افسانہ
پہچان........ افسانہ

وہ دن علی کاک کے لیے غیر معمولی تھا...... نہ اس لیے کہ آسمان بدلا تھا،نہ اس لیے کہ موسم نے کروٹ لی تھی،بلکہ اس لیے کہ گلی نے اسے پہلی بار نام کے بجائے نوٹوں سے پکارا تھا۔جب دولت اس کے دروازے پر آئی تو دروازہ خود بخود چوڑا ہوگیا۔وہی تنگ سی دہلیز، جس پر کبھی غربت کے سائے اٹکے رہتے تھے، اب قالین اوڑھ چکی تھی۔گلیوں میں اس کا استقبال ہونے لگا۔
وہی رشتہ دار ہاتھ ملانے کے لیے ترس رہے تھے جنہوں نے غریبی کی وجہ سے ان کا ساتھ چھوڑ دیا تھا... ہاتھ ملانے والوں کے ہاتھ گرم تھے،مگر آنکھیں ٹھنڈی..... جیسے آئینے ہوں جن میں چہرہ نہیں، صرف فائدہ جھلکتا ہے۔
علی کاک نے ابتدا میں یہ سب محض اتفاق سمجھا۔
“وقت بدلتا ہے”..... وہ خود سے کہتا۔مگر وقت نے نہیں،
اس نے کپڑے بدلے تھے۔اور کپڑوں کے ساتھ لہجہ،
لہجے کے ساتھ یادداشت۔
وہ اپنے بچپن کی آوازیں بھولنے لگا......
وہ کنکر جو ننگے پاؤں میں چبھتے تھے،
وہ راتیں جن میں چولہا خود شرما جاتا تھا۔
اب وہ ہر روز آئینے کے سامنے کھڑا ہو کر
اپنے چہرے کو پہچاننے کی کوشش کرتا،مگر آئینہ صرف عہدے دکھاتا،مسکراہٹیں نہیں۔
محلے کی مسجد کے باہر
وہی فقیر اب بھی بیٹھتا تھا۔علی کاک جب اس کے پاس سے گزرتا
تو نظر جھکا لیتا.....
جیسے کوئی پرانا رشتہ سامنے آکرخاموش سوال بن جائے۔
ایک دن فقیر بولا“بابا، پہچان کہاں رکھ چھوڑے ہو؟”
علی کاک چونکا۔
پہچان؟
اس نے جیب ٹٹولی...... کارڈ، چابیاں، موبائل..... سب ملا،
پہچان نہ ملی۔
وقت کے ساتھ استقبال رسمی ہوگیا۔تالیوں کی آواز میں کھنک تھی،دل نہیں۔
دعوتوں میں وہ مرکزِ نگاہ ہوتا،مگر مرکز میں کھڑا ہو کر بھی خود سے باہر محسوس کرتا۔
لوگ اس کے گرد ایسے گھومتےجیسے سیارے کسی سورج کے گرد...... مگر سورج کے اندر اندھیرا تھا۔
ایک رات اس نے خواب دیکھاگلی اس سے بات کر رہی ہے۔
گلی کہہ رہی تھی“تو میرے قدموں کی مٹی تھا،اب میرے نقشے کا پلاٹ ہے۔”
پھر ایک دن خبر اڑی..... بازار میں ہلچل،فائلیں بولنے لگیں۔وہی ہاتھ
جو کل تک مبارکباد دیتے تھےآج فاصلے ناپنے لگے۔
استقبال کی جگہ خاموشی نے لے لی۔علی کاک نے آئینے میں دیکھا......
چہرہ اب بھی تھا،مگر نام غائب۔
فقیر پھر سامنے آیا۔“بابا، پہچان مل گئی؟”
علی کاک نے سر ہلایا....... مگر ہلانے کوکچھ تھا نہیں۔
شام ڈھلی۔گلیاں وہی تھیں،مگر اس کے قدم بھاری تھے۔وہ اپنے پرانے گھر کی دہلیز پر رکا..... وہی تنگ دہلیز۔دروازہ کھولاتو اندر ایک خالی کمرہ تھا۔
دیوار پر ایک فریم لٹک رہا تھا۔
اس نے قریب جا کر دیکھا۔فریم میں کوئی تصویر نہیں تھی......
صرف ایک کاغذ،جس پر لکھا تھا“یہاں کبھی ایک آدمی رہتا تھا۔”
علی کاک بیٹھ گیا۔جیبیں بھری تھیں،مگر ہاتھ خالی۔
باہر گلی سے آواز آئی....... کسی اور کے استقبال کی۔وہی تالیاں،وہی کھنک،
وہی ٹھنڈی آنکھیں۔
وہ اٹھا،آئینے کے سامنے گیا۔آئینے نے اس بارکچھ بھی نہیں دکھایا۔
عین اسی لمحے فقیر کی آواز آئی“بابا، پہچان وہ نہیں جو لوگ دیں...... وہ ہے
جو تم خود کو لوٹاؤ۔”
علی کاک نے ہاتھ بڑھایا...... آئینے کے پار۔آئینہ ٹوٹ گیا۔اور بکھرے ہوئے ٹکڑوں میں ایک ہی عکس بار بار جھلکنے لگا..... ہر ٹکڑے میں ایک مختلف آدمی،
مگر کسی میں بھی وہ نہیں تھا۔
اس رات گلی نےایک نام کھو دیا۔
اور شہر نےایک اور پہچان کودولت کے نشے میں خاموشی سے دفن کر دیا۔