ادب
غزل :. از........ عشیار عبداللہ

زرا دیکھۓ وہاں جھانک کر ہو رہا گلی میں ہے شور کیا
جو نہیں کوئی بھی ادھر تو ذہن کا ہے یہ میرے فطور کیا
------------------------------------------
تجھے سنگ دل جو کہیں اگر، تجھے بے وفا کا خطاب دیں
تجھے اعتراض ہے جو اگر ، تو بتا تجھے کہیں اور کیا
-------------------------------------------
ترے سنگ در پہ رکھا ہے سر مرے حال پر زرا غور کر
کسے ہوش ہے کہ ہے ہوش کیا نہیں کچھ خبر ہے شعور کیا
-------------------------------------------
تجھے چاہنا ہے خطا اگر تو سزا دے مجھ کو تو قید کر
ہیں قبول سب ترے فیصلے کہ نہ پوچھیں گے ہے قصور کیا
------------------------------------------
تجھے کیسے خود سے جدا کروں ترا عکس ہے مری روح میں
ترے ہونے سے یہ وجود ہے کروں ہونے پہ میں غرور کیا
-----------------------------------------
مری چشم نم ہوئی سوز گر ترا ہر ستم ہوا کار گر
کیا یوں ہی چلے گا یہ سلسلہ تو نہ بدلے گا کسی طور کیا
----------------------------------------
جو نہ لب سے لب بھی ہلائیں گے نہ زباں سے کچھ بھی کہیں گے تو
بھلا کیسے ہم کو پتا چلے کہ چھپا ہے دل میں حضور کیا