کے لیے ایک آئینہ ثابت ہوا۔

حضرت مولانا سید حامد رضا صاحب نے سیرت طیبہ کے روشن پہلوؤں کو نہایت دلنشین انداز میں بیان کیا اور حاضرین کو اسوہ حسنہ کو اپنی زندگیوں میں عملی طور پر اپنانے کی تلقین کی۔

محفل کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کی سعادت حافظ عاقب اور محمد شفیع صاحب نے نہایت خوبصورت انداز اور خشوع و خضوع کے ساتھ حاصل کی جس سے فضا ابتدا ہی سے روحانیت میں ڈوب گئی۔ اس کے بعد نعت خوانی کا سلسلہ شروع ہوا جس میں سب سے پہلے حافظ بشارت جو مسجد کے معزز امام بھی ہیں نے اپنی پرسوز اور دل میں اتر جانے والی آواز میں بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں ہدیۂ عقیدت پیش کیا۔ ان کی آواز میں محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی مٹھاس اور تاثیر تھی کہ سامعین کے دلوں کو گہرائی تک متاثر کر گئی۔ اس کے بعد عبد الاحد مجاہد نے ابتدائی خطاب کے ساتھ نعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پیش کر کے محفل کو مزید روحانیت سے بھر دیا گویا ہر لمحہ نور میں ڈھلتا جا رہا تھا۔

بعد ازاں مہمان خصوصی ارشاد احمد عطاری جو کم عمری کے باوجود عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سرشار اور غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک ہیں، نے اپنی پرسوز آواز میں نعت شریف پیش کر کے محفل کو ایک نئی روحانی بلندی عطا کی۔ ان کے بعد عفام علی اور زاہد نذیر نے بھی اپنی خوبصورت آوازوں میں نعت شریف پیش کی جس سے محفل اپنے عروج تک پہنچ گئی۔ فضا درود و سلام کی صداؤں سے گونج اٹھی، سامعین پر وجد کی کیفیت طاری ہو گئی، آنکھیں اشکبار ہو گئیں اور دل عشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں ڈوب گئے۔ وہ لمحات واقعی ایسے تھے جنہیں الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں، بلکہ انہیں صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔

اس بابرکت اجتماع میں عبادات کا اہتمام بھی نہایت خوبصورتی کے ساتھ کیا گیا۔ نماز عصر کی امامت محمد طاہر بابا نے فرمائی جبکہ ان کے بھائی ثاقب احمد نے نہایت شائستگی اور مہارت کے ساتھ نظامت کے فرائض انجام دیے جس سے پورا پروگرام ایک خوبصورت تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتا رہا۔ نماز مغرب کی اذان اور امامت خود حضرت مولانا عبدالرشید داؤدی صاحب نے فرمائی جو اس اجتماع کا ایک انتہائی روح پرور اور بابرکت لمحہ تھا۔

اس عظیم کانفرنس کے پس پردہ محنت کرنے والے افراد کی کاوشیں بھی کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ صوت الاولیاء یونٹ بٹہ گنڈ ترال اور مقامی نوجوانوں نے جس خلوص، محنت اور لگن کے ساتھ اس پروگرام کو کامیاب بنایا، وہ واقعی قابل تحسین ہے۔ خصوصاً ڈار عادل کی انتھک محنت اس کانفرنس کی کامیابی میں نمایاں نظر آئی۔ ان کے ساتھ شہنواز گل، سہیل ریشی، مزمل رشید، سمیر احمد شیخ، محمد اقبال ڈار، اشتیاق احمد ڈار، ریاض احمد شاہ، یونس احمد میر، نثار احمد گناۂی، لیاقت جلال، خورشید احمد شاہ، عمر رشید ڈار، محمد اقبال صوفی، اعجاز احمد ڈار، مرتضیٰ بابا، محمد سلیم بابا اور گوہر احمد شیخ نے بھی بھرپور کردار ادا کیا۔ ان نوجوانوں کی اجتماعی کوششیں اس بات کی روشن دلیل ہیں کہ جب نیت خالص ہو اور مقصد بلند ہو تو کامیابی خود قدم چومتی ہے۔

اس روحانی محفل کی ایک ذاتی خوشی یہ بھی رہی کہ مجھے ان جید شخصیات سے بالمشافہ ملاقات کا شرف حاصل ہوا جن میں حضرت مولانا عبدالرشید داؤدی صاحب، نعت خواں ارشاد احمد عطاری، حضرت مولانا سید حامد رضا صاحب اور حضرت مولانا محمد لطیف قادری صاحب شامل ہیں۔ یہ ملاقاتیں میرے لیے ایک قیمتی روحانی سرمایہ ہیں جو ہمیشہ میرے دل و دماغ میں تازہ رہیں گی۔

اس بابرکت اجتماع کے اختتام پر میڈیا نمائندگی بھی دیکھنے کو ملی جہاں قابل احترام صحافی شبیر بٹ صاحب نے حضرت مولانا عبدالرشید داؤدی صاحب کا مختصر انٹرویو کیا۔ انہوں نے مختلف اہم دینی و سماجی موضوعات پر سوالات کیے جن کے جوابات داؤدی صاحب نے نہایت مدلل اور بصیرت افروز انداز میں دیے جو حاضرین کے لیے مزید رہنمائی کا باعث بنے۔

یہ کانفرنس محض ایک دن کا اجتماع نہیں تھی بلکہ ایک پیغام، ایک بیداری اور ایک عہد تھی کہ ہم اپنی زندگیوں کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کے مطابق ڈھالیں گے، اپنے ایمان کو مضبوط کریں گے اور اپنی آنے والی نسلوں کو دین سے جوڑے رکھیں گے۔ مسجد کے اندر سے لے کر سڑکوں تک پھیلا ہوا یہ عظیم الشان ہجوم اس بات کا واضح اعلان تھا کہ عشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم آج بھی زندہ ہے، تابندہ ہے اور قیامت تک زندہ رہے گا۔

آخر میں ہم بارگاہ الٰہی میں دست بدعا ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس بابرکت اجتماع کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا فرمائے، اس کے منتظمین، مقررین اور تمام شرکاء کو جزائے خیر سے نوازے اور اس خطے کو ہمیشہ دین، علم، امن اور محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مرکز بنائے رکھے۔ آمین یا رب العالمین۔

مضمون نگار 

کچھمولہ ترال پلوامہ کشمیر 

9622881110

wania6817@gmail.com



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!