Ad
مضامین

اعتکاف: خلوت میں جلوت کا راز — ان مبارک لمحات کو کیسے گزاریں

✍️:. شیخ عبد الماجد الکشمیری


اے اہلِ اعتکاف! اپنے دلوں میں شکر کے چراغ روشن کرلو، کہ تمہیں وہ ساعتیں نصیب ہوئی ہیں جن میں رحمت کے بادل جھوم کر برستے ہیں، گناہوں کے خزاں رسیدہ پتے جھڑتے ہیں، اور دلوں پر قربِ الٰہی کی بہار اترتی ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ تم مسجد کے اس حصار میں آ بسے ہو، یقیناً تمہاری زندگی کے کسی گوشے میں کوئی ایسا عمل کھلا ہوگا جو بارگاہِ ربّ العزت میں پسندیدہ ٹھہرا، تبھی اس نے تمہیں اپنے گھر کی خلوت میں بلا لیا۔

یہ بھی ایک لطیف حقیقت ہے کہ انسان کی پوری زندگی پردوں کے درمیان گزرتی ہے۔ آغاز ماں کے بطن کے پردے میں ہوتا ہے، جہاں روح کو جسم کی خلعت پہنائی جاتی ہے، اور اختتام کفن کے پردے میں۔ گویا انسان کا سفر ہی پردہ داری کا سفر ہے۔ اعتکاف دراصل انہی پردوں میں ایک شعوری قیام ہے—دنیا کی ہنگامہ خیزی سے ہٹ کر رب کے حضور تنہائی میں حاضر ہونے کا نام۔

جب بیسویں رمضان کی شام سورج اپنی سرخی سمیٹ کر افق کے پار اترتا ہے اور معتکف مسجد کے آستانے میں قدم رکھتا ہے تو گویا رحمتِ الٰہی اس کے استقبال کے لیے در وا کر دیتی ہے۔ اسی لیے بہتر ہے کہ مسجد میں داخل ہوتے ہی دو رکعت نمازِ شکرانہ ادا کی جائے، کہ یہ سعادت ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ اس کے بعد افطار کریں اور اپنے قیام کی جگہ متعین کرلیں۔ عشاء اور تراویح کی نماز عام مسلمانوں کے ساتھ ادا کریں تاکہ عبادت کی فضا میں اجتماعیت کی برکت بھی شامل ہو جائے۔

پھر ایک نیا سفر شروع ہوتا ہے—ایسا سفر جس میں نہ بازار کا شور ہے نہ دنیا کی چکاچوندھ، صرف تم ہو اور تمہارا رب۔ تلاوتِ قرآن، نوافل، تہجد اور اذکار کے ذریعے رات کے دامن کو نور سے بھر دو، یہاں تک کہ شب کی خاموشی میں دل اللہ کے حضور جھک جائے۔

فجر کی نماز کے بعد ذکر و اذکار میں مشغول رہو، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے۔ پھر کچھ دیر توقف کے بعد دو یا چار رکعت نمازِ اشراق ادا کرو۔ احادیث میں آیا ہے کہ جو شخص فجر کے بعد ذکر میں بیٹھا رہے اور اشراق کی نماز ادا کرے، اسے حج اور عمرہ کے برابر ثواب عطا کیا جاتا ہے۔

اس کے بعد کچھ دیر آرام کرلو، مگر نصف النہار سے پہلے بیدار ہو جاؤ اور نمازِ چاشت ادا کرو۔ اس نماز کی رکعات دو سے بارہ تک ہیں، اور اس کی فضیلت یہ بیان کی گئی ہے کہ اس کے بدلے جنت میں ایک عالی شان محل عطا کیا جاتا ہے—ایسا محل جس کا مالک صرف وہی بندہ ہوگا جس نے اس عبادت کو اختیار کیا۔

