Ad
افسانہ

اُمید..... افسانہ

✍️:. خورشید احمد خورشید 


صبح کی ہلکی روشنی ابھی پوری طرح پھیلی بھی نہ تھی کہ عادل اپنا لنچ اٹھائے گھر سے نکل پڑا۔ ٹھنڈی ہوا اس کے چہرے کو چھو رہی تھی، مگر اس کے دل میں بے چینی کی ایک مستقل لہر تھی۔ وہ ایک سرکاری ادارے میں بحیثیت ایک کنٹریکچول ملازم اپنے فرائض انجام دے رہا تھا. ایک ایسا عہدہ جس میں نہ عزت کی مکمل پہچان تھی، نہ روزگار کی کوئی پختہ ضمانت۔

راستے میں وہ اکثر اپنے بچوں کے بارے میں سوچتا۔ اس کا بیٹا احمد ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھتا تھا، اور بیٹی زینب کو استاد بننے کا شوق تھا۔ دونوں معصوم آنکھوں میں بڑے خواب سجائے ہر روز اس سے پوچھتے،

“ابو، ہم بڑے ہو کر کیا بن سکتے ہیں؟”

عادل مسکرا کر کہتا، “تم جو چاہو بن سکتے ہو۔”

مگر دل ہی دل میں وہ جانتا تھا کہ ان خوابوں کی تعبیر کے لیے صرف حوصلہ نہیں، وسائل بھی چاہیے ہوتے ہیں۔

دفتر پہنچتے ہی اس نے حسبِ معمول کام میں خود کو جھونک دیا۔ کبھی طلبہ کی رہنمائی، کبھی فائلوں کا انبار، کبھی افسران کے احکامات۔ کام کی کوئی حد نہ تھی، اور وقت جیسے اس کے لیے رکنے کا نام ہی نہیں لیتا تھا۔ مگر تنخواہ اتنی کم کہ مہینے کے آخری دنوں میں جیب اور دل دونوں خالی محسوس ہوتے۔

اس کے ساتھ کام کرنے والے سبھی لوگ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے. کسی کے پاس ماسٹرز کی ڈگری، کسی نے NET/SET کیا تھا ۔ سب کے چہروں پر ایک ہی تھکن، ایک ہی اضطراب نظر آتا تھا۔

ایک دن لنچ بریک کے دوران، اس کا ساتھی عمران بولا،

“ہم نے اتنی پڑھائی کیوں کی تھی؟ اس دن کے لیے؟”

عادل نے ایک گہری سانس لی، “شاید ہم نے خواب تو بڑے دیکھے، مگر حقیقت کی زمین بہت سخت نکلی۔”

گھر واپس آتے ہوئے عادل کے ذہن میں صرف دفتر کے مسائل نہیں ہوتے تھے، بلکہ گھر کی ذمہ داریاں بھی اس کا پیچھا کرتی تھیں۔ اس کی بوڑھی ماں اکثر کہتی،

“بیٹا، کب تک یہ عارضی نوکری؟ کوئی مستقل کام کیوں نہیں ڈھونڈتے؟”

بیوی کی آنکھوں میں بھی خاموش سوال ہوتے—گھر کے اخراجات، بچوں کی تعلیم، اور مستقبل کی فکر۔

رات کو جب وہ بچوں کو سوتے ہوئے دیکھتا، تو اس کے دل میں عجیب سا درد اٹھتا۔ وہ سوچتا،

“کیا میں ان کے خوابوں کو حقیقت میں بدل پاؤں گا؟ یا یہ بھی میری طرح غیر یقینی کے اندھیرے میں رہ جائیں گے؟”

ایک رات، احمد نے آ کر اس کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا،

“ابو، آپ بہت محنت کرتے ہیں، نا؟”

عادل نے مسکرا کر کہا، “ہاں بیٹا، تم لوگوں کے لیے۔”

احمد نے معصومیت سے کہا، “تو پھر آپ ایک دن بہت کامیاب ہو جائیں گے۔”

اس ایک جملے نے عادل کے دل میں جیسے روشنی بھر دی۔ اسے محسوس ہوا کہ شاید زندگی کی سب سے بڑی طاقت یہی امید ہے، جو بچوں کی آنکھوں سے جھلکتی ہے۔

اگلی صبح، وہ پھر وقت پر اٹھا۔ تھکن، پریشانی اور غیر یقینی کے باوجود اس نے بیگ سنبھالا اور دروازے سے باہر قدم رکھا۔

کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وہ صرف اپنی نہیں، بلکہ اپنے بچوں کے خوابوں، اپنی فیملی کی امیدوں، اور ایک بہتر کل کی تلاش میں ہر روز یہ سفر طے کر رہا ہے۔

اور شاید، یہی امید انسان کو ہر مشکل کے باوجود آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!