Ad
مضامین

حقیقت کی تلاش اور اتحاد کا سفر

✍️ :. ظہور احمد راتھر 


انسان اکثر سمجھتا ہے کہ وہ دیکھ رہا ہے، مگر حقیقت میں وہ صرف وہی دیکھتا ہے جو اسے دکھایا جاتا ہے۔ اس کی آنکھیں کھلی ہوتی ہیں، مگر اس کا ذہن بند ہوتا ہے۔ میں بھی اسی خاموش اندھیرے کا حصہ تھا، جہاں سچ کی جگہ روایت نے لے لی تھی اور تحقیق کی جگہ تسلیم نے۔

مجھے بتایا گیا اور میں نے مان لیا۔

مجھے سمجھایا گیا اور میں نے سمجھ لیا کہ میں سمجھ گیا ہوں۔

مگر آج یہ احساس ہوتا ہے کہ سمجھنا اور سمجھا دیا جانا دو مختلف چیزیں ہیں۔

میرے ذہن میں ایک تصویر بنائی گئی تھی، ایسی تصویر جس میں لوگ نہیں تھے، صرف نام اور لیبل تھے۔ ان لیبلز کے پیچھے انسانیت چھپ گئی تھی۔ میں نے کبھی کوشش ہی نہیں کی کہ ان کے پار دیکھوں، ان دلوں تک پہنچوں جہاں درد بھی تھا، ایمان بھی اور صبر بھی۔

پھر زندگی نے مجھے روکا۔

اور کردار نے مجھے جگا دیا۔

میں نے دیکھا کہ جن کے بارے میں مجھے ڈر سکھایا گیا تھا، ان میں برداشت تھی۔ جن کے لیے مجھے نفرت دی گئی تھی، ان میں عزت تھی۔ جن کے خلاف میرے ذہن کو بھرا گیا تھا، ان کے رویے میں وہ سکون تھا جو صرف سچ کے پاس ہوتا ہے۔

تب مجھے پہلی بار اپنے آپ سے ڈر لگا۔

کیا میں واقعی سچ کے ساتھ تھا؟

یا میں صرف اپنی وراثت کے ساتھ تھا؟

آج میں اقرار کرتا ہوں۔

میں نے سنا زیادہ، سمجھا کم۔

میں نے مانا زیادہ، سوچا کم۔

اور شاید اسی لیے میں اس سچ سے دور ہوتا گیا جو اللہ نے انسان کی فطرت میں رکھا ہے۔

آج جب میں اپنی روح کے سامنے کھڑا ہوتا ہوں تو ایک بوجھ محسوس ہوتا ہے۔ غلط فہمیوں کا بوجھ، ناانصافی کا بوجھ۔ اور اس بوجھ کے ساتھ صرف ایک لفظ نکلتا ہے۔

معاف کرنا۔

یہ صرف ایک معافی نہیں، بلکہ ایک اقرار ہے کہ میں نے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی تھی۔ یہ ایک عہد ہے کہ اب میں نہ صرف دیکھوں گا بلکہ سمجھنے کی کوشش بھی کروں گا۔

آپ نے ثابت کیا، لفظوں سے نہیں بلکہ کردار سے۔

آپ نے دکھایا کہ ایمان صرف دعویٰ نہیں بلکہ رویہ ہوتا ہے۔

اور میں اب بھی سفر میں ہوں۔ اپنی فکر کو صاف کرنے کے سفر میں، اپنے اندر کے اندھیروں کو پہچاننے کے سفر میں۔

کیونکہ اصل جنگ باہر کے فرقوں کی نہیں ہوتی۔

اصل جنگ انسان کے اندر ہوتی ہے، جہالت اور شعور کے درمیان۔

اگر انسان اس جنگ کو جیت لے تو نفرت خود بخود ہار جاتی ہے۔

آج مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا مطلب صرف یہ نہیں کہ میں کون تھا، بلکہ یہ ہے کہ میں نے کس کے ساتھ انصاف کیا اور کس کے ساتھ ظلم۔ میں نے کتنی بار سچ کو پہچان کر بھی نظر انداز کیا، اور کتنی بار اپنی انا کو سچ پر ترجیح دی۔

کردار واقعی سب کچھ ظاہر کرتا ہے۔

یہ وہ آئینہ ہے جس میں انسان نہ صرف دوسروں کو بلکہ اپنی اصل صورت کو بھی دیکھ لیتا ہے۔ اور جب وہ اپنی حقیقت دیکھ لے تو اس کے پاس دو راستے ہوتے ہیں۔ یا تو وہ اس سے بھاگ جائے، یا اسے بدل دے۔

میں نے دوسرا راستہ چنا ہے۔

آج میں فرقوں کے شور سے دور، انسانیت کی خاموشی میں کھڑا ہوں۔ جہاں نہ کوئی جیت ہے نہ ہار، صرف سمجھ ہے۔ جہاں نہ کوئی اوپر ہے نہ نیچے، سب ایک رب کے سامنے برابر ہیں۔

اور اس سمجھ کا انجام صرف ایک ہے۔

اتحاد۔

کیونکہ جب دل صاف ہو جاتے ہیں تو دیواریں گر جاتی ہیں۔

جب ذہن آزاد ہو جاتا ہے تو فاصلے مٹ جاتے ہیں۔

اور جب انسان انسان کو سمجھنے لگتا ہے تو امت جنم لیتی ہے۔

آئیے ہم اپنی پہچان کو فرقوں تک محدود نہ رکھیں۔

آئیے ہم اپنے کردار کو اپنی زبان بنائیں۔

آئیے ہم اپنی سوچ کو اتنا وسیع کریں کہ اس میں پوری انسانیت سما جائے۔

کیونکہ آخر میں نہ نام رہتا ہے نہ فرقہ۔

صرف کردار رہتا ہے۔

اور کردار کی سب سے خوبصورت صورت، اتحاد ہے۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!