Ad
ادب

غزل...... از عشیار عبداللہ

✍️ :. عشیار عبداللہ 


7006347399

ویران دریچوں پر گھر کے کچھ یاد کے دیپک جلتے ہیں 

شب بھر یہ ہوا سے لڑتے ہیں پھر صبح کو آخر بجھتے ہیں 

--------------------------------------------

الفاظ یہاں کچھ ایسے ہیں معنی کو ترستے رہتے ہیں 

ملتی ہے زباں ہر غم کو کہاں، کچھ غم آہوں میں ڈھلتے ہیں 

---------------------------------------------

اس خاک نشینی میں رہ کر ہم نے تو فقط یہ جانا ہے 

اک تیز ہوا کے جھونکے سے سب تاش محل گر جاتے ہیں 

----------------------------------------------

پیوند لگے اس دامن کو اب جا کے کہاں ہم دھوئیں گے 

آنکھوں کا سہارا لیتے تھے، اب اشک بغاوت کرتے ہیں 

------------------------------------------------

نم ناک یہ آنکھیں رہتی ہیں، اشکوں سے ہوئیں لیکن خالی 

مخمور نظر یہ آتی ہیں، ایسا بھی نہیں ہم پیتے ہیں 

------------------------------------------------

جو شخص بہ ظاہر ہنستا ہے ممکن ہے اندر سےٹوٹا ہو 

کچھ لوگ نبھاتے ہیں ایسے، ہر غم کو ہنسی میں اڑاتے ہیں 

--------------------------------------------------

جب راکھ مرے کاشانے کی عشیار اڑی تھی فضاؤں میں 

محسوس کیا تب یہ میں نے، کچھ لوگ پرندے ہوتے ہیں



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!