ادب
غزل...... از عشیار عبداللہ

7006347399
ویران دریچوں پر گھر کے کچھ یاد کے دیپک جلتے ہیں
شب بھر یہ ہوا سے لڑتے ہیں پھر صبح کو آخر بجھتے ہیں
--------------------------------------------
الفاظ یہاں کچھ ایسے ہیں معنی کو ترستے رہتے ہیں
ملتی ہے زباں ہر غم کو کہاں، کچھ غم آہوں میں ڈھلتے ہیں
---------------------------------------------
اس خاک نشینی میں رہ کر ہم نے تو فقط یہ جانا ہے
اک تیز ہوا کے جھونکے سے سب تاش محل گر جاتے ہیں
----------------------------------------------
پیوند لگے اس دامن کو اب جا کے کہاں ہم دھوئیں گے
آنکھوں کا سہارا لیتے تھے، اب اشک بغاوت کرتے ہیں
------------------------------------------------
نم ناک یہ آنکھیں رہتی ہیں، اشکوں سے ہوئیں لیکن خالی
مخمور نظر یہ آتی ہیں، ایسا بھی نہیں ہم پیتے ہیں
------------------------------------------------
جو شخص بہ ظاہر ہنستا ہے ممکن ہے اندر سےٹوٹا ہو
کچھ لوگ نبھاتے ہیں ایسے، ہر غم کو ہنسی میں اڑاتے ہیں
--------------------------------------------------
جب راکھ مرے کاشانے کی عشیار اڑی تھی فضاؤں میں
محسوس کیا تب یہ میں نے، کچھ لوگ پرندے ہوتے ہیں