Ad
مضامین

یہ کیسی دلالی ہے نظامِ تعلیم میں؟

ٹوٹتے خواب، امتحانات میں فراڈ '  بکھرتا اعتماد اور خاموش نظام

✍🏼 اِکز اِقبال / سہی پورا قاضی آباد


میری امی جان اکثر ایک بات کہا کرتی ہےکہ 

“دنیا کے ہر شعبے میں دھوکہ ممکن ہے، مگر تعلیم ایک ایسا مقدس شعبہ ہے جہاں انسان اپنی نیت بھی صاف رکھتا ہے اور ضمیر بھی۔”

میں بچپن میں یہ بات سنتا تو دل کو ایک عجیب سا سکون ملتا تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے تعلیم واقعی ایک نور ہے، ایک ایسی روشنی جو اندھیروں کو کھا جاتی ہے۔ استاد میرے ذہن میں ہمیشہ سفید لباس پہنے، ہاتھ میں کتاب تھامے، قوموں کے معمار کی صورت میں آتے تھے۔ امتحانات مجھے انصاف کے ترازو لگتے تھے، جہاں صرف محنت کا وزن ہوتا ہے، سفارش یا دولت کا نہیں۔

مگر وقت نے شاید سب سے پہلے اسی یقین کو قتل کیا۔

آج اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ ہمارے معاشرے میں سب سے زیادہ بے حسی، سب سے زیادہ تجارت، سب سے زیادہ دلالی اور سب سے خطرناک فراڈ کہاں ہو رہا ہے، تو میں بلا جھجک کہوں گا:

“تعلیم میں۔”

جی ہاں، وہی تعلیم جسے کبھی عبادت سمجھا جاتا تھا، اب ایک منافع بخش منڈی بنتی جا رہی ہے۔ اور اس منڈی میں سب سے سستا سودا شاید ایک طالب علم کا خواب ہے۔

کہتے ہیں کہ قوموں کی ترقی میں ان کے نظام تعلیم کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں ربط و ضبط کے لیے تعلیم کا ہونا لازمی ہے ۔ ایک اچھا، منظم اور جدید تعلیمی نظام قوموں کے بہترین اور خوشحال مستقبلِ کا ضامن ہوتا ہے۔

 ہمارے بچے ہمارے مستقبل کا سرمایہ ہے۔ اور انہیں بہترین تعلیمی زیور سے آراستہ کرانا ہمارا فرض بھی ہے اور ہماری ترجیحات میں بھی شامل ہونا چاہیے ۔

مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ ہمارے سماج میں اگر کسی شعبے میں سب سے زیادہ  دھوکہ ہورہا ہیں تو وہ بچوں کی تعلیم کے ساتھ۔ اور ان کے مستقبل کے ساتھ۔

گزشتہ دنوں جب NEET کے امتحان میں پیپر لیک اور بے ضابطگیوں کی خبریں سامنے آئیں تو مجھے ہزاروں نہیں، لاکھوں چہرے یاد آنے لگے۔ وہ بچے جو چھوٹے چھوٹے کمروں میں رات دو دو بجے تک جاگتے ہیں۔ وہ لڑکیاں جو اپنی نیند، اپنی خواہشیں اور اپنی جوانی کتابوں کے حوالے کر دیتی ہیں۔ وہ لڑکے جن کی آنکھوں کے نیچے پڑے سیاہ حلقے اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ انہوں نے کامیابی کی قیمت اپنی نیندوں سے ادا کی ہے۔

اور پھر ایک دن اچانک خبر آتی ہے:

“پیپر لیک ہوگیا…”

یہ صرف ایک جملہ نہیں ہوتا۔

یہ لاکھوں خوابوں کے سینے میں گھونپا جانے والا خنجر ہوتا ہے۔

میں نے ایک باپ کو دیکھا، جو اپنے بیٹے کی کوچنگ فیس بھرنے کے لیے دن بھر مزدوری کرتا تھا۔ اس کے ہاتھوں پر پڑے چھالے شاید اس کے بیٹے کے خوابوں کی قیمت تھے۔ وہ اکثر کہا کرتا:

“میرا بیٹا ڈاکٹر بنے گا… میری قسمت تو مٹی میں ملی، مگر اس کی قسمت بدل جائے گی۔”

مگر اس دن وہ خاموش بیٹھا تھا۔

اور اس کا بیٹا کمرے کے ایک کونے میں سر جھکائے صرف اتنا کہہ رہا تھا:

“ابو… اگر پیپر پہلے ہی بک چکا تھا تو میری محنت کس کام کی تھی؟”

اس سوال کا جواب شاید کسی وزیر کے پاس نہیں۔

کسی ایجنسی کے پاس نہیں۔

کسی نظام کے پاس نہیں۔

کیونکہ ہمارے ہاں امتحان اب صرف امتحان نہیں رہے، یہ ایک ایسا میدان بن چکے ہیں جہاں ایماندار طالب علم اکثر ہار جاتا ہے، اور نظام سے کھیلنے والے لوگ کامیاب قرار پاتے ہیں۔

کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ ہمارے ملک میں نوجوانوں کے خوابوں سے بڑا کوئی کاروبار نہیں۔ ایک بچہ جب میٹرک میں اچھے نمبر لیتا ہے تو پورا خاندان اس کے گرد امیدوں کا ایک محل تعمیر کرنا شروع کر دیتا ہے۔ ماں اپنی دعاؤں میں اس کا نام دہراتی ہے۔ باپ اپنے بڑھاپے کا سہارا اسی میں ڈھونڈنے لگتا ہے۔ بہن بھائی اسے گھر کا مستقبل سمجھنے لگتے ہیں۔

