بین الاقوامی
صدرٹرمپ کے نام کھلا خط

7006883587
عز ت مآب صدر امریکہ جناب ڈونالڈ ٹرمپ
تسلیمات!
اُمید ہے قصر ابیض میں نا چیز کا یہ مکتوب برقی نامہ بر سے موصول کرتے وقت آپ اپنے’’ماگا‘‘ حرم سرا میں ایپسٹین فائلز کی شرمسار کر نے والے قصہ کہانیوں سے زیادہ ایران کے خلاف یک طرفہ جنگ چھیڑنے کی حماقت پرشرمندگی اور خجالت محسوس کرتے ہوں گے ‘ طہران کے دندان شکن جوابی حملوں پر ہائے توبہ دہرا تے ہوں گے ‘ شرق الاوسط میں ویت نام اورافغانستان کی طرح ہاری ہوئی جنگ سے واپس مڑنے کی مثبت منصوبہ بندی میں مصروف ہوں گے۔ امریکی عوام میں ما بعد غزہ ایران میں جنگ بازی شروع کرنے سے شایداپنی عدم مقبولیت کےسیاسی وانتظامی مضمرات سے بھی پشیمان ہوں گے۔ نوبیل پیس پرائز کا سپنا بھی بہت ستاتا ہوگا۔
سر !آپ کے نام یہ کھلا خط جنگ زدہ ایران کی ایک ماہ طویل تباہی وبربادی پر دل گرفتگی کی کیفیات کے ساتھ رقم کررہاہوں۔ یہ کم مایہ سطور ضبط ِ تحریر میں لاتے ہوئے آنکھیں آنسوؤں سے تر تو نہیں کیونکہ ایران کی بلند حوصلگی ‘ جذبہ ٔ ایثار ‘ عزم وہمت اور تاب ِ مقاومت تمام مستضعفین ِجہان کو دلاسہ دے رہے ہیں کہ گھبراؤنہیں جنگ میں جیت حق سچ کی ہوگی‘ ہمارے سب سے اعلیٰ مذہبی پیشوا سید علی خامنہ ای اور دیگر اکابرین کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی ‘ طہران میں زیست کا چراغ پھر سے جلے گا ‘ امن کا سورج آن بان شان سے طلوع ہوگا ‘ عناد وفساد کے بُت ٹوٹ جائیں گے ‘ بے گناہوں کی خونین قبائیں رنگ لائیں گی ‘ مظلومان ِ وطن کے لئے خدائی مدد کا وعدہ پورا ہو گا ‘ سب سے بڑھ کرہم اپنی تاریخ کی اس کڑی آزمائش میں بھی سرخ رو ہوں گے۔ بایں ہمہ میرادل اشک بار ہے‘ قلم افسردہ ہے ‘ جگر پاش پاش ہے‘ ذہن پر یشان ہے‘ جذبات کادم گھٹ رہاہے ‘ خیالات غم زدہ ہیں ‘ احساسات مغموم ہیں۔ بہر کیف میرا ماننا ہے کہ خرابی ٔ بسیار کے باوجود دنیا ایک گلوبل ولیج بنی ہوئی ہے ‘ یہاں لوگوں کا جینا مرنا ایک دوسرے کی خیرخواہی اور آشتی سے مشروط ہے ‘ تکالیف کی خزانیں ہوں یا آسائشوں کی بہار یں کوئی بھی فرد بشر براہِ راست یا بلواسطہ ان سے متاثر ہوئے بنا نہیں ر ہ سکتا ۔ شاید کووڈ ۔ ۱۹ نے ہمیں یہی درس دیا تھا۔ لہٰذا میری کوتاہ بین نگاہ میں عام آدمی چاہے طہران کا ہو یا تل ابیب کا‘ قطر کا ہو یا ریاض کا‘ کویت کاہو یا بحرین کا‘ اومان کا ہو یا بغداد کا‘ میری دعاہے کہ اُنہیں جنگی کارروائیوں سے کوئی ادنیٰ سی گزند بھی نہ پہنچے ‘ کسی فردبشر کو کوئی معمولی خراش بھی نہ آئے‘ کسی کا بھی آشیانہ تہس نہس نہ ہو ‘ کوئی خانوادہ بکھرنہ جائے‘ ہرکوئی بچہ بچی خاتون پیروجوان ناکردہ گناہوں کی سزا موت اور معذوری کی صورت میں کبھی نہ پائے۔
