Ad
ادب

غزل :. از........ عشیار عبداللہ

✍️:. عشیار عبداللہ


زرا دیکھۓ وہاں جھانک کر ہو رہا  گلی میں ہے شور کیا

جو نہیں  کوئی بھی ادھر  تو   ذہن کا ہے یہ میرے  فطور کیا

------------------------------------------

تجھے سنگ دل جو کہیں اگر، تجھے بے وفا کا خطاب دیں

تجھے اعتراض ہے جو  اگر ، تو  بتا تجھے کہیں اور کیا

-------------------------------------------

ترے سنگ در پہ رکھا ہے سر  مرے حال پر زرا غور کر

کسے ہوش ہے کہ ہے ہوش کیا نہیں کچھ خبر ہے شعور کیا

-------------------------------------------

تجھے چاہنا ہے خطا اگر تو سزا دے مجھ کو تو قید کر

ہیں قبول سب ترے فیصلے کہ نہ پوچھیں گے ہے قصور کیا

------------------------------------------

تجھے کیسے خود سے  جدا کروں ترا عکس ہے مری روح میں

ترے ہونے سے یہ وجود ہے کروں ہونے پہ میں غرور کیا

-----------------------------------------

مری چشم نم  ہوئی سوز گر  ترا ہر ستم ہوا کار گر

کیا  یوں ہی چلے گا یہ سلسلہ تو نہ بدلے گا کسی طور کیا

----------------------------------------

جو نہ لب سے لب بھی  ہلائیں گے نہ زباں سے کچھ بھی کہیں گے تو

بھلا کیسے ہم کو پتا چلے  کہ چھپا ہے دل میں حضور کیا



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!