Ad
مضامین

نییٹ بحران : ٹوٹتے خواب اور ہمارا تعلیمی نظام

✍️: زید بن رمضان


​تعلیم کسی بھی معاشرے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، لیکن آج ہندوستان کا تعلیمی نظام، خصوصاً طبی امتحانات (NEET) کا ڈھانچہ، ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں ہر طرف بے یقینی اور مایوسی کے سائے ہیں۔ ہر سال لاکھوں نوجوان اپنی آنکھوں میں ڈاکٹر بن کر انسانیت کی خدمت کرنے کا خواب سجاتے ہیں۔ یہ صرف ایک خواب نہیں ہوتا بلکہ ایک جنون ہوتا ہے جس کے لیے وہ اپنی زندگی کے کئی قیمتی سال ایک کمرے میں بند ہو کر گزار دیتے ہیں۔ وہ اپنی نیندیں قربان کرتے ہیں، دوستوں اور رشتہ داروں سے کٹ جاتے ہیں، اور یہاں تک کہ اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو بھی اس امید پر قربان کر دیتے ہیں کہ ایک دن ان کی محنت رنگ لائے گی۔ لیکن جب امتحان کے بعد "پیپر لیک" یا "اسکیم" کی خبریں آتی ہیں، تو وہ صرف ایک پرچہ نہیں ہوتا جو لیک ہوتا ہے، بلکہ لاکھوں بچوں کا بھروسہ اور ان کے والدین کی زندگی بھر کی کمائی خاک میں مل جاتی ہے۔

​این ٹی اے (NTA) کی نااہلی اور غریب خاندانوں کی بربادی

​نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) جیسی بڑی تنظیم سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ شفافیت کی مثال قائم کرے گی، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہاں سب سے زیادہ دکھ ان غریب والدین کا ہوتا ہے جو اپنے بچوں کو کوچنگ اور ٹیوشن پڑھانے کے لیے اپنی زندگی کی آخری پونجی بھی داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ ہمارے ملک میں کتنے ہی ایسے کسان اور مزدور ہیں جو اپنے بچوں کی فیس بھرنے کے لیے اپنے مال مویشی بیچ دیتے ہیں، زمینیں گروی رکھ دیتے ہیں یا ماں کے زیورات تک فروخت کر دیتے ہیں۔ ان کے لیے NEET محض ایک امتحان نہیں بلکہ غربت سے نکلنے کا واحد راستہ ہوتا ہے۔ لیکن جب 26 لاکھ بچوں کے مستقبل کا فیصلہ کرنے والی ایجنسی پیپر لیک روکنے میں ناکام ہو جاتی ہے، تو وہ ان غریب خاندانوں کی کمر توڑ دیتی ہے۔ بیک ڈور اینٹریوں نے محنتی اور غریب طلباء کے حق پر ڈاکہ ڈالا ہے۔

​نظام میں تبدیلی کی ضرورت: JEE کی طرز پر دو مرحلے

​موجودہ صورتحال میں وقت کی اہم ضرورت ہے کہ این ٹی اے اپنے امتحانی طریقہ کار کو بدلے۔ جس طرح انجینئرنگ کے لیے JEE Mains اور پھر JEE Advanced کا انعقاد کیا جاتا ہے، اسی طرح NEET کو بھی دو مرحلوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے۔ ایک مرحلہ "NEET Mains" ہو جس میں بڑے پیمانے پر اسکریننگ کی جائے، اور پھر کوالیفائی کرنے والے محدود طلباء کے لیے "NEET Advanced" کا امتحان لیا جائے۔ جب دوسرے مرحلے میں امیدواروں کی تعداد کم ہوگی، تو سیکیورٹی کا انتظام بہتر ہوگا اور پیپر لیک ہونے کے امکانات ختم ہو جائیں گے۔ اس سے میرٹ کی بالادستی قائم ہوگی۔

​نفسیاتی بحران اور معصوم جانوں کا زیاں

​اس سارے معاملے کا سب سے تکلیف دہ پہلو وہ ذہنی اذیت ہے جس سے ایک عام طالبِ علم گزرتا ہے۔ جب ایک بچہ دیکھتا ہے کہ بدعنوان عناصر نے محض پیسے کے زور پر اس کی جگہ چھین لی ہے، تو اس کا حوصلہ ٹوٹ جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں "ڈپریشن" جنم لیتا ہے۔ جب گھر کی مالی حالت پہلے ہی خراب ہو اور اوپر سے سسٹم کی بے حسی سامنے آئے، تو بچہ خود کو قصوروار سمجھنے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل خودکشی کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ امتحانات بچوں کی قابلیت جانچنے کے لیے ہونے چاہئیں، انہیں موت کی طرف دھکیلنے کے لیے نہیں۔

​والدین کی ذمہ داری اور معاشرتی دباؤ

​والدین کو بھی اپنے رویے پر غور کرنا ہوگا۔ بچوں کو ڈاکٹر بننے کے لیے اس حد تک مجبور نہ کریں کہ وہ زندگی سے ہی بیزار ہو جائیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے ایک مضبوط ڈھال بنیں اور انہیں یقین دلائیں کہ امتحان میں ناکامی کا مطلب زندگی کا خاتمہ نہیں ہے۔ اگر بچہ محنت کر رہا ہے، تو وہی اس کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

​زندگی صرف NEET تک محدود نہیں ہے

​میں نے خود 11ویں اور 12ویں جماعت میں میڈیکل کا انتخاب اس لیے کیا تھا کیونکہ میں محنت کرنا سیکھنا چاہتا تھا۔ میرا نظریہ یہ تھا کہ محنت کا جو ہنر میں یہاں سیکھوں گا، وہ زندگی بھر کام آئے گا۔ چاہے "ری نیٹ" (Re-NEET) ہو یا نہ ہو، سلیکشن ہو یا نہ ہو، میں نے جو ڈسپلن سیکھا ہے وہ میری طاقت ہے۔ طلباء کو بھی چاہیے کہ وہ خود کو ایک امتحان کے دائرے میں قید نہ کریں۔ دنیا میں اور بھی بہت سے باعزت پیشے ہیں جہاں آپ اپنی محنت سے نام کما سکتے ہیں۔

​حرفِ آخر: اصلاحات کی فوری ضرورت

​حکومتِ ہند کو اب جاگنا ہوگا۔ صرف تحقیقاتی کمیٹیاں بنانا کافی نہیں، بلکہ پیپر مافیا کو عبرتناک سزائیں دینا ضروری ہے۔ ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو بدعنوانی سے پاک کرنا ہوگا، ورنہ ہم ایک ایسی نسل تیار کریں گے جو محنت پر نہیں بلکہ "شارٹ کٹ" پر یقین رکھے گی۔ لاکھوں بچوں کے جذبات اور ملک کا مستقبل آج انصاف کا طلبگار ہے۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!