مضامین
کمزوری کا مذاق، معاشرے کا زوال

کمزوری پر ہنسنا، ویڈیوز بنا کر پھیلانا، یہ محض تفریح نہیں بلکہ خاموش ظلم ہے جو انسانیت کے اصولوں کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔
ایک انسان ہجوم کے درمیان کھڑا ہے۔ اردگرد لوگ جمع ہیں مگر کسی کے ہاتھ مدد کے لیے نہیں اٹھتے بلکہ ہر ہاتھ میں موبائل ہے۔ کیمرے اس کی طرف ہیں، نظریں اس پر جمی ہوئی ہیں اور لبوں پر ہنسی ہے۔ یہ ہنسی خوشی کی نہیں بلکہ کسی کی حالت پر ہے۔ شاید وہ شخص خود بھی یہ نہ سمجھ پا رہا ہو کہ اس کے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔یہ کوئی افسانہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت ہے جو روز بروز ہمارے سامنے واضح ہوتی جا رہی ہے۔
گزشتہ چند دنوں میں سوشل میڈیا پر کچھ ویڈیوز تیزی سے وائرل ہوئیں جن میں ایک شخص جسے لوگ فیاض اسکارپیو کے نام سے جانتے ہیں، ہجوم کے درمیان گھرا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ لوگ اس کا مذاق اڑا رہے ہیں، ویڈیوز بنا رہے ہیں اور اسے ایک تماشہ بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ معاملہ اس حد تک بڑھ گیا کہ انتظامیہ کو مداخلت کرنی پڑی اور اس عمل میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی بھی عمل میں آئی جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ محض تفریح نہیں بلکہ ایک سنجیدہ مسئلہ تھا۔
لیکن اس واقعے کو صرف ایک فرد تک محدود کر دینا اصل مسئلے سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہوگا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم بطور معاشرہ کس سمت جا رہے ہیں۔ کیا ہم واقعی ایک مہذب اور باشعور معاشرہ ہیں یا ہم آہستہ آہستہ ایسے رویوں کو قبول کرتے جا رہے ہیں جو ہماری اخلاقی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔ جب کسی انسان کی کمزوری کو ہنسی کا موضوع بنایا جائے تو یہ محض ایک عمل نہیں بلکہ ایک سوچ کی عکاسی ہوتی ہے۔
آج کے ڈیجیٹل دور میں ہر وہ چیز جو ذرا مختلف یا غیر معمولی ہو چند لمحوں میں وائرل ہو جاتی ہے۔ لوگ بغیر سوچے سمجھے ویڈیوز شیئر کرتے ہیں، تبصرے کرتے ہیں اور اسے تفریح کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر ویڈیو کے پیچھے ایک زندہ انسان موجود ہوتا ہے جس کے جذبات، احساسات اور عزت نفس ہوتی ہے جو اس عمل سے مجروح ہو سکتی ہے۔
شاید فیاض صاحب کو اس بات کا ادراک نہ ہو کہ لوگ اس پر کیوں ہنس رہے ہیں یا اس کی ویڈیوز کس حد تک پھیل چکی ہیں۔ مگر حقیقت یہی ہے کہ اس کی شخصیت اور وقار کو عوامی سطح پر متاثر کیا جا رہا ہے۔ جب کسی انسان کو اس کی کمزوری کی بنیاد پر پیش کیا جائے تو یہ صرف مذاق نہیں رہتا بلکہ کھلی تذلیل بن جاتا ہے جو انسانیت کے اصولوں کے خلاف ہے۔
نفسیاتی طور پر دیکھا جائے تو ایسے مناظر بعض افراد کے اندر ایک جھوٹا احساس برتری پیدا کرتے ہیں۔ وہ خود کو بہتر سمجھنے لگتے ہیں اور دوسرے کی حالت کو دیکھ کر تسلی محسوس کرتے ہیں۔ مگر یہی سوچ معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ جب ہم دوسروں کی کمزوریوں سے لطف اندوز ہونے لگتے ہیں تو درحقیقت ہم اپنی انسانیت کو کمزور کر رہے ہوتے ہیں۔
بعض لوگ یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ یہ سب محض تفریح ہے اور اس میں کسی کو نقصان پہنچانے کا ارادہ نہیں ہوتا مگر حقیقت یہ ہے کہ نیت سے زیادہ اثر اہم ہوتا ہے۔ اگر کسی کے عمل سے کسی کی عزت مجروح ہو رہی ہو تو وہ عمل ہرگز درست نہیں کہلا سکتا۔ کسی کی حالت پر ہنسنا اور اسے وائرل کرنا ایک ایسا خاموش ظلم ہے جو بظاہر معمولی نظر آتا ہے مگر اپنے اثرات میں نہایت گہرا ہوتا ہے۔
یہ مسئلہ صرف چند افراد تک محدود نہیں بلکہ یہ سوشل میڈیا کے اس نظام کا حصہ بن چکا ہے جہاں وہی مواد زیادہ پھیلتا ہے جو لوگوں کو چونکا دے یا تفریح فراہم کرے۔ اس عمل میں اخلاقیات کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے اور یوں ایک ایسا ماحول جنم لیتا ہے جہاں انسان کی قدر کم اور مواد کی اہمیت زیادہ ہو جاتی ہے جو ایک خطرناک رجحان ہے۔
ماضی میں معاشرے اپنے کمزور افراد کی حفاظت کرتے تھے، ان کا سہارا بنتے تھے اور ان کے ساتھ ہمدردی کا برتاؤ کرتے تھے۔ مگر آج صورتحال اس کے برعکس نظر آتی ہے جہاں کمزور افراد کو ہی تماشہ بنا دیا جاتا ہے۔ یہ تبدیلی کسی بھی صورت میں ترقی نہیں بلکہ ایک واضح اخلاقی زوال کی علامت ہے جو ہمیں سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔
یہ واقعہ ہمیں ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ ہمیں اپنے رویوں اور ترجیحات پر نظر ثانی کرنی ہوگی۔ ہمیں سوشل میڈیا کے استعمال میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور ایسے مواد سے دور رہنا ہوگا جو کسی کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچاتا ہو۔ معاشرے، تعلیمی اداروں اور خاندانوں کو مل کر نئی نسل میں احترام، ہمدردی اور انسانیت کے اقدار کو فروغ دینا ہوگا۔ سب سے بڑھ کر ہمیں خود کو بدلنا ہوگا کیونکہ خاموشی بھی ایک طرح کی حمایت ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جو اپنے کمزور افراد پر ہنستا ہے، اپنی انسانیت کھو دیتا ہے اور اگر ہم نے اب بھی خود کو نہ بدلا تو یہ زوال مزید گہرا ہوتا چلا جائے گا۔
مضمون نگار
محمد عرفات وانی
کچھمولہ ترال پلوامہ کشمیر
wania6817@gmail.com
9622881110