پھر ذکر، تلاوت اور فکر میں مصروف ہو جاؤ یہاں تک کہ ظہر کا وقت ہو جائے۔ وضو کی حاجت ہو تو کرلو، لیکن یاد رکھو کہ بلا ضرورت اعتکاف کی جگہ سے نکلنا درست نہیں۔ محض وضو پر وضو کرنے کے لیے باہر نکلنا بھی مناسب نہیں۔ وضو کے بعد تحیۃ الوضو اور تحیۃ المسجد ادا کرنا نہ بھولو، کیونکہ یہ بھی اللہ کی بارگاہ میں قرب کا ذریعہ ہیں۔

ظہر کے بعد اگر چاہو تو کچھ دیر آرام کرلو، ورنہ نوافل، تلاوت اور ذکر میں مصروف رہو۔ پھر جب عصر کا وقت قریب آئے تو تازہ وضو کرلو اور خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کرو۔ اس کے بعد کا وقت بھی ذکر، تلاوت اور مطالعے میں گزارو یہاں تک کہ سورج مغرب کے دہانے پر پہنچ جائے۔

پھر وہ ساعت آتی ہے جس کا معتکف سارا دن انتظار کرتا ہے۔ مغرب کی اذان کے ساتھ افطار کرو، نماز ادا کرو، اور اگر ممکن ہو تو اوابین کی کم از کم چھ رکعت ادا کرو، کیونکہ اس کی فضیلت بے شمار بیان کی گئی ہے۔ اس کے بعد کچھ دیر آرام کرلو یا خاموشی سے عبادت میں مشغول رہو تاکہ عشاء اور تراویح کے لیے تازہ دم ہو جاؤ۔

تراویح کے بعد اپنے باطن کا جائزہ لو۔ اگر دل کسی خاص حاجت سے لبریز ہو تو نمازِ حاجت ادا کرو۔ پھر تلاوت اور دیگر عبادات میں مشغول ہو جاؤ۔ جب دل اللہ کی حضوری میں ڈوب جائے تو عاجزی کے ساتھ دعا کرو۔ وہ سب مانگو جو کبھی مانگ نہ سکے—کیونکہ یہ وہ ساعتیں ہیں جب آسمانِ رحمت کے دروازے کھلتے ہیں اور بندوں کی فریادیں عرش تک پہنچتی ہیں۔

اگر دل مزید روحانی رفعت چاہے تو نمازِ تسبیح ادا کرو۔ اس کی فضیلت کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ نماز گناہوں کی بخشش کا عظیم ذریعہ ہے۔

اور جو خوش نصیب بندے ہوتے ہیں انہیں تہج کی دولت بھی نصیب ہوتی ہے۔ رات کے پچھلے پہر جب دنیا سو رہی ہوتی ہے تو وہ بندہ اپنے رب کے حضور کھڑا ہوتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب بندہ اپنے رب کے سب سے قریب ہوتا ہے۔ تہجد ادا کرو، پھر سحری کرو اور نئے دن کے استقبال کے لیے خود کو تیار کرو۔

ان ایام میں خصوصاً طاق راتوں میں عبادت کی شدت بڑھا دو، کیونکہ انہی راتوں میں وہ مبارک رات پوشیدہ ہے جسے لیلۃ القدر کہا جاتا ہے—ایک ایسی رات جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اگر ہمت ہو تو پورے اعتکاف کے دوران یہی ذوق باقی رکھو، مگر اپنی صحت کا بھی خیال رکھو، کیونکہ وہ عبادت زیادہ محبوب ہے جو دوام کے ساتھ ہو اور جسم و روح دونوں پر بوجھ نہ بنے۔

یہ دن اور راتیں تمہاری زندگی کا نادر سرمایہ ہیں۔ اگر تم نے انہیں سنبھال لیا تو یہ لمحے تمہیں ہمیشہ کے لیے بدل سکتے ہیں۔ جو شخص ان گھڑیوں میں اپنے دل کو اللہ کے سامنے رکھ دیتا ہے، وہ جب مسجد سے باہر نکلتا ہے تو گویا ایک نئی زندگی لے کر نکلتا ہے۔

اللہ تعالیٰ تمہارے اعتکاف کو قبول فرمائے، تمہارے دلوں کو اپنے نور سے بھر دے، اور ان لمحوں کی برکت کو تمہاری پوری زندگی میں جاری و ساری رکھے۔

آمین۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!