Ad
مضامین

میٹھی زبان، ادھار کا جال!

✍️ :. اعجاز جعفر / سرینگر 


​کسی بھی معاشرے میں تجارت اور کاروبار باہمی بھروسے اور دیانت داری پر چلتے ہیں۔ لیکن آج کل ہمارے بازاروں اور کاروباری حلقوں میں ایک انتہائی خطرناک اور تکلیف دہ رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے۔ وہ یہ کہ بعض لوگ اپنی چاپلوس اور میٹھی زبان کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں، جس کا شکار اکثر ہمارے بھولے بھالے دکاندار بھائی ہو جاتے ہیں۔

​بہت سے ایسے گاہک ہوتے ہیں جو دکاندار سے ادھار مال لیتے وقت اپنی زبان سے ایسے ایسے بلند و بانگ دعوے، قسمیں اور وعدے کر بیٹھتے ہیں کہ دکاندار سمجھتا ہے کہ شاید اس کے سامنے کوئی "ولی اللہ" کھڑا ہے۔ وہ اس کی ظاہری شرافت اور میٹھی باتوں میں آ کر اسے لاکھوں کا مال ادھار دے دیتا ہے۔

​لیکن اصل امتحان تب شروع ہوتا ہے جب رقم کی واپسی کا وقت آتا ہے۔ یہی "ولی اللہ" بننے والے لوگ یکدم بدل جاتے ہیں اور ٹال مٹول، حیلے بہانوں اور جھوٹ کا سہارا لے کر دکاندار کو چکر پر چکر دینا شروع کر دیتے ہیں۔ اس بدسلوکی اور ٹال مٹول کی وجہ سے دکاندار کے کاروبار پر انتہائی منفی اثر پڑتا ہے، اور وہ خود دوسروں کا قرضہ چکانے کے قابل نہیں رہتا۔

​جب دکاندار مجبور ہو کر اس کے گھر جاتا ہے، یا محلے کی ذی حس کمیٹیوں اور معززین سے فریاد کرتا ہے، تو یہ بددیانت مقروض وہاں بھی اپنی چرب زبانی سے کمیٹی کے ممبران کو گھماتا ہے اور مختلف کہانیاں گھڑ کر معاملے کو طول دیتا ہے۔

​بحیثیت دکاندار میرے ساتھ کئی بار ایسے تلخ واقعات پیش آ چکے ہیں۔ حد تو یہ ہو جاتی ہے کہ جب ہم اپنی حلال کمائی اور ڈوبتے ہوئے پیسے وصول کرنے کے لیے کوئی سخت اقدام کرتے ہیں، تو آگے سے ہمیں ہی دھمکیاں ملنا شروع ہو جاتی ہیں۔ کوئی پولیس کی دھمکی دیتا ہے، تو کوئی اس سے بھی بڑا مکر کرتے ہوئے کہتا ہے: "اگر تم نے پیسے مانگے، تو میں پولیس میں رپورٹ کر دوں گا کہ یہ شخص ہتھیار لے کر مجھے جان سے مارنے اور دھمکانے آیا تھا۔" اس گھناؤنے ہتھکنڈے کا مقصد صرف اور صرف دکاندار پر دباؤ ڈال کر اس کے پیسے ہڑپ کرنا ہوتا ہے۔

​ایسے بہت سے معاملات میں، میں نے اپنی عزتِ نفس کی خاطر اور خاندانی سکون کے لیے پیسوں کی قربانی دے دی اور اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کی عدالت کے سپرد کر دیا۔ ایسے لوگ عارضی طور پر تو دکاندار کا پیسہ ہڑپ کر کے خوش ہو جاتے ہیں، لیکن قدرت کا اصول ہے کہ وقت آنے پر وہ معاشرے میں بالکل ننگے ہو جاتے ہیں۔ سوسائٹی ان سے کٹ جاتی ہے، ان کا سماجی بائیکاٹ ہو جاتا ہے اور کوئی بھی ذی شعور انسان ان پر دوبارہ بھروسہ نہیں کرتا۔

