مضامین
ہماری نوجوان نسل اور منشیات کی مہلک یلغار

نوجوان نسل اور منشیات کی مہلک یلغارانسانی زندگی کا درخشاں ترین اور فیصلہ کن مرحلہ نوجوانی کا ہوتا ہے، جو توانائی، ولولہ اور امکانات کا مظہر ہوتا ہے۔یہی وہ دور ہے جس میں فرد اپنی شناخت متعین کرتا ہے اور قومیں اپنی تقدیر کا رخ موڑتی ہیں۔ تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ جہاں نوجوانوں نے بصیرت، عزم اور استقلال کا مظاہرہ کیا وہاں اقوام نے عروج پایا، اور جہاں یہی طبقہ فکری انحطاط، اخلاقی زوال اور بے راہ روی کا شکار ہوا وہاں تباہی و بربادی نے جنم لیا۔اگر ہم موجودہ حالات کا عمیق جائزہ لیں، خصوصاً وادی کشمیر کے تناظر میں، تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ نوجوان نسل ایک ہمہ گیر بحران سے دوچار ہے۔ ایک طرف وہ باہمت اور باشعور نوجوان ہیں جو نامساعد حالات کے باوجود علم و عمل کی راہوں پر استقامت سے گامزن ہیں، جبکہ دوسری جانب ایک کثیر تعداد ایسے نوجوانوں کی بھی ہے جو ذہنی انتشار، معاشی بے یقینی، خاندانی عدم استحکام اور سماجی دباؤ کے باعث منشیات کی ہلاکت خیز دلدل میں پھنستے جا رہے ہیں۔آج منشیات کی نوعیت محض روایتی نہیں رہی بلکہ اس نے نہایت مہلک اور جدید صورت اختیار کر لی ہے۔ synthetic drugs، آئس (Ice)، ہیروئن (چٹا)، نشہ آور ادویات اور self-injection جیسی خطرناک عادات نوجوانوں میں برق رفتاری سے فروغ پا رہی ہیں۔ یہ مہلک مادے نہ صرف جسمانی صحت کو کھوکھلا کرتے ہیں بلکہ انسانی شعور، ارادہ اور شخصیت کو بھی مسخ کر دیتے ہیں۔ مزید برآں، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے منشیات کی ترسیل اور ترویج ایک خاموش مگر نہایت سنگین خطرے کے طور پر ابھر رہی ہے۔طبی اور نفسیاتی نقطۂ نظر سے منشیات کا استعمال ایک تدریجی خودکشی کے مترادف ہے۔ اس کے نتیجے میں دل کی بیماریاں، ذہنی اختلال، اعصابی کمزوری، قوتِ مدافعت کی شکست و ریخت اور شدید نفسیاتی عوارض جنم لیتے ہیں۔ نتیجتاً انسان اپنی انفرادی شناخت کھو بیٹھتا ہے اور معاشرے پر ایک بوجھ بن جاتا ہے۔ سب سے الم ناک پہلو یہ ہے کہ قوم کا قیمتی سرمایہ، یعنی نوجوان، رفتہ رفتہ تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتا ہے۔اسباب — ایک تجزیاتی مطالعہ منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پس منظر میں متعدد عوامل کارفرما ہیں:معاشی ابتری اور بے روزگاری ذہنی دباؤ، اضطراب اور وجودی بے چینی خاندانی نظام کی کمزوری اور رشتوں میں دراڑبری صحبت اور peer pressureسوشل میڈیا کا منفی اور غیر محتاط استعمال منشیات کی آسان دستیابی حکومتی اقدامات — ایک قابلِ تحسین پیش رفتہ امر لائقِ تحسین ہے کہ حکومتِ جموں و کشمیر نے اس ناسور کے تدارک کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کا آغاز کیا ہے۔ منشیات فروش عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائیاں، اسمگلنگ نیٹ ورکس کا قلع قمع، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فعالیت میں اضافہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔مزید برآں، مختلف اضلاع میں ڈی ایڈکشن مراکز کا قیام، نوجوانوں میں شعور بیدار کرنے کے لیے آگاہی مہمات، سیمینارز اور تعلیمی پروگرامز کا انعقاد ایک امید افزا قدم ہے۔ سرکاری اداروں، تعلیمی مراکز اور سماجی تنظیموں کے باہمی اشتراک سے ایک مربوط حکمتِ عملی اپنائی جا رہی ہے، جو مستقبل میں یقیناً مثبت نتائج کی حامل ہوگی۔اگرچہ یہ اقدامات مزید وسعت اور تسلسل کے متقاضی ہیں، تاہم حکومت کی یہ سنجیدگی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور اس کے سدباب کے لیے عملی کوششیں جاری ہیں۔
حل — ایک جامع لائحۂ عمل
1. خاندانی سطح پر:والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کی نفسیاتی اور جذباتی ضروریات کا ادراک کریں، ان کے مسائل کو سنجیدگی سے سنیں، اور ان کے ساتھ محبت و شفقت کا رویہ اختیار کریں تاکہ وہ کسی منفی راستے کا انتخاب نہ کریں۔
2. تعلیمی اداروں کا کردار:تعلیمی ادارے طلبہ کی ہمہ جہت تربیت پر توجہ دیں، منشیات کے نقصانات سے متعلق آگاہی پروگرامز منعقد کریں، اور مثبت سرگرمیوں کو فروغ دیں۔
3. سماجی و مذہبی رہنماؤں کی ذمہ داری:علماء کرام اور دانشوران کو چاہیے کہ وہ اپنے خطبات اور تحریروں کے ذریعے نوجوانوں کی اصلاح کریں اور منشیات کے خلاف شعور بیدار کریں۔
4. نوجوانوں کی خود ذمہ داری:نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو مثبت سرگرمیوں میں بروئے کار لائیں، بری صحبت سے اجتناب کریں، اور اپنی زندگی کو ایک واضح مقصد کے تحت گزاریں۔ اگر کوئی اس لعنت کا شکار ہو جائے تو فوری مدد حاصل کرے۔اختتامیہ منشیات کا ناسور اب ایک انفرادی مسئلہ نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر اجتماعی المیہ بن چکا ہے۔ اگر ہم نے بروقت اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو یہ وبا ہماری آئندہ نسلوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ لہٰذا، یہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم بحیثیت قوم متحد ہو کر اس کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر جدوجہد کریں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہماری نوجوان نسل کو اس مہلک آفت سے محفوظ رکھے اور ہمیں شعور، بصیرت اور عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
رابطہ hafiznaveedahkhan@gmail.com