Ad
مضامین

وادی کے تعلیمی ادارے: ’’العلم نور‘‘ سے تہذیبی زوال تک کا سفر!

✍️ :. قیصر احمد لون


متعلم: دورۂ حدیث شریف، دارالعلوم وقف دیوبند

قرآنِ مجید نے انسانیت کی رہنمائی کا آغاز ہی اس عظیم الشان اعلان سے فرمایا:

﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾

’’پڑھیے اپنے رب کے نام سے، جس نے پیدا کیا‘‘

یہ محض پڑھنے کا حکم نہیں، بلکہ علم کو اس کے حقیقی مقام پر فائز کرنے کا اعلان ہے، ایسا علم جو انسان کو صرف دنیاوی کامیابیوں تک نہ پہنچائے بلکہ اسے اپنے خالق کی معرفت، اخلاق کی بلندی اور کردار کی پختگی سے بھی آراستہ کرے، اسی حقیقت کو رسولِ اکرم ﷺ نے اپنے مبارک ارشاد میں یوں بیان فرمایا:

«طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ و مسلمة»

’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے‘‘

اسلامی روایت میں اسی لیے کہا گیا کہ ’’العلم نور‘‘؛ یعنی علم ایک ایسا نور ہے جو دلوں کو منور کرتا، عقلوں کو جِلا بخشتا اور معاشروں کو جہالت، گمراہی اور اخلاقی تاریکیوں سے نجات دیتا ہے،

لیکن افسوس! وادی کے وہ تعلیمی ادارے، جو کبھی اسی نور کے امین اور اسلامی تہذیب و تمدن کے روشن مینار سمجھے جاتے تھے، آج ایک ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں علم کی روشنی مدھم ہوتی جا رہی ہے اور تہذیبی زوال کی تاریکیاں گہری ہوتی چلی جا رہی ہیں، چند برس قبل تک حالات میں اگرچہ کمزوری ہی سہی، مگر کچھ نہ کچھ توازن باقی تھا؛ حیا کی چادر پوری طرح تار تار نہیں ہوئی تھی اور اقدار کی سانس ابھی باقی تھی، مگر آج کا منظرنامہ ہر درد مند دل کو بے چین کر دینے کے لیے کافی ہے،

المیہ صرف یہ نہیں کہ چند ادارے اپنی سمت کھو بیٹھے ہیں، بلکہ افسوس اس بات کا ہے کہ یہ کیفیت اب تقریباً ہر چھوٹے بڑے تعلیمی ادارے میں دکھائی دینے لگی ہے، خواہ وہ کوئی معروف ڈگری کالج ہو، کسی محلے کا اسکول یا شہر کا بڑا تعلیمی مرکز، ہر جگہ تعلیم کے حقیقی مقصد سے زیادہ ظاہری چمک دمک اور وقتی نمائش کو اہمیت دی جا رہی ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے نئی نسل کو شعور، کردار اور تہذیب کے بجائے محض نمائشی سرگرمیوں میں الجھایا جا رہا ہو، اور آہستہ آہستہ اسے اپنی دینی و تہذیبی شناخت سے دور کیا جا رہا ہو،علم، جو کبھی کردار سازی، حیا، فکر اور بصیرت کی علامت تھا، اب رفتہ رفتہ محض ڈگری، نمائش اور وقتی تفریح کا عنوان بنتا جا رہا ہے، یہ تبدیلی صرف تعلیمی نظام کی کمزوری نہیں بلکہ پوری قوم کے فکری مستقبل کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہے!

آج تعلیمی اداروں میں علم و تحقیق کی فضا قائم کرنے کے بجائے زیادہ توجہ ایسی سرگرمیوں پر مرکوز ہوتی جا رہی ہے جن کا تعلیم کے حقیقی مقصد سے دور کا بھی تعلق نہیں، کبھی مدرز ڈے کے نام پر رنگا رنگ تقریبات منعقد کی جاتی ہیں، کبھی فادرز ڈے کے عنوان سے مغربی تہذیب کی اندھی تقلید کو فروغ دیا جاتا ہے، اور کبھی مختلف عنوانات کے تحت والدین کو بلا کر ایسی محفلیں سجائی جاتی ہیں جنہیں پی ٹی ایم (PTM) کا نام دیا جاتا ہے، بلاشبہ والدین اور اساتذہ کے درمیان رابطہ ایک مثبت عمل ہے، لیکن جب اس کا مقصد تعلیم و تربیت کے بجائے محض رسمی نمائش رہ جائے تو اس کی افادیت بھی ماند پڑ جاتی ہے،دل یہ سوچ کر بے اختیار تڑپ اٹھتا ہے کہ آخر ہماری وہ عظیم اسلامی تہذیب کہاں گم ہو گئی، جس میں والدین کی خدمت اور احترامِ زندگی کا مستقل شعار تھا؟