​ایسے لوگوں کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ رحیم و کریم ہے۔ وہ حقوق اللہ (نماز، روزہ وغیرہ) میں کمی بیشی کو تو اپنی رحمت سے جسے چاہے معاف فرما دے، مگر حقوق العباد (بندوں کے حقوق) میں تب تک کوئی بخشش نہیں ہے جب تک وہ صاحبِ حق اپنا حق معاف نہ کر دے یا اسے اس کا حق نہ مل جائے۔

​قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے مال کو ناجائز طریقے سے کھانے اور وعدہ خلافی کی سخت مذمت فرمائی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

​يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ > "اے ایمان والو! ایک دوسرے کے مال آپس میں ناحق طریقے سے نہ کھاؤ۔" (سورہ النساء: 29)

​اسی طرح قرض کی ادائیگی میں جان بوجھ کر تاخیر کرنے اور ٹال مٹول کرنے کو رسول اللہ ﷺ نے "ظلم" قرار دیا ہے۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے:

​"مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ" > "مالدار (قرض ادا کرنے کی طاقت رکھنے والے) کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔" (صحیح بخاری)

​قیامت کے دن ایسے بددیانت لوگوں کا انجام کیا ہوگا؟ اس کا اندازہ نبی کریم ﷺ کی اس مشہور حدیث سے لگایا جا سکتا ہے جس میں آپ ﷺ نے اپنی امت کے "مفلس اور غریب" شخص کی تعریف فرمائی۔ آپ ﷺ نے صحابہ سے پوچھا: "تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟" صحابہ نے عرض کیا: "جس کے پاس درہم و دینار نہ ہوں"۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

​"میری امت کا مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ (جیسی نیکیوں کے انبار) لے کر آئے گا، لیکن اس نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا اور کسی کو مارا ہوگا۔ چنانچہ اس کی نیکیاں ان حقداروں میں بانٹ دی جائیں گی، اور اگر اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں اور بندوں کے حقوق باقی رہ گئے، تو ان حقداروں کے گناہ اس کے سر پر ڈال دیے جائیں گے اور پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔" (صحیح مسلم)

​دکانداروں کے لیے ایک اہم اور مخلصانہ مشورہ

​موجودہ دور کے ان حالات اور اخلاقی پستی کو دیکھتے ہوئے، میں اپنے تمام دکاندار بھائیوں سے دردمندانہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے کاروبار کو بچانے کے لیے درج ذیل باتوں پر سختی سے عمل کریں۔

​جہاں تک ممکن ہو سکے، ادھار کا سلسلہ بالکل بند کر دیں اور اپنے کام کو نقد (Cash) پر چلائیں۔ "آج نقد، کل ادھار" کے اصول کو اپنا صول بنا لیں۔ اگر کسی انتہائی مجبور اور قابلِ بھروسہ گاہک کے ساتھ ادھار کا لین دین کرنا ہی پڑ جائے، تو صرف زبانی باتوں پر یقین نہ کریں بلکہ ادھار دیتے وقت گاہک سے بینک کا چیک (Check) یا قانونی حلف نامہ (Affidavit) لازمی لیں اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے آدھار کارڈ (Aadhaar Card) یا پین کارڈ (PAN Card) کی کاپی اپنے پاس محفوظ رکھیں اور اس پورے معاملے پر دو معزز افراد کو گواہ (Witness) بنائیں، تاکہ کل کو وہ مکر نہ سکے اور نہ ہی آپ کو بلیک میل کر سکے۔

​تجارت میں احتیاط برتنا عینِ شریعت ہے۔ قرآنِ پاک کی (سورہ البقرہ، آیت 282) کا موضوع ہی یہی ہے کہ جب تم آپس میں ادھار کا معاملہ کرو، تو اسے لکھ لیا کرو۔ آئیے! اپنی زبان کے پکے بنیں، دوسروں کے حقوق ادا کریں اور اپنے کاروبار کو چاپلوسوں کے مکر سے محفوظ رکھیں۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!