Ad
مضامین

ٹیچر ایلیجیبلیٹی ٹیسٹ (TET) ایک امتحان، کئی سوال

✍🏼 اِکز اِقبال / سہی پورا قاضی آباد


تعلیم کسی بھی قوم کے مستقبل کی بنیاد ہوتی ہے، اور اس بنیاد کو مضبوط بنانے کی ذمہ داری اساتذہ کے کندھوں پر ہوتی ہے۔ ایک استاد محض کتابی اسباق نہیں پڑھاتا بلکہ وہ ذہنوں کی تعمیر، کردار کی تشکیل اور آنے والی نسلوں کی سمت متعین کرتا ہے۔ اسی لیے جب تعلیم اور تدریس کے معیار کی بات ہو تو جذبات سے زیادہ بچوں کے مفاد اور تعلیمی معیار کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہو جاتا ہے۔

گزشتہ کچھ عرصے سے جموں و کشمیر میں ٹیچر ایلیجیبلیٹی ٹیسٹ (TET) کے حوالے سے بحث جاری ہے۔ کچھ لوگ اسے اساتذہ پر غیر ضروری بوجھ قرار دیتے ہیں، جبکہ دیگر اسے معیاری تعلیم کی ضمانت سمجھتے ہیں۔ میری رائے میں اس بحث کا مرکز استاد یا حکومت نہیں بلکہ وہ بچہ ہونا چاہیے جس کا مستقبل ایک کلاس روم میں تشکیل پا رہا ہے۔

میں نے 2024 میں اپنی پہلی ہی کوشش میں CTET کوالیفائی کیا۔ اپنے تجربے کی بنیاد پر میں پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ نہ کوئی ناممکن امتحان ہے اور نہ ہی غیر معقول۔ یہ بنیادی تدریسی فہم، مضمون پر گرفت اور تدریسی صلاحیتوں کا جائزہ لیتا ہے، جو ہر استاد میں موجود ہونی چاہئیں۔

مجھے اساتذہ سے بے حد احترام اور عقیدت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے تجربہ کار اساتذہ نے برسوں تک قوم کی خدمت کی ہے اور شاید انہیں کبھی ایسی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا چاہیے تھا جہاں ان کی صلاحیت پر سوال اٹھایا جائے۔ لیکن اگر قانون اور تعلیمی پالیسی کے تحت ایک اہلیتی امتحان لازم قرار دیا گیا ہے تو اس کا جواب مزاحمت نہیں بلکہ اعتماد ہونا چاہیے۔

ایک استاد کی حیثیت سے میں سمجھتا ہوں کہ ٹی ای ٹی نہ کوئی سزا ہے اور نہ ہی تدریسی برادری کی توہین۔ یہ دراصل ایک پیشہ ورانہ معیار (Professional Benchmark) ہے جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ہر بچے تک ایک اہل، باصلاحیت اور مؤثر استاد پہنچے۔ آخر جب ڈاکٹر، انجینئر، وکیل اور سول سروس کے امیدوار مختلف امتحانات اور جانچ کے مراحل سے گزرتے ہیں تو تدریس جیسے عظیم اور حساس پیشے کو اس سے مستثنیٰ کیوں سمجھا جائے؟

استاد یقیناً معاشرے کا معمار ہوتا ہے۔ وہ صرف کتاب نہیں پڑھاتا بلکہ ذہنوں کو ترتیب دیتا، کردار کو نکھارتا اور خوابوں کو سمت عطا کرتا ہے۔ ایک اچھا استاد قوموں کے مقدر بدل سکتا ہے۔ اسی لیے ہمارے معاشرے میں استاد کو ہمیشہ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے۔ میں خود تدریس اور تعلیمی انتظام و انصرام سے وابستہ ہوں اور بخوبی جانتا ہوں کہ ایک استاد کن مشکلات، قربانیوں اور ذمہ داریوں کے ساتھ اپنا فرض ادا کرتا ہے۔ لیکن عزت اور احتساب ایک دوسرے کی ضد نہیں ہوتے۔

دراصل کسی بھی پیشے کا وقار اسی وقت مستحکم ہوتا ہے جب وہ معیار اور جواب دہی کے اصولوں پر قائم ہو۔ ایک ڈاکٹر سے اس کی مہارت کا ثبوت طلب کیا جاتا ہے، ایک وکیل کو امتحانات سے گزرنا پڑتا ہے، ایک سرکاری افسر متعدد مراحلِ جانچ سے گزرتا ہے۔ پھر اگر ایک استاد سے یہ توقع کی جائے کہ وہ بنیادی تدریسی صلاحیتوں اور موضوعاتی فہم کا مظاہرہ کرے تو اسے توہین کیوں سمجھا جائے؟

