Ad
جموں و کشمیر

ہم سخن کلچرل اینڈ ویلفیئر آرگنائزیشن کے زیرِ اہتمام مشاعرہ

ہم سخن کلچرل اینڈ ویلفیئر آرگنائزیشن کے زیرِ اہتمام زرگر کمپلیکس کریری میں سلسلہ وار ادبی و شعری نشست،شعر و سخن کی دلکش محفل میں مختلف شعراء و ادباء کی شاندار شرکت

کریری // عابد رسول الائی


ہم سخن کلچرل اینڈ ویلفیئر آرگنائزیشن کشمیر کے زیرِ اہتمام زرگر کمپلیکس کریری میں قائم مرکزی دفتر پر "سمن بل" نام سے شعر و ادب کی ایک نہایت شاندار اور بامقصد ادبی نشست کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔یہ محفل نہ صرف ادبی ذوق و شوق رکھنے والوں کے لیے ایک خوبصورت موقع ثابت ہوئی بلکہ اس نے فکری،روحانی اور ثقافتی سطح پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔اس سلسلہ وار ادبی و شعری نشست میں وادی کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ممتاز شعراء، ادباء اور ادب دوست حضرات نے بھرپور شرکت کی جس کے باعث محفل ایک روح پرور اور علم و ادب سے مزین اجتماع میں تبدیل ہو گئی۔

اس باوقار مشاعرے کی صدارت معروف شاعر،نقاد اور استاد رنجور تلگامی نے کی جبکہ ایوانِ صدارت میں نامور شاعر و ادیب نادم بخاری،معروف استاد اور شاعر شاد دردپوری اور کہنہ مشق شاعر و ادیب شہناز رشید بھی موجود رہے۔ان معزز شخصیات کی موجودگی نے محفل کو وقار اور علمی گہرائی عطا کی۔

پروگرام کا آغاز ہم سخن کلچرل اینڈ ویلفیئر آرگنائزیشن کے بانی و سربراہ ڈاکٹر ریاض ربانی کشمیری نے تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا جس نے محفل کو روحانی فضا سے معطر کر دیا۔اس کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کرنے کی سعادت معروف شاعر اور نعت خواں نادم بخاری نے اپنی دلنشین اور پرسوز آواز میں حاصل کی جس نے حاضرین کے دلوں کو گہرائی تک متاثر کیا اور محفل میں عقیدت و محبت کی کیفیت پیدا کر دی۔

اس موقع پر ڈاکٹر ریاض ربانی کشمیری نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے تمام مہمان شعراء، ادباء اور شرکاء کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔انہوں نے آرگنائزیشن کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے ادب کے فروغ میں اجتماعی کاوشوں کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اپنے صدارتی خطاب میں رنجور تلگامی نے ہم سخن کلچرل اینڈ ویلفیئر آرگنائزیشن کشمیر کی ادبی خدمات کو سراہتے ہوئے ڈاکٹر ریاض ربانی کشمیری کی مسلسل جدوجہد،محنت اور ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ میں ان کے کردار کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔انہوں نے ڈاکٹر ریاض ربانی کشمیری کو ایک متحرک،باصلاحیت اور ہمہ جہت شخصیت قرار دیا جو نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔

تقریب کے دوران معروف سماجی و سیاسی کارکن غلام محی الدین صوفی اور بشیر احمد میر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔انہوں نے آرگنائزیشن کی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے اس کے اغراض و مقاصد کو معاشرے کے لیے نہایت اہم قرار دیا اور یقین دہانی کرائی کہ وہ مستقبل میں بھی اس طرح کی مثبت سرگرمیوں کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔ انہوں نے ڈاکٹر ریاض ربانی کشمیری کو منفرد لب و لہجے کا شاعر، مخلص سماجی کارکن،بہترین استاد اور ایک باوقار علمی و ادبی شخصیت قرار دیتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی۔اس پروگرام کی نظامت کے فرائض آرگنائزیشن کے اہم رکن اور شاعر محمد اکرم اکرم نے منفرد انداز میں انجام دیۓ۔

اس یادگار ادبی نشست میں جن شعراء و ادباء نے اپنا کلام پیش کیا ان میں رنجور تلگامی،سید نادم بخاری،شہناز رشید،شاد دردپوری،سید شوکت ہاشمی،بشیر احمد میر،معصوم گلزار،پیر ہلال مقامی،ساد اکبر،اشرف گلکار،شہزاد منظور،ڈاکٹر ریاض ربانی کشمیری،محمد اکرم اکرم،جمیل یوسف،محمد الطاف ملک،شوکت احمد علائی،بشارت حفیظ اور سرور بلبل سمیت دیگر شعرا شامل تھے۔ان کے کلام میں روحانی عقیدت،سماجی شعور،عصری مسائل اور ادبی پختگی کی بھرپور عکاسی نظر آئی جس نے سامعین کو بے حد متاثر کیا اور محفل کو چار چاند لگا دیے۔

اس کے علاوہ تقریب میں معروف سماجی و سیاسی کارکن اور ادب نواز شخصیت غلام محی الدین صوفی،استاد نثار احمد بابا،مشتاق احمد لون،غلام محمد میر،الطاف قادر لون،سہانا اختر اور دیگر معزز شخصیات بطور مہمان و سامعین شریک رہیں اور پروگرام کے اختتام تک محفل کی رونق میں اضافہ کرتے رہے۔

پروگرام کے اختتام پر ڈاکٹر ریاض ربانی کشمیری نے تحریکِ شکرانہ پیش کرتے ہوئے تمام مہمان شعراء،ادباء اور شرکاء کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔انہوں نے میڈیا نمائندگان بالخصوص عاشق حسین (جے کے این این) اور رپورٹر جان محمد کا خصوصی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس ادبی نشست کی بہترین انداز میں کوریج کی۔مزید برآں انہوں نے پروفیسر بشیر احمد زرگر کا بھی خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا جنہوں نے آرگنائزیشن کے دفتر اور دیگر ادبی پروگراموں کے انعقاد کے لیے جگہ فراہم کی۔

اپنے اختتامی کلمات میں ڈاکٹر ریاض ربانی کشمیری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہم سخن کلچرل اینڈ ویلفیئر آرگنائزیشن کشمیر آئندہ بھی اسی طرح کی ادبی،ثقافتی اور فکری نشستوں کا تسلسل کے ساتھ انعقاد کرتی رہے گی تاکہ ادب و ثقافت کو فروغ دیا جا سکے اور بالخصوص کشمیری اور اردو زبان سمیت کثیر لسانی ادب کی ترویج و اشاعت میں مؤثر کردار ادا کیا جا سکے۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!