مضامین
وقت کے شکستہ آئینے میں ایک نسل

اگر آپ سن دو ہزار کے بعد پیدا ہوئے ہیں، تو آپ نے زندگی کو شاید کبھی ایک سیدھی لکیر کی طرح بہتے نہیں دیکھا ہوگا۔ آپ کے لیے وقت اکثر رکتا رہا ہے، مڑتا رہا ہے، اور کئی بار ٹوٹ بھی گیا ہے۔ آپ نے منصوبے بنتے بھی دیکھے ہیں اور اچانک بکھرتے بھی۔ بغیر کسی پیشگی اطلاع کے۔ جب ایک نسل مسلسل تعطل، رکاوٹوں اور غیر یقینی حالات میں پروان چڑھے، تو اس کی ذہنی، تعلیمی اور سماجی ساخت کن زاویوں سے تشکیل پاتی ہے؟
اس نسل کا بچپن ایک ایسے وقت میں آنکھ کھولتا ہے جب زمین خود بھی مستحکم محسوس نہیں ہوتی۔ 2005 کا زلزلہ محض ایک قدرتی آفت نہیں تھا، اس نے ایک بچے کے ذہن میں موجود تحفظ کے بنیادی تصور کو ہلا کر رکھ دیا۔ عام حالات میں تحفظ کا احساس وقت کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ پروان چڑھتا ہے، مگر یہاں ابتدا ہی میں اس کی بنیادیں کمزور کر دی گئیں۔ یوں ایک پوری نسل نے اپنے شعور کی پہلی اینٹ ایک غیر یقینی زمین پر رکھی۔
پھر تعلیم کا آغاز ہوا۔ مگر یہ آغاز بھی کسی مربوط سفر کا حصہ نہ بن سکا۔ 2014 کے سیلاب نے نہ صرف گھروں اور سڑکوں کو متاثر کیا بلکہ تعلیم کے تسلسل کو بھی بُری طرح متاثر کیا۔ سکول بند ہوئے، نصاب ادھورا رہ گیا، کتابیں پانی کی نذر ہوئیں، اور سب سے بڑھ کر وہ تسلسل ٹوٹ گیا جو سیکھنے کے عمل کی روح ہوتا ہے۔ تعلیم جاری تو رہی، مگر اس کی صورت کچھ یوں تھی جیسے کسی جملے کے الفاظ تو موجود ہوں، مگر معنی بکھرے ہوئے ہوں۔
جب یہی نسل بلوغت کی دہلیز پر قدم رکھتی ہے، تو اسے ایک اور طرح کی پیچیدگی کا سامنا ہوتا ہے۔،2005 2008، 2010 اور پھر 2016—یہ سال محض تاریخ کے صفحات پر درج اعداد نہیں رہے، بلکہ ایک اجتماعی ذہنی کیفیت کا حصہ بن گئے۔ ان برسوں نے نوجوان ذہنوں میں ایسے سوالات کو جنم دیا جن کے جواب نہ نصاب میں ملتے تھے اور نہ ہی روزمرہ کی گفتگو میں: میں کون ہوں؟ میرا تعلق کس سے ہے؟ اور میرا مستقبل کس سمت میں جائے گا؟
ایسے ماحول میں سب سے پہلے جو چیز متاثر ہوتی ہے، وہ ہے تسلسل کا احساس۔ اور جب تسلسل ٹوٹتا ہے، تو انسان اپنے آپ کو حالات کے مطابق ڈھالنا سیکھ لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نسل نے غیر معمولی حد تک مطابقت پیدا کی۔ سکول بند ہوں تو گھروں میں پڑھائی، امتحانات ملتوی ہوں تو صبر، اور رابطے منقطع ہوں تو خاموشی۔ بظاہر یہ ایک قابلِ تعریف خوبی ہے، مگر اس کے پسِ پردہ ایک خاموش تھکن بھی جنم لیتی ہے۔ ایسی تھکن جو دکھائی نہیں دیتی، مگر اندر ہی اندر وجود کو کھوکھلا کرتی رہتی ہے۔
سال 2019 اس کہانی میں ایک نئے باب کا اضافہ کرتا ہے۔ یہ سال محض ایک سیاسی یا انتظامی تبدیلی کا نام نہیں، بلکہ ایک اجتماعی نفسیاتی تجربہ بن گیا۔ رابطوں کی بندش، معلومات کی کمی، اور ایک طویل غیر یقینی کیفیت۔ یہ سب عوامل ایک پوری نسل کے ذہن پر ایسے نقوش چھوڑ گئے جنہیں ابھی مکمل طور پر سمجھا جانا باقی ہے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب وقت گویا تھم سا گیا، اور زندگی ایک معلق حالت میں آ گئی۔
اور پھر 2020 اور 2021 میں کورونا کی عالمی وبا نے اس پہلے سے غیر یقینی ماحول کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ دنیا کے دیگر حصوں میں بھی زندگی متاثر ہوئی، مگر کشمیر میں اس وبا کا اثر ایک مختلف شدت کے ساتھ محسوس کیا گیا۔ یہاں پہلے ہی تعطل کا ایک پس منظر موجود تھا، اور اب اس پر ایک عالمی بحران کی تہہ بھی چڑھ گئی۔