آپ سے ادباًسوال ہے کہ کیا تہران اور تل ابیب کو جنگ کے جہنم میں جھونکنا’’ میک امریکہ گریٹ اَگین‘‘ ( ماگا) کے خوابِ پریشاں کی اصل تعبیر ہے؟ جنگ کے چلتے عام لوگوں کی زندگیاں جان لیوا مصائب ومسائل کے گرداب میں گرفتار ہیں‘ اُنہیں یہ سزا کس جرم کی پاداش میں؟ آپ ا س سے لاعلم نہیں کہ جنگ کی وجہ سے ایران نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی اور ایندھن کی نایابی سے دنیا میں ہاہاکار مچی ہے ‘ غیر متعلقہ انسانوں کو کیوں بھکمری جیسی صورت حال کا کیوں سامنا کرنا پڑے؟ مہنگائی اور بے روزگاری کی دودھاری تلوار ہرجگہ میان سے باہر آگئی ہے‘ آپ نے ایران کو ’’سبق سکھانے‘‘ کے لئے دیگرقوموں اور ملکوں کا جینا حرام کردیا‘ آخر کیوں ؟ کیا یہ کوئی مردانگی ہے کہ انسانی بستیوں میں قافلۂ حیات آپ کی جنگی مہم کے سبب تھم جائے؟ گیس ‘ پٹرول اور کروسین کی زبردست قلت سے عام لوگوں کی رسوئیاں سرد پڑنے لگیں‘ یہ کہاں کی انسانیت ہے؟ جنگ جاری رکھ کر چلتی پھرتی زندگی کی گاڑی رُک جائے‘ کارخانے بند ہوں‘ بازار سنسنان پڑیں‘ کساد بازاری کا دوردورہ ہو ‘موت کا مسلسل تانڈو میں غریب ملکوں اور قوموں کا جینا دشوار سے دشوارتر کیاجائے‘ قصور کیا ہے ان کا؟ بہ سبب جنگ اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان کو چھو جائیں‘ کیا یہی ماگا کا صلہ دنیا کو ملنا چاہیے ؟ دنیا میں جابجا اندھیر نگری چوپٹ راج جیسی قیامتیں نازل ہوں‘ کیا وجہ صرف آپ کی ایران پر تھوپی جنگ نہیں ؟ میرے یہ معصوم سےسوالات سمجھ کر نظر انداز کئے جائیں گے لیکن تاریخ ان کا جواب فراہم کرے گی۔ مسائل ِ زندگی میں گھرا عام آدمی چاہتا ہے کہ جنگ فوری طورٹل جائے‘ امن قائم ہو اور سپلائی چین بحال ہو مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ میزائلوں کی مار ، بمبار طیاروں کا قہر اور ڈرؤنوں کا ہلاکتی اہداف انسان ‘ انسانی بستیاں اور دہائیوں تلک تنکا تنکا جوڑی گئی زندگیوں کے گھروندےپل بھر میں پھونک کر فی ا لحال راکھ کرتے رہیں گے کیونکہ اسرائیل جنگ بندی کو نہیں مانتا۔ اس لئے یقین جانئے میرے زخم زخم الفاظ طے نہیں کر پا رہے کہ جنگ ِ ایران کی بھینٹ چڑھنے والی بے چین رُوحوں کے نوحہ میں ڈھل جائیں ‘ رزمیہ بربادیوں کی داستانیں سنانے بیٹھیں ‘ آپ کے جنگ باز اور جنگ ساز نوبیل پیس پرائز کے قصیدے پڑھیں‘ سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کا سوگ منائیں‘ ایک سو پنسٹھ معصوم ایرانی اسکولی بچیوں کا ماتم کریں ‘ تین ہزار کے قریب شہدا کو یاد کریں‘ روز مارے جارہے غیر حربی لاشوں کے کفن پر لہو کے پاک داغوں کا شمار کریں ‘ قبرستانوں میں جاکر شہدا کی قبروں پر گل باری کریں‘ درد سے کراہتے زخمیوں کی عیادت کریں‘ کھنڈروں میں بدلے جارہے آبادو شاداب محلوں‘ گلیوں ‘ گھرانوں اور بازاروں کے ملبے کا رونا روئیں‘ شفاخانوں اور اسکولوں کی مسماری کا مرثیہ کہیں یا بس تڑپ تڑپ کر اپنی جان خموشی کی دبیز لحاف اوڑھ کر دیں۔ آپ ہی بتائیں غم والم اور بے سکونی کے بوجھ تلے مرجھائے یہ الفاظ کریں تو کیا کریں ۔
حضوروالا!جب میں جاری جنگ کے دل دہلانےو الےمناظر میدان جنگ سے ہزاروں میل دور موبائیل اور لیپ ٹاپ کی محدود نگاہ سے دیکھتاہوں تو سہم جاتاہوں کہ کس طرح چاروں اطراف زمین جنگی یلغاروں سے ہل جاتی ہے ‘ آتشیں شعلے آسمان میں لرزاں دیتے ہیں ‘ اطراف واکناف میں کھڑی فلک بوس عمارتیں تاش کے پتوں کی مانند بکھر جاتی ہیں‘ دیکھتے ہی دیکھتےہر شئے نیست ونابود ہو جاتی ہے‘ جنگ متاثرہ ایسی بدنصیب بستی کا حلیہ آناًفاناً بگڑ جاتا ہے‘ اس کی ہسٹری جغرافیہ تلپٹ ہوجاتی ہے اورپیچھے رہ جاتی ہیں اندوہناک خبریں‘ دُکھ دینے والے اعداد وشمار ‘ ہر اگلے وار سے پچھلے وار سے زیادہ ہلاکت آفرینی کا نوشتہ ۔ اورجو لوگ جیتے جی مرگئے ‘جو زخمی ہوگئے یا جومعجزاتی طور بچ نکلے‘ ان کا کن حالات وکوائف سے پالا پڑا‘ یہ ساری ہارر اسٹوریاں دنیا کی نظروں سے اوجھل ہیں اور پتہ ہی نہیں چلتا کہ بمباری کے متاثرین کا پھر آگے کیا بنا ۔ شاید بے حس و بے ضمیر حکمران ’’جنگ اور محبت میں سب جائز ہے‘‘ کےبے اصول محاورسے اپنے آپ کو تسلیاں اورتھپکیاں دیتے ہوں گے ۔ دوسروں کا کیا کہیں آپ ورلڈ سپر پاور ملک کے مجازی خدا ہونے کے ناطے ان ہولناک واقعات کو معمولی سی اہمیت بھی کیوں نہیں دیتے‘ کیا انسانی جذبات کا نرم ونازک پھولدان آپ کو اپنے بالا خانے میں بھدا لگتاہے۔ میں نے ایک بار بھی آپ کے چہرے بشرے کی کتاب پر غم کی پرچھائیاں‘ ہمدردی کے آثار یا ندامت کے تاثرات کی خفیف سی جھلک بھی نہیں پائی ‘ آپ تو ماشا اللہ ہنسی مذاق کی اپنی دیرنیہ ادا تھوڑی دیر بھی ترک نہیں کرتے ۔ لگتا ہے دنیا کے سارے طاقت ور حکمران پتھر کے اُسی زمانے میں رہ رہے ہیں جب نیم برہنہ انسان غاروں میں رہائش کرتا تھا ‘ تہذیب وتمدن کی روشنی سے ناآشنا تھا‘ حیوانوں کی کھال سے اپنے آدھے جسم اور ستر کو ڈھانپ کر شکار کی تلاش میں نوکیلے ڈنڈے لئے آوارہ پھرتا رہتا۔ مگرظل ِ الہیٰ! یہ اکیسویں صدی ہے جب دنیا میں رہنے والا انسان ترقی کے عروج پر ہے ‘ جب ابن آدم آسمان وزمین کو علم کی وساطت سے بقائے حیات کے مقصد سے مسخرکر تاجارہا ہے‘ جب سائنس وٹیکنالوجی کے میدان میں محیرالعقول ترقیوں کا تمغہ انسان اپنے نام مسلسل کر رہا ہے‘ جب امریکہ سمیت پوری دنیا میں جمہوریت ‘ آزاد خیالی‘ مساوات اور حقوق البشر کے چرچے ہورہے ہیں‘ ایسے میں کسی بھی طاقت ور حاکم کو یہ زیب نہیں دیتا کہ انسانی ترقیوں کو اپنے جنگی جنون سے فسانہ و سرا ب بناتے پھرے ۔ آپ نے جب اقتدار کی کرسی دوبارہ سنبھال لی تو دنیا کویہ خوش کن تاثر دیاتھا کہ بھول جاؤ حرب وضرب کو ‘اب میرے رہتے دنیا میں امن وامان کا بول بالا ہوگا‘ جنگ وجدل کا قصہ اب سے تمام ‘ عالم ِ انسانیت راحت کی سانس لےگی مگر آپ نے عملاً غزہ کی نسل کشی کا طوفان ِ بدتمیزی روکا نہ یوکرین میں جنگ کے شعلے ٹھنڈے کئے بلکہ گزشتہ برس ایران کا نیا محاذ جنگ کھول ڈالا‘ ایران نے منہ توڑ جواب دیا تو اُسے گفت وشنید میں مصروف رکھ کے دوبارہ اس سال کے دوسرے ماہ سے آتش و آہن کا نوالہ بنادیا۔ اگر جنگ میں اسرائیل کی بقا کا راز مضمر ہے‘ تو عرض ہے کہ بقائے اسرائیل تل ابیب کے ہاتھ میں ہے ۔ آپ نےاسے امن چین سے جینے کا حق منوانے کے لئے آپ نے ابراہم اکارڈ کا جو بیچ والاراستہ کھولا تھا‘ اس پر سنجیدگی اور خلوص ِنیت سے چلنے کی اشد ضرورت تل ابیب سمیت خطے کے دوسرے تمام ملکوں کو تھی۔اس کی کامیابی کے لئے اہلِ فلسطین کے ساتھ نیک ہمسائیگی کا پُرامن راستہ اختیارکر نا چاہیے تھا مگر کیا غزہ کا تیا پانچہ کر کے خطے میں امن و استحکام کا راستہ کھوٹا نہیں کر کے رکھ دیا گیا؟ آپ نےاس پر یہ اضافہ کرڈالا کہ گزشتہ سال جون میں ایران کو جنگ آزمائی کا میدان بناڈالا اور اب ۲۸؍ فروری سے پھر ایک بار طہران کی اینٹ سے اینٹ بجانی شروع کردی ‘ اب تو لبنان بھی جنگ وتخرب کے شعلوں میں گھرا ہو اہے۔
جناب عالی !کرہ ٔارض پر ابھی تک آپ کی حکمرانی کا ڈنکا بج رہاہے ‘ آپ دنیا میں ایک طاقت ور حکمران مانے جاتے ہیں‘ آپ کی یہ اہم ترین سیاسی پوزیشن دنیا کی بہتری کے لئے استعمال ہونی چاہیے مگر آپ ہیں کہ جنگ وجدل کی آبیاری کرنا اور قدم قدم قوموں سے اُلجھنا آپ کا دل پسند مشغلہ بناہوا ہے۔ آپ اپنےدل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کوئی بھی حسا س دل انسان جب صبح وشام سرزمین ایران پر مسلسل فضائی حملوں کا کر ب وبلا ‘ مشرق وسطیٰ کی سات مملکتوں کے اوپر خطرات وخدشات کے بادل‘ اسرائیل پر جوابی حملوں سے اُنے والے خوف ناک شعلے اور پھر دنیا کے ہر عام آدمی کو جاری جنگ کے نتیجے میں اپنے دروازے پر تیل اور گیس کے حصول میں پریشانیوں سے ودچار ہو نا پڑے تو اس کےدل میں امریکہ اور اسرائیل کے لئے محبت و یگانگت کے پھول کھلیں گے ؟ اس طر زعمل سے نفرتیں اور عداوتیں پنپ جائیں گی‘ بحرانوں کو جنم ملے گا‘ تجارتیں ماند پڑ جائیں گی‘ باہمی تعلقات میں سردمہریاں پیدا ہوں گی ۔آپ اوروں سے زیادہ بخوبی جانتے ہیں کہ سات براعظموں کی تقسیم اور دیگر تفاوتوں کے باوجود تمام انسان ایک ہی آفاقی کنبے کے افراد ہیں ‘ ہمارا جینا مرنا ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہے‘ ہمارے یہاں ایک دوسرے سے پیار محبت رہنا‘ ایک دوسرے کے دُکھ درد میں شریک ہونا ‘ خیرخواہی اور امن وآشتی سے زندگی گزارناہر ملک اور ہرقوم کے لئےترقی وعروج کی پہلی ضرورت ہے۔ اس لئے اب بھی وقت ہے کہ آپ سنجیدگی ‘ ثابت قدمی اور ہار جیت کے خود ساختہ پیمانے سے اُوپر اٹھ کر انسانیت کی بھلائی اور عالمی امن کی حفاظت کے لئے ایران کے ساتھ جو مذاکراتی پروسس شروع کر چکے ہیں ‘اس کو یک روئی اورا خلاص مندی کے ساتھ اپنے منطقی انجام تک لے جائیں ۔ امن مذاکرات کے اہم ترین مشن کی بنیادی ضرورت یہ ہے کہ طہران کے خلاف اپنی جنگی مہم اور اسرائیل کے تابڑ توڑ حملوں کا سلسلہ فوراً سے پیش تر رُکوا دیں۔ ایسا کرنے کی طاقت اور قوت صرف آپ میں موجود ہے ۔ یاد رکھیں جنگ آپ نے اسرائیل سے مل کر شروع کی ہے ‘ اسے بند کروانے کی اخلاقی ذمہ داری بھی آپ پر ہی عائد ہوتی ہے ۔ ایران کو بھی ا نسانیت کے وسیع تر مفا د میں آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے بارے میں ایک ایسی جاندارپالیسی اپنانے کو ترجیح دینی چاہیے جس سے دنیا بھر میں لوگوں کی روز مرہ زندگی کی ناقابل ِ التواضروریات کا پیچیدہ مسئلے سے نجات ملے ۔ دنیا بھر کے عام آدمی کو امریکی اور اسرائیلی حکمرانوں کی جنگی مہم بازی کا ہرجانہ کیوں ادا کرناپڑے؟ اس وقت پوری دنیا امریکہ اور ایران کے مذاکرات کاروں کی طرف اُمید بھری نگاہوں سے دیکھ رہی ہے۔ خاص کرآپ چاہیں تو تاریخ آپ کو جنگ ِ ایران کو فوراً ختم کرکے اس کے بطن سے پیدا شدہ عالمی کرائسس سے دنیا کو گلو خلاصی کرانےوالے ہیروکے طور یاد کرے گی۔ یہی آپ کی اخلاقی جیت ہوگی اور نوبیل پرائز سے بھی زیادہ عظیم تمغہ پانے کا حق دار بنائےگا۔
خلوص کیش
ش م احمد