ہمیں یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی ہوگی کہ ڈگریاں ہمیشہ قابلیت کی ضمانت نہیں ہوتیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے افراد کی کمی نہیں جن کے نام کے ساتھ کئی تعلیمی اسناد جڑی ہوئی ہیں، مگر عملی میدان میں ان کی کارکردگی ان کاغذی کامیابیوں کا ساتھ نہیں دے پاتی۔ تعلیم صرف سند کا نام نہیں، بلکہ علم، فہم، اظہار، تدبر اور مسلسل سیکھتے رہنے کے عمل کا نام ہے۔

ٹی ای ٹی بھی کوئی غیر معمولی یا ناقابلِ عبور امتحان نہیں۔ یہ کسی کی ذہانت کا آخری فیصلہ نہیں کرتا، بلکہ صرف یہ جانچنے کی کوشش کرتا ہے کہ آیا ایک استاد کے پاس وہ بنیادی علمی اور تدریسی صلاحیت موجود ہے جس کی ایک کلاس روم کو ضرورت ہوتی ہے یا نہیں۔

اصل مسئلہ شاید امتحان نہیں بلکہ ہمارا اجتماعی رویہ ہے۔ ہم اکثر جانچ پڑتال کو تضحیک سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ ترقی یافتہ معاشروں میں احتساب کو بہتری کا راستہ تصور کیا جاتا ہے۔ وہاں امتحان کو دیوار نہیں بلکہ آئینہ سمجھا جاتا ہے۔ ایسا آئینہ جس میں انسان اپنی کمزوریوں کو دیکھ کر انہیں دور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

مجھے کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم بحث کو اصل موضوع سے دور لے جا رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ استاد کا وقار زیادہ اہم ہے یا امتحان۔ سوال یہ ہے کہ ایک بچے کا مستقبل زیادہ اہم ہے یا ہماری انا؟

ہر سال ہزاروں والدین اپنے بچوں کو سکولوں کے حوالے کرتے ہیں۔ وہ صرف کتابیں نہیں بلکہ اپنی امیدیں بھی اساتذہ کے سپرد کرتے ہیں۔ ان امیدوں کا حق یہی ہے کہ کلاس روم میں کھڑا ہر استاد علمی اعتبار سے مضبوط، فکری اعتبار سے بیدار اور تدریسی اعتبار سے مؤثر ہو۔

جموں و کشمیر صدیوں سے علم و ادب کی سرزمین رہی ہے۔ یہاں کے مدارس، خانقاہیں، مکتب اور علمی مراکز ایک درخشاں روایت کے امین رہے ہیں۔ یہ روایت کبھی رعایتوں سے زندہ نہیں رہی، بلکہ ہمیشہ قابلیت، محنت اور علمی دیانت داری سے پروان چڑھی ہے۔ اگر ہم واقعی اس ورثے کے امین ہیں تو ہمیں معیار سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے۔

تعلیم کا بحران کبھی صرف عمارتوں سے حل نہیں ہوتا اور نہ ہی صرف نصاب بدل دینے سے۔ اس کے لیے اچھے اساتذہ، مؤثر تربیت، مسلسل پیشہ ورانہ ترقی اور جواب دہی کا نظام درکار ہوتا ہے۔ ٹی ای ٹی اس پورے نظام کا صرف ایک جزو ہے، لیکن ایک ضروری جزو۔

 اگر ایک امتحان منصفانہ ہے، شفاف ہے اور بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے ہے تو پھر اس سے خوف کیسا؟ قومیں اپنے مستقبل کو نعروں سے نہیں، معیار سے محفوظ بناتی ہیں۔ اور معیار ہمیشہ وہاں جنم لیتا ہے جہاں قابلیت کو ترجیح دی جاتی ہے، رعایت کو نہیں۔ شاید اسی لیے تاریخ میں وہی معاشرے آگے بڑھ سکے جنہوں نے اپنے معیار بلند کیے، نہ کہ انہیں اپنی سہولت کے مطابق کم کیا۔

اور جب کبھی آنے والی نسلیں ہمارے فیصلوں کا حساب کریں گی تو وہ یہ نہیں پوچھیں گی کہ ہم نے کتنی بحثیں کیں، کتنے مطالبے اٹھائے یا کتنی رعایتیں حاصل کیں؛ وہ صرف یہ دیکھیں گی کہ ہم نے ان کے لیے کیسا تعلیمی نظام چھوڑا تھا۔

مضمون نگار کشمیر سے تعلق رکھنے والے کالم نگار اور تعلیمی شعبے سے وابستہ ہیں۔ 

رابطہ: 7006857283

ای میل: ikkzikbal@gmail.com



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!