Ad
مضامین

یہ التجا مفتی کون ہے؟

✍️ :۔ محمد رفیق راتھر 


آج کل جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک سوال بار بار سنائی دیتا ہے: "یہ التجا مفتی کون ہے؟" یہ سوال نیشنل کانفرنس کے بعض رہنما، وزراء اور ترجمان اکثر اٹھاتے رہتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سوال خود اپنے اندر ایک سیاسی اعتراف بھی رکھتا ہے۔ اگر التجا مفتی غیر اہم ہوتیں تو ان کا نام اتنی شدت سے سیاسی بحث کا موضوع نہ بنتا اور نہ ہی ان کے بیانات پر مسلسل ردعمل سامنے آتا۔

التجا مفتی کسی سرکاری عہدے پر فائز نہیں ہیں، نہ وہ وزیر ہیں، نہ رکن اسمبلی اور نہ ہی کسی آئینی منصب کی حامل ہیں۔ ان کی اصل شناخت یہ ہے کہ وہ ایک سیاسی خاندان سے تعلق رکھنے والی ایسی نوجوان خاتون ہیں جنہوں نے مشکل ترین حالات میں اپنی سیاسی رائے اور عوامی مسائل کے بارے میں آواز بلند کی۔ وہ سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کی صاحبزادی ہیں، مگر صرف یہی ان کی شناخت نہیں۔

جموں و کشمیر کی سیاست میں خاندانی پس منظر رکھنے والے افراد کا سیاست میں متحرک ہونا کوئی نئی بات نہیں۔ نیشنل کانفرنس، کانگریس، بی جے پی اور دیگر جماعتوں میں بھی سیاسی خاندانوں کے افراد اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ اگر کسی سیاستدان کا بیٹا یا بیٹی سیاسی معاملات پر اظہار خیال کرے تو اسے غیر معمولی نہیں سمجھا جاتا۔ پھر صرف التجا مفتی کے حوالے سے ہی یہ سوال کیوں اٹھایا جاتا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ التجا مفتی نے گزشتہ چند برسوں میں عوامی مسائل، انسانی حقوق، نوجوانوں کے مستقبل، روزگار، زمینوں کے تحفظ اور جموں و کشمیر کی سیاسی صورتحال پر مسلسل بات کی ہے۔ انہوں نے ایسے وقت میں اپنی آواز بلند کی جب بہت سے لوگ خاموش رہنے کو ترجیح دے رہے تھے۔ ان کے بیانات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کی سیاست پر تنقید کی جا سکتی ہے، مگر ان کے حقِ اظہار پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جموں و کشمیر کی سیاست ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں نوجوان نسل محض تماشائی بن کر رہنے کے لیے تیار نہیں۔ نوجوان اپنے مستقبل، شناخت، روزگار اور سیاسی حقوق کے بارے میں سوالات اٹھا رہے ہیں اور اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔ التجا مفتی اسی نئی نسل کی ایک نمائندہ آواز کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر نہ صرف اپنی رائے کا اظہار کیا بلکہ عوامی مسائل کو بھی اجاگر کرنے کی کوشش کی۔

التجا مفتی نے صرف سیاسی بیانات تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ جموں و کشمیر کے عوامی جذبات، احساسات اور خدشات کی ترجمانی بھی کی ہے۔ خصوصاً 5 اگست 2019 کے بعد پیدا ہونے والی غیر معمولی سیاسی صورتحال میں انہوں نے ان موضوعات پر کھل کر بات کی جن پر بہت سے لوگ خاموش رہنے کو ترجیح دے رہے تھے۔ جموں و کشمیر کے سلب شدہ آئینی حقوق، شناخت اور وقار کی بحالی، مقامی زمینوں اور وسائل کے تحفظ، نوجوانوں کے روزگار اور سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن کے بڑھتے ہوئے تنازع جیسے حساس معاملات پر ان کا مؤقف واضح اور دوٹوک رہا ہے۔

جموں و کشمیر کے ہزاروں نوجوانوں میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ ان کے مستقبل، روزگار اور مواقع سے متعلق فیصلے ان کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق نہیں ہو رہے۔ ایسے میں التجا مفتی نے ان خدشات کو سیاسی اور عوامی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی۔ زمینوں کے تحفظ، مقامی حقوق، روزگار کے مواقع اور سیاسی اختیارات کی بحالی جیسے موضوعات پر ان کی مسلسل آواز نے انہیں نوجوان نسل کے ایک بڑے حلقے میں قابلِ توجہ مقام دلایا ہے۔

سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں نئی آوازوں کو ابتدا میں تنقید اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر جمہوری معاشروں میں شخصیات نہیں بلکہ خیالات اور دلائل کا مقابلہ کیا جاتا ہے۔ اگر التجا مفتی کی باتیں غلط ہیں تو ان کا جواب حقائق اور دلیل سے دیا جانا چاہیے۔ محض یہ پوچھتے رہنا کہ "یہ التجا مفتی کون ہے؟" دراصل اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے مترادف ہے۔

مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ جو لوگ بار بار پوچھتے ہیں کہ "یہ التجا مفتی کون ہے؟" دراصل وہ خود ان کی سیاسی اہمیت کو تسلیم کر رہے ہوتے ہیں۔ سیاست میں کسی شخصیت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاتا ہے کہ مخالفین اس کا ذکر کتنی بار کرتے ہیں۔ اگر التجا مفتی کی باتوں کا کوئی اثر نہ ہوتا تو ان کے مخالفین کو ان پر ردعمل دینے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوتی۔

جموں و کشمیر کی سیاسی تاریخ میں خواتین کا کردار ہمیشہ قابلِ ذکر رہا ہے، مگر بدقسمتی سے خواتین سیاستدانوں اور سماجی کارکنوں کو اکثر مرد سیاستدانوں کے مقابلے میں زیادہ سخت تنقید اور ذاتی حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی نوجوان خاتون اپنی سیاسی رائے کا اظہار کرتی ہے اور عوامی مسائل پر بات کرتی ہے تو یہ جمہوری عمل کے لیے ایک مثبت پیش رفت سمجھی جانی چاہیے، نہ کہ اسے تنقید کا نشانہ بنا کر خاموش کرانے کی کوشش کی جائے۔

عوام آج یہ جاننا چاہتے ہیں کہ بے روزگاری کیسے کم ہوگی، نوجوانوں کو روزگار کب ملے گا، زمینوں اور وسائل کا تحفظ کیسے ہوگا اور جموں و کشمیر کے سیاسی حقوق کی بحالی کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے۔ سیاست کا اصل مقصد بھی یہی ہونا چاہیے۔ کسی شخصیت کو ہدف بنانے کے بجائے عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینا ہی سیاسی بلوغت اور جمہوری ذمہ داری کی علامت ہے۔

جمہوریت کی بنیاد ہی یہ ہے کہ ہر شہری کو اپنی رائے رکھنے اور اس کا اظہار کرنے کا حق حاصل ہو۔ اگر ایک نوجوان خاتون سیاسی معاملات پر گفتگو کرتی ہے تو اس کا جواب دلیل سے دیا جانا