Ad
افسانہ

ادھورا چاند........ افسانہ

✍️ :محمد عرفات وانی 


عید سے ایک دن پہلے کا بازار روشنیوں میں نہایا ہوا تھا، مگر ان روشنیوں کے پیچھے ایک خاموش اندھیرا بھی چھپا ہوا تھا، جو صرف دل سے محسوس کیا جا سکتا تھا۔ ہر دکان پر رنگ بکھرے تھے، بچوں کی ہنسی فضا میں گونج رہی تھی مگر رحیم کی آنکھیں خاموش تھیں۔ وہ سب کچھ دیکھ رہا تھا، مگر دل میں ایک خالی سا احساس تھا، جیسے خوشی کے شور میں بھی کوئی ادھورا لمحہ رہ گیا ہو۔

رحیم اپنے والد یوسف علی کے ساتھ دکانوں کے درمیان چل رہا تھا۔ یوسف علی ہر چیز کی قیمت پوچھتا، نظر جھکا کر آگے بڑھ جاتا، اور رحیم کے دل میں ایک سوال ابھرتا رہا کہ کیا یہ دنیا سب کے لیے برابر ہے۔ رحیم نے ایک کھلونا اٹھایا، اس کی آنکھوں میں لمحے کی چمک دیکھی مگر پھر اسے آہستہ سے واپس رکھ دیا۔ کچھ خواہشیں دل میں چھپی رہنا ہی بہتر لگتی ہیں، اس نے سوچا اور اپنے والد کی طرف دیکھ کر آگے بڑھا۔

جیسے ہی وہ گلی کے کونے سے گذرے، رحیم کی نظر ایک مزدور اور اس کے بچے پر پڑی۔ بچہ ضد کر رہا تھا، اس کی آواز میں بے بسی تھی اور باپ کی آنکھوں میں لاچاری۔ یہ منظر رحیم کے دل میں گہری چھاپ چھوڑ گیا۔ اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ وہ اکیلا نہیں ہے، دنیا میں اور بھی لوگ ہیں جو اپنی خواہشات کو خاموشی سے دل میں دفن کر دیتے ہیں اور یہ خاموشی بھی ایک قربانی ہے۔

شام کے وقت جب وہ گھر کی دہلیز پر پہنچے، آسمان پر وہ ادھورا چاند نمودار ہوا اور گلیوں میں خوشی کا شور بلند ہوا۔ بچے ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے تھے، لڑکیاں مہندی لگا رہی تھیں مگر رحیم کے گھر کی خاموشی ایک الگ داستان سنا رہی تھی۔ اس خاموشی میں ہر لمحہ ایک کہانی سنائی دیتی تھی اور رحیم سب کچھ دل سے محسوس کر رہا تھا۔

گھر کے اندر ماں زینب پرانے کپڑے استری کر رہی تھی۔ زندگی کی تھکن اس کے ہاتھوں میں جکڑی ہوئی تھی مگر اس کی مسکراہٹ میں ایک دنیا کا درس چھپا تھا۔ رحیم نے آہستہ سے پوچھا:

امی جان… کیا میں اچھا لگوں گا؟

ماں نے مسکرا کر کہا:

تم سب سے اچھے لگو گے، تم میری عید ہو، تم تو میرے ہیرو ہو۔

اس مسکراہٹ کے پیچھے چھپا درد رحیم کی آنکھوں سے اوجھل نہ رہا اور وہ سمجھ گیا کہ محبت کبھی دکھ کے بغیر نہیں ہوتی اور خوشی صرف دینے سے محسوس ہوتی ہے۔

اسی لمحے دروازے پر دستک ہوئی۔ ایک شخص زکوٰۃ دینے آیا تھا، مگر اس کے لہجے میں غرور چھپا ہوا تھا۔ یوسف علی نے دروازہ کھولا، ایک لمحہ خاموش رہا پھر آہستہ سے دروازہ بند کر دیا۔ رحیم نے دیکھا کہ کبھی عزت انسان کو تنہا اور بے بس بھی کر دیتی ہے۔ وہ اپنے والد کے چہرے پر دیکھی گئی خاموشی سے سمجھ گیا کہ کبھی کبھی عزت بھی قربانی بن جاتی ہے۔

رات کو یوسف علی چھت پر جا بیٹھا، آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا، اپنے محنت کش ہاتھوں کو دیکھ کر دل ہی دل میں ٹوٹ رہا تھا۔ آنکھوں سے آنسو بہہ گئے مگر اس نے فوراً خود کو سنبھال لیا۔ نیچے کمرے میں عائشہ نے اپنی جمع پونجی نکالی اور چپکے سے رحیم کے تکیے کے نیچے رکھ دی۔ یہ رقم نہیں بلکہ خاموش محبت اور قربانی کی زبان تھی جو ہر لفظ سے زیادہ معنی رکھتی تھی۔ رحیم نے اسے دیکھ کر ہلکی سی مسکراہٹ دی اور دل میں ایک نرمی محسوس کی۔

صبح عید آئی تو دنیا جاگ اٹھی۔ بچے نئے کپڑوں میں خوشی سے مسکرا رہے تھے، آئینے کے سامنے خود کو دیکھ کر قہقہے لگا رہے تھے۔ رحیم بھی آئینے میں اپنا عکس دیکھ رہا تھا، کپڑے صاف مگر پرانے تھے۔ اس نے ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ دل کو تسلی دی اور دل ہی میں کہا کہ کچھ خواہشیں دل میں ہی اچھی لگتی ہیں، اور یہ بھی ایک خوشی ہے۔

عیدگاہ میں سب ایک صف میں کھڑے تھے۔ یوسف علی نے سجدہ کیا تو آنسو زمین پر گرے۔ نماز کے بعد عیدی کا سلسلہ شروع ہوا اور دنیا نے پھر فرق دکھایا۔ یوسف علی نے چند مڑے ہوئے نوٹ رحیم کے ہاتھ میں رکھے۔ رحیم نے مسکرا کر لے لیے مگر جب گھر واپس آیا اور تکیے کے نیچے بہن کے دیے ہوئے پیسے دیکھے تو اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ اسے محسوس ہوا کہ اصل دولت شاید وہی ہے جو دوسروں کی قربانی میں چھپی ہو۔

رات کو جب سب کچھ تھم گیا تو رحیم چھت پر لیٹا، آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ چاند اب مکمل تھا، کل ادھورا تھا۔ اس نے آہستہ سے اٹھ کر اپنی عیدی اپنے باپ کے پاس رکھ دی۔ یوسف علی نے اسے دیکھا، خاموش رہا۔ اس خاموشی میں ایک باپ کا درد بھی تھا اور ایک بیٹے کی سمجھ بھی اور شاید یہی عید کی اصل حقیقت تھی کہ خاموش قربانی، محبت، اور انسانیت کی روشنی جو ہر روشن چراغ سے کہیں زیادہ چمکتی ہے۔

افسانہ نگار 

محمد عرفات وانی 

کچھمولہ ترال پلوامہ کشمیر 

9622881110

wania6817@gmail.com



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!