پھر وہی بچہ کوچنگ سینٹروں کے جنگل میں داخل ہوتا ہے۔

جہاں ہر دیوار پر کامیابی کے اشتہار چسپاں ہوتے ہیں۔

جہاں ہر مسکراہٹ کے پیچھے فیسوں کا حساب ہوتا ہے۔

جہاں علم کم اور مقابلہ زیادہ سکھایا جاتا ہے۔

اور اس سب کے بعد اگر امتحان بھی محفوظ نہ رہے، تو پھر آخر ایک طالب علم کس پر یقین کرے؟

مجھے افسوس صرف پیپر لیک پر نہیں ہوتا۔

مجھے افسوس اس سوچ پر ہوتا ہے جو آہستہ آہستہ ہمارے معاشرے میں جڑ پکڑ رہی ہے۔

وہ سوچ جو بچوں کو یہ باور کروا رہی ہے کہ محنت کافی نہیں، “سیٹنگ” بھی ہونی چاہیے۔

قابلیت کافی نہیں، تعلقات بھی ہونے چاہئیں۔

دیانت کافی نہیں، راستے نکالنے آنے چاہئیں۔

یہ سوچ کسی ایک امتحان سے زیادہ خطرناک ہے۔

قومیں صرف سڑکوں، پلوں اور عمارتوں سے ترقی نہیں کرتیں۔ قومیں اس وقت ترقی کرتی ہیں جب ان کے نوجوانوں کو انصاف ملتا ہے۔ جب ایک غریب کا بچہ بھی یہ یقین رکھتا ہو کہ اگر وہ محنت کرے گا تو کامیاب ہوسکتا ہے۔ مگر جب امتحانی نظام ہی مشکوک ہوجائے، تو پھر نوجوانوں کے اندر سے امید مرنے لگتی ہے۔

اور یاد رکھیے…

مایوس نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے بڑا سانحہ ہوتے ہیں۔

آج ہمارے تعلیمی ادارے عمارتوں میں تو شاید پہلے سے زیادہ خوبصورت ہوگئے ہیں، مگر ان کے اندر موجود نظام پہلے سے زیادہ کھوکھلا ہوتا جا رہا ہے۔ تعلیم اب کردار سازی سے زیادہ رینکنگ کا مسئلہ بن گئی ہے۔ والدین بچوں سے پوچھتے ہیں:

“کتنے نمبر آئے؟”

یہ کم پوچھتے ہیں:

“کتنا سیکھا؟”

ہم نے بچوں کو کامیابی کے اتنے تنگ پیمانے میں قید کردیا ہے کہ اگر وہ ایک امتحان میں پیچھے رہ جائیں تو خود کو ناکام انسان سمجھنے لگتے ہیں۔

اور پھر ایسے میں جب وہی امتحان بھی شفاف نہ رہے، تو ان کے اندر موجود اعتماد ٹوٹ جاتا ہے۔

میں اکثر سوچتا ہوں…

وہ بچہ جو روز فجر کے وقت اٹھ کر پڑھتا تھا، جس نے دوستوں کی محفلیں چھوڑ دیں، عیدوں کی خوشیاں قربان کردیں، موبائل فون سے دوری اختیار کی، اپنی جوانی کتابوں میں دفن کردی. 

اس کے دل پر کیا گزرتی ہوگی جب اسے پتہ چلتا ہوگا کہ کوئی دوسرا شخص پیسے دے کر وہی پرچہ پہلے ہی خرید چکا تھا؟

یہ صرف ناانصافی نہیں۔

یہ ایک نسل کے ساتھ ظلم ہے۔

ہم شاید یہ بھول رہے ہیں کہ تعلیم صرف روزگار حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہوتی۔ تعلیم انسان کے اندر امید زندہ رکھتی ہے۔ جب ایک طالب علم یہ یقین کھو دے کہ اس کی محنت کا صلہ اسے انصاف سے ملے گا، تو پھر معاشرے میں بداعتمادی جنم لیتی ہے۔ اور بداعتمادی جب نظاموں میں سرایت کر جائے تو قومیں اندر سے کھوکھلی ہوجاتی ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم صرف پیپر لیک کے خلاف غصہ نہ دکھائیں بلکہ پورے تعلیمی اور امتحانی نظام پر سنجیدگی سے غور کریں۔ ہمیں ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں میرٹ صرف تقریروں میں نہیں بلکہ عملی طور پر نظر آئے۔ جہاں ایک غریب بچے کا خواب کسی امیر کی سفارش کے نیچے نہ دبے۔ جہاں محنت کرنے والے کو یہ خوف نہ ہو کہ اس کا مستقبل کسی بند کمرے میں ہونے والی خفیہ ڈیل کی نذر ہوجائے گا۔

کیونکہ آخر میں بات صرف NEET کی نہیں۔

بات صرف ایک امتحان کی نہیں۔

بات اس نسل کی ہے جو مسلسل بے یقینی کے اندھیروں میں دھکیلی جا رہی ہے۔

اور اگر قومیں اپنے نوجوانوں کے خوابوں کی حفاظت نہ کر سکیں، تو پھر تاریخ ان قوموں کے مستقبل کی حفاظت نہیں کرتی۔

میری امی جان شاید آج بھی یہی کہیں:

“بیٹا، تعلیم اب بھی مقدس ہے… مگر افسوس، اس کے رکھوالے مقدس نہیں رہے۔”

مضمون نگار کشمیر سے تعلق رکھنے والے کالم نگار اور تعلیمی شعبے سے وابستہ ہیں۔ 

رابطہ: 7006857283

ای میل: ikkzikbal@gmail.com



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!