Ad
مضامین

نئی عالمی ترتیب دنیا کس سمت جا رہی ہے؟

✍🏼 اِکز اقبال / سہی پورا قاضی آباد


کبھی کبھی دل ایک عجیب سی بے چینی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ہم کسی ایسے زمانے میں سانس لے رہے ہیں جہاں سب کچھ سامنے ہے، مگر کچھ بھی صاف دکھائی نہیں دیتا۔ خبریں ہیں، تجزیے ہیں، بیانات ہیں، مگر سچ کہیں ان سب کے بیچ دب کر رہ گیا ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں، سن رہے ہیں، مگر شاید سمجھ کم رہے ہیں… یا شاید ہمیں سمجھنے ہی نہیں دیا جا رہا۔

یہ دنیا اب ایک سیدھی سادی کہانی نہیں رہی۔ یہ ایک اسٹیج ہے—وسیع، پیچیدہ، اور تہہ در تہہ—جہاں ہر کردار اپنے اپنے مکالمے ادا کر رہا ہے۔ کوئی طاقت کے نشے میں چُور ہے، کوئی خوف کے سائے میں دب گیا ہے، اور کوئی ایسا بھی ہے جو سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی خاموش ہے۔ اور ہم؟ ہم کبھی تماشائی بن جاتے ہیں، کبھی انجانے میں اس کھیل کا حصہ۔

میں جب اس پورے منظرنامے کو دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ جنگیں اب صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتیں۔ اب جنگیں ذہنوں میں بھی ہوتی ہیں، اسکرینوں پر بھی، اور بیانیوں کے اندر بھی۔ ایک خبر آتی ہے، دل دہل جاتا ہے، پھر دوسری خبر پہلی کو دھکیل دیتی ہے، اور ہم آگے بڑھ جاتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے درد کی بھی ایک میعاد مقرر کر دی گئی ہو—چند گھنٹے، چند دن… پھر خاموشی۔

کبھی غزہ کی گلیاں جلتی ہیں، کبھی یوکرین کے شہر لرزتے ہیں، کبھی کسی اور خطے سے چیخیں سنائی دیتی ہیں۔ ہر جگہ ایک جیسی کہانی ہے—انسانی جان کی ارزانی، خوابوں کا بکھرنا، اور ایک ایسی خاموشی جو ہر چیخ سے زیادہ گہری ہوتی ہے۔ مگر اس سب کے باوجود، دنیا رُکتی نہیں۔ زندگی چلتی رہتی ہے، خبریں بدلتی رہتی ہیں، اور انسان… وہ آہستہ آہستہ اس سب کا عادی ہوتا جاتا ہے۔

یہی اس عہد کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ ہم بے حس نہیں ہوئے، ہم عادی ہو گئے ہیں۔ طاقت کے کھیل ہمیشہ سے دنیا کا حصہ رہے ہیں، مگر آج ان کی شکل بدل چکی ہے۔ اب صرف زمین پر قبضہ کافی نہیں، اب وسائل پر کنٹرول ضروری ہے—تیل، گیس، پانی، راستے، منڈیاں، ٹیکنالوجی۔ ایک ملک کی طاقت اب اس کی فوج سے نہیں، بلکہ اس کے اثر و رسوخ سے ناپی جاتی ہے۔ کون کس کو کتنی دیر تک روک سکتا ہے، کون کس کے راستے بند کر سکتا ہے، کون کس کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے—یہی اصل جنگ ہے۔

یہ صرف جنگ نہیں، ایک معیشت بھی ہے—جنگ کی معیشت۔ اسلحہ بنتا ہے، فروخت ہوتا ہے، معاہدے ہوتے ہیں، قرضے بڑھتے ہیں، اور طاقت کے مراکز مزید مضبوط ہو جاتے ہیں۔ تیل کے راستے، گیس کے ذخائر، سمندری گزرگاہیں—یہ سب اب محض جغرافیہ نہیں رہے، بلکہ عالمی سیاست کے مہرے بن چکے ہیں۔ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہر جہاز صرف تیل نہیں، بلکہ طاقت کا توازن بھی اپنے ساتھ لے کر چلتا ہے۔

اور اس جنگ میں، اکثر وہی جیتتا ہے جو سامنے نہیں  آتا۔ یہ بھی ایک عجیب حقیقت ہے کہ طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ بدلتے رہتے ہیں، مگر فیصلوں کی سمت اکثر وہی رہتی ہے۔ صدر بدلتے ہیں، پارٹیاں بدلتی ہیں، وعدے بدلتے ہیں—مگر پالیسیوں کے دھارے کسی اور سمت سے بہتے دکھائی دیتے ہیں۔ جیسے کہیں کوئی غیر مرئی ہاتھ ہے جو ہر نئے کردار کو پرانی اسکرپٹ تھما دیتا ہے۔ جیسے کہیں کوئی ایسا دائرہ ہے جو ٹوٹنے کا نام نہیں لیتا۔ جیسے طاقت کے اصل مراکز کہیں اور ہیں، اور ہم صرف ان کے عکس دیکھ رہے ہیں۔