 ہمارا دین تو والدین کے حقوق کو کسی ایک دن کا محتاج نہیں بناتا، بلکہ ہر دن اور ہر لمحہ ان کی اطاعت، خدمت اور دعا کو سعادت قرار دیتا ہے، ایسے میں محض مخصوص ایام منانے کو اصل کامیابی سمجھ لینا ہماری تہذیبی کمزوری کی علامت ہے،اس سے بھی زیادہ تشویش ناک صورتِ حال وہ ہے جو غیر نصابی سرگرمیوں کے نام پر جنم لے رہی ہے، سیر و تفریح، ثقافتی پروگراموں اور مختلف تقریبات کی آڑ میں طالبات کو ایسے ماحول سے روشناس کرایا جاتا ہے جو ہماری دینی اقدار اور مشرقی روایات سے ہم آہنگ نہیں، تصاویر اور ویڈیوز بنانا، انہیں سوشل میڈیا پر نشر کرنا، اور بعض مواقع پر ایسے مناظر پیش کرنا جو شرم و حیا کے منافی ہوں، ایک نہایت افسوس ناک رجحان بنتا جا رہا ہے. 

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

﴿وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ﴾

"اپنے گھروں میں وقار کے ساتھ رہو اور سابقہ جاہلیت کی طرح اپنی زینت کی نمائش نہ کرو۔"

یہ آیت محض ایک حکم نہیں بلکہ اسلامی معاشرے کی پاکیزگی، حیا اور عزت و وقار کی بنیاد ہے، افسوس کہ آج انہی اقدار کو جدیدیت کے نام پر فراموش کیا جا رہا ہے، اور نئی نسل کو آہستہ آہستہ ایسی تہذیب کے سپرد کیا جا رہا ہے جس کی بنیادیں اسلامی فکر سے یکسر مختلف ہیں،تعلیمی ادارے محض اینٹوں اور پتھروں سے تعمیر شدہ عمارتوں کا نام نہیں، بلکہ وہ قوموں کی فکری، اخلاقی اور تہذیبی تعمیر گاہیں ہوتے ہیں، اگر انہی اداروں سے کردار کی خوشبو اٹھنے کے بجائے بے راہ روی کی آہٹ آنے لگے تو یہ صرف ایک ادارے کا نہیں بلکہ پوری قوم کے مستقبل کا سانحہ ہے. 

اے اربابِ تعلیم! اے قوم کے معمارو! ذرا توقف کیجیے اور اپنے گریبان میں جھانکیے؟ یاد رکھیے، کسی ادارے کی اصل عظمت اس کی بلند و بالا عمارتوں، جدید سہولیات یا رنگا رنگ تقریبات میں نہیں، بلکہ ان کرداروں میں ہوتی ہے جو وہاں سے تیار ہو کر معاشرے میں قدم رکھتے ہیں. 

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں علم کے ساتھ کردار کی بھی امین ہوں، تو اپنی تمام تر توانائیاں ان کی علمی، اخلاقی اور دینی تربیت پر صرف کیجیے، ان کے دلوں میں اللہ کی محبت، رسول اللہ ﷺ کی سنت سے وابستگی، والدین کی اطاعت، اساتذہ کا احترام اور شرم و حیا کی عظمت پیدا کیجیے، یہی وہ سرمایہ ہے جو ایک مضبوط، باوقار اور مہذب معاشرے کی بنیاد بنتا ہے. 

یاد رکھیے! آج آپ جو بیج بوئیں گے، کل پوری قوم اسی کی فصل کاٹے گی، اگر ان دلوں میں ایمان، علم، حیا اور کردار کا بیج بویا گیا تو اس کا پھل امن، عزت اور خوش حالی کی صورت میں ظاہر ہوگا، اور اگر انہی اندھی تقلید، بے مقصد تفریح اور تہذیبی بے راہ روی کے حوالے کر دیا گیا تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی. 

آئیے! ہم سب مل کر اس عہد کی تجدید کریں کہ اپنے تعلیمی اداروں کو دوبارہ علم، کردار، حیا اور تہذیبِ اسلامی کے روشن مینار بنائیں گے، تاکہ یہاں سے نکلنے والی ہر نسل اپنے دین، اپنی تہذیب اور اپنی شناخت پر فخر کرنے والی نسل ہو.

(مضمون میں پیش کی گئی آرا و تجاویز خالصتاً مضمون نگار کی اپنی ہیں، اسے ادراہ نوکِ قلم کے ساتھ منسوب نہیں کیا جانا چاہیے. وہیں ادارہ کا مضمون نگار کی آرا سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے) 



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!