مضامین
الزام، ذاتی دشمنیاں اور سچ کی آزمائش

ہمارے معاشرے میں یہ ایک خطرناک روایت بنتی جا رہی ہے کہ کسی شخص پر الزام لگتے ہی تحقیق، ثبوت اور انصاف کا انتظار کیے بغیر اسے مجرم قرار دے دیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا، نام نہاد صحافت اور ہجوم کی نفسیات مل کر چند لمحوں میں کسی انسان کی عزت، وقار اور برسوں کی نیک نامی کو خاک میں ملا دیتی ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ بعد میں اگر عدالت اس شخص کو بے گناہ قرار دے بھی دے، تب بھی بہت سے لوگ اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے اسی جھوٹے الزام کو دہراتے رہتے ہیں۔
حال ہی میں ایک استاد کے ساتھ ایسا ہی معاملہ پیش آیا۔ ان پر طالبات کے ساتھ نامناسب رویے کا الزام لگایا گیا۔ الزام سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر ان کے خلاف مہم شروع ہوگئی۔ چند یوٹیوب چینلز اور موبائل فون ہاتھ میں پکڑے شور مچانے والے افراد گھنٹوں ان کے خلاف بولتے رہے۔ مکمل تحقیقات اور طلبہ کے بیانات ریکارڈ کیے بغیر یہاں تک کہہ دیا گیا کہ ایسے شخص کو سخت ترین سزا دینی چاہیے۔ لیکن جب معاملہ عدالت میں پہنچا تو کہا گیا کہ ایسا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں جس کی بنیاد پر جرم ثابت کیا جا سکے۔ یوں وہ استاد ضمانت پر رہا ہوگئے، اور وہی سوشل میڈیا جو کل تک ان کے خلاف نفرت اگل رہا تھا، آج ان کی بے گناہی کے حق میں دلائل دینے لگا۔
چند سال قبل اسی طرح چار اساتذہ کے خلاف بھی ایک نہایت گھٹیا اور منظم سازش تیار کی گئی۔ پندرہ افراد کی درخواست پر ان اساتذہ کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں ان کی کردار کشی کی گئی، گویا عدالت لگنے سے پہلے ہی فیصلہ سنا دیا گیا ہو۔ لیکن جب کیس عدالت میں پہنچا تو حقیقت ایک ایک کرکے سامنے آنے لگی۔
جن طالبات کے نام درخواست میں شامل کیے گئے تھے، انہوں نے عدالت میں واضح طور پر کہا کہ انہیں معلوم ہی نہیں کہ ان کے نام کس نے اور کیوں استعمال کیے۔ مزید طالبات کو عدالت میں بلایا گیا تو انہوں نے ان اساتذہ کے بہترین کردار، اخلاق اور تربیت کی گواہی دی۔ کسی نے کہا کہ ایک استاد نے انہیں پردے اور حیا کی اہمیت سکھائی، کسی نے بتایا کہ وہ نماز کا درست طریقہ سکھاتے تھے، جبکہ ایک طالبہ نے یہاں تک کہا کہ ان میں سے ایک استاد تو طالبات سے بات کرتے ہوئے بھی پسینہ پسینہ ہوا کرتے تھے۔
تحقیقات کا دائرہ وسیع ہوا تو معلوم ہوا کہ اس سازش کے پیچھے ذاتی مفادات اور دشمنیاں کارفرما تھیں۔ درخواست میں شامل پندرہ ناموں میں سے گیارہ نام جعلی نکلے، یعنی ایسے افراد جو حقیقت میں موجود ہی نہیں تھے۔ باقی افراد میں سے ایک نے اعتراف کیا کہ اس سے زبردستی دستخط کروائے گئے تھے، جبکہ دوسرے نے کہا کہ اس نے خود کوئی واقعہ نہیں دیکھا تھا بلکہ صرف دوسروں کے کہنے پر دستخط کیے تھے۔
انکشاف یہ بھی ہوا کہ اس سازش کے پیچھے ایک ٹھیکیدار شامل تھا جو ان اساتذہ سے اس لیے دشمنی رکھتا تھا کیونکہ وہ اسے ناقص اور غیر معیاری تعمیراتی سامان استعمال نہیں کرنے دیتے تھے۔ ان میں سے ایک استاد اس کی ناقص منصوبہ بندی اور فضول تعمیرات کی مخالفت کرتا تھا، جس کی وجہ سے اس نے ذاتی انتقام میں ان کی عزت اور روزگار پر حملہ کیا۔
اس سے بھی زیادہ افسوسناک کردار ایک نام نہاد لیڈر کا تھا جو خود کو اساتذہ کا ہمدرد کہتا تھا، لیکن حقیقت میں ذاتی انا اور مفاد کا غلام بن چکا تھا۔ ان چار اساتذہ نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ اساتذہ کو دیانتدار، فرض شناس اور واقعی کلاس پڑھانے والے افراد کا ساتھ دینا چاہیے۔ یہی بات اس خود غرض نام نہاد ہمدرد کو ناگوار گزری، اور وہ اس قدر گر گیا کہ اس نے ان اساتذہ کے خلاف سازش میں حصہ لیا۔ یہاں تک کہ اس نے ایک طالبہ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی کہ وہ عدالت میں ان اساتذہ کے خلاف جھوٹا بیان دے۔ لیکن اس بچی نے اپنے ضمیر کی آواز سنی اور جھوٹ بولنے سے انکار کر دیا۔ اس کا یہ کردار اس بات کا ثبوت ہے کہ سچائی کبھی مکمل طور پر دبائی نہیں جا سکتی۔
بالآخر عدالت نے تمام حقائق اور شواہد کی بنیاد پر ان چاروں اساتذہ کو باعزت بری کر دیا۔ مگر افسوس کہ آج بھی بعض گھٹیا ذہنیت رکھنے والے لوگ ان پر وہی جھوٹا الزام دہرا کر اپنی اخلاقی پستی کا ثبوت دیتے ہیں۔ جب کسی کے پاس ان اساتذہ کے خلاف کوئی حقیقی دلیل نہیں ہوتی تو وہ اسی پرانے، جھوٹے اور عدالت سے مسترد شدہ الزام کا سہارا لیتا ہے۔
یہ واقعات ہمارے معاشرے کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ کیا ہم بغیر تحقیق کسی کی عزت اچھالنے کا حق رکھتے ہیں؟ کیا سوشل میڈیا کا شور سچ کا معیار بن چکا ہے؟ کیا ذاتی دشمنیوں کے لیے کسی کی نوکری، عزت اور خاندان کو تباہ کرنا قابلِ قبول ہے؟ کیا تنظیمیں صرف ذاتی مفادات اور عہدوں کی سیاست کے لیے رہ گئی ہیں؟ اور کیا ہم نے یہ سوچنا چھوڑ دیا ہے کہ جھوٹے الزامات کسی انسان کے ذہنی سکون کو برباد کر سکتے ہیں؟
ایک مہذب معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں انصاف ثبوت کی بنیاد پر ہو، نہ کہ افواہوں اور جذبات کی بنیاد پر۔ جہاں کسی شخص کو الزام ثابت ہونے سے پہلے مجرم نہ سمجھا جائے۔ اور جہاں سچ بولنے والے چند لوگ ہجوم کے شور میں دب نہ جائیں۔ ہمیں بطور معاشرہ یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم انصاف، دیانت اور انسانیت کے ساتھ کھڑے ہونا چاہتے ہیں یا جھوٹ، کردار کشی اور ذاتی مفادات کے ساتھ.