تعلیمی ادارے بند ہوئے، مگر اس بار وجہ مقامی نہ تھی بلکہ عالمی تھی۔ آن لائن تعلیم کا آغاز ہوا، مگر یہ سہولت سب کے لیے یکساں دستیاب نہ تھی۔ انٹرنیٹ کی رفتار، آلات کی کمی، اور گھریلو ماحول ـ یہ سب عوامل ایک نئی قسم کی تعلیمی عدم مساوات کو جنم دیتے رہے۔ ایک طالب علم کے لیے کلاس روم اب ایک سکرین تک محدود ہو گیا، جہاں استاد کی آواز کبھی واضح آتی، کبھی ٹوٹ جاتی، اور کبھی مکمل طور پر غائب ہو جاتی۔
یہ محض تعلیم کا مسئلہ نہ تھا، بلکہ ایک سماجی اور نفسیاتی تجربہ بھی تھا۔ ایک نوجوان جو پہلے ہی محدود میل جول کا عادی ہو چکا تھا، اب مزید تنہائی کا شکار ہو گیا۔ دوستوں سے دوری، کھیل کے میدانوں کی خاموشی، اور گھروں کی چار دیواری میں قید ایک طویل وقت—یہ سب عوامل ذہنی صحت پر اثر انداز ہوئے۔ اضطراب، بے چینی، اور مستقبل کے حوالے سے ایک گہری غیر یقینی کیفیت—یہ سب اس نسل کے ساتھ جڑتے چلے گئے۔
اور اب، جب یہ اپنی زندگیوں کو سنوارنے کے قریب ہیں، جب یہ اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے دہانے پر کھڑے ہیں، دنیا ایک بار پھر بے یقینی کی طرف جھک رہی ہے۔ جنگوں کی بازگشت، عالمی کشیدگیاں، اور ایک ایسا ماحول جو ہمیں بار بار پیچھے دھکیل دیتا ہے۔
اس نسل کی عملی زندگی میں ایک طویل پس منظر موجود ہے۔ ایسا پس منظر جس میں تعلیم بار بار منقطع ہوئی، مواقع غیر یقینی رہے، اور منصوبہ بندی اکثر حالات کی مرہونِ منت رہی۔ یہ نسل محض ڈگریاں لے کر نہیں نکل رہی، بلکہ ایک ایسا تجربہ بھی ساتھ لے کر جا رہی ہے جو اسے بیک وقت مضبوط بھی بناتا ہے اور تھکا بھی دیتا ہے۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ یہ نسل پیچھے رہ گئی ہے۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ انہوں نے راستے تلاش کیے ہیں۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اپنی جگہ بنائی، خود روزگاری کے مواقع پیدا کیے، اور ہنر پر مبنی تعلیم کی طرف رجحان بڑھایا۔ یوٹیوب، فری لانسنگ، اور آن لائن کاروبار' یہ سب اس نسل کے لیے محض متبادل نہیں بلکہ ضرورت بن گئے۔
ترقی کے لیے صرف محنت کافی نہیں ہوتی؛ ایک مستحکم ماحول بھی ضروری ہوتا ہے۔ جب یہ استحکام بار بار متاثر ہو، تو اس کے اثرات محض وقتی نہیں بلکہ دیرپا ہوتے ہیں۔ ہم اکثر اس نسل کی “مزاحمت” اور “استقامت” کو سراہتے ہیں، اور بلاشبہ یہ تعریف اپنی جگہ درست ہے۔ مگر ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ مسلسل استقامت کا مطالبہ خود ایک بوجھ بن سکتا ہے۔ ہر بار خود کو سنبھالنا، ہر بار نئے حالات کے مطابق ڈھلنا، اور ہر بار صفر سے آغاز کرنا۔ یہ سب ایک ذہنی اور جذباتی قیمت رکھتے ہیں۔
تعلیمی اداروں، پالیسی سازوں، اور سماجی قیادت کے لیے یہ ایک اہم لمحہ ہے۔ کیا ہم ایسے نظام تشکیل دے سکتے ہیں جو کم از کم بنیادی سطح پر تسلسل فراہم کریں؟ کیا ہم ایسے تعلیمی ماڈلز پر غور کر سکتے ہیں جو ہنگامی حالات میں بھی سیکھنے کے عمل کو جاری رکھ سکیں؟ کیا ہم نوجوانوں کو صرف حالات سے نمٹنے کے قابل بنا رہے ہیں، یا انہیں ایک بہتر مستقبل کی منصوبہ بندی کا حقیقی موقع بھی دے رہے ہیں؟
ان سوالات کے جوابات آسان نہیں، مگر ناگزیر ضرور ہیں۔ اس کے لیے تحقیق، مکالمہ، اور ایک سنجیدہ اجتماعی کوشش درکار ہے۔ محض تعریف کافی نہیں؛ سمت بھی درکار ہے۔
مضمون نگار کشمیر سے تعلق رکھنے والے کالم نگار اور تعلیمی شعبے سے وابستہ ہیں۔
رابطہ: 7006857283
ای میل: ikkzikbal@gmail.com