یہ سوچ صرف میرا وہم نہیں، بلکہ ایک سوال ہے—جو شاید آپ کے ذہن میں بھی کبھی نہ کبھی ضرور آیا ہوگا۔ پھر میڈیا ہے—اس عہد کا سب سے طاقتور ہتھیار۔ وہ دکھاتا ہے، مگر کبھی کبھی اتنا دکھاتا ہے کہ اصل بات چھپ جاتی ہے۔ وہ بتاتا ہے، مگر ایسے انداز میں کہ ہم سوچنے کے بجائے صرف ردعمل دینے لگتے ہیں۔ ایک واقعہ آتا ہے، جذبات بھڑکتے ہیں، پھر ایک نیا واقعہ آ جاتا ہے، اور پرانا کہیں گم ہو جاتا ہے۔

یہ ایک مسلسل بہاؤ ہے—خبروں کا، بیانیوں کا، اور توجہ کا۔ اور اس بہاؤ میں، سچ اکثر کنارے پر رہ جاتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ سب کچھ منصوبہ بندی کے تحت ہو رہا ہے، مگر یہ ضرور محسوس ہوتا ہے کہ بہت کچھ ایسا ہے جو ہماری نظروں سے اوجھل رکھا جاتا ہے۔ کچھ فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو عوامی مفاد کے نام پر کیے جاتے ہیں، مگر ان کے اثرات کسی اور کے حق میں جاتے ہیں۔ کچھ جنگیں ایسی ہوتی ہیں جن کا جواز سامنے کچھ اور ہوتا ہے، اور پس منظر میں کہانی کچھ اور۔

یہی وہ جگہ ہے جہاں سوال جنم لیتے ہیں۔ اور سوال کرنا… شاید اس دور کا سب سے بڑا جرم بن چکا ہے۔ آج دنیا ایک نئی کشمکش کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ بڑی طاقتیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے ہر ممکن راستہ اختیار کر رہی ہیں۔ کہیں معاشی پابندیاں ہیں، کہیں تجارتی جنگیں، کہیں ٹیکنالوجی پر قبضے کی دوڑ۔ یہ ایک خاموش جنگ ہے—مگر اس کے اثرات کسی بھی کھلی جنگ سے کم نہیں۔

ایسا لگتا ہے جیسے دنیا ایک نئے توازن کی تلاش میں ہے، مگر یہ توازن ابھی تک پیدا نہیں ہو سکا۔ ہر طرف بے یقینی ہے، ہر طرف اضطراب۔ کوئی بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں، اور کوئی بھی مکمل طور پر غالب نہیں۔

اور اس سب کے بیچ، عام انسان کھڑا ہے—حیران، پریشان، اور کسی حد تک تھکا ہوا۔ وہ جنگ نہیں چاہتا، مگر جنگ اس کے دروازے تک آ جاتی ہے۔ وہ امن چاہتا ہے، مگر امن اب ایک نایاب شے بنتا جا رہا ہے۔ وہ سچ جاننا چاہتا ہے، مگر سچ تک پہنچنے کے راستے دھندلے ہوتے جا رہے ہیں۔ پھر بھی، اس اندھیرے میں ایک روشنی باقی ہے۔ وہ روشنی انسان کے شعور کی ہے۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ کوئی بھی نظام، کوئی بھی طاقت، کوئی بھی ظلم ہمیشہ کے لیے قائم نہیں رہتا۔ ہر عروج کے بعد زوال آتا ہے، اور ہر اندھیرے کے بعد روشنی۔ مسئلہ یہ نہیں کہ دنیا کہاں جا رہی ہے—مسئلہ یہ ہے کہ ہم اس سفر میں کہاں کھڑے ہیں۔

کیا ہم صرف تماشائی بنے رہیں گے؟

یا ہم اتنی جرات پیدا کریں گے کہ سوال کریں، سمجھیں، اور سچ کے ساتھ کھڑے ہوں؟ یہ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ کیونکہ دنیا کا رخ صرف طاقتوروں کے فیصلے طے نہیں کرتے. 

بلکہ عام انسان کا شعور بھی تاریخ کا دھارا بدل سکتا ہے۔ اور شاید، یہی امید اس عہد کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

یہ زمانہ ہمیں ڈرانے سے زیادہ، ہمیں سلانے کی کوشش کر رہا ہے۔ شور بہت ہے، مگر شعور کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم ہر خبر سنتے ہیں، ہر واقعہ دیکھتے ہیں، مگر آہستہ آہستہ اپنی حساسیت گروی رکھتے جا رہے ہیں۔

یاد رکھیے—انسان کا سب سے بڑا نقصان اس کی ہار نہیں، اس کی عادت بن جانا ہے۔ سوچئے… کہیں ہم بھی اس عہد کے سب سے بڑے سانحے—خاموشی—کا حصہ تو نہیں بن رہے؟

مضمون نگار کشمیر سے تعلق رکھنے والے کالم نگار اور تعلیمی شعبے سے وابستہ ہیں۔ 

رابطہ: 7006857283

ای میل: ikkzikbal@gmail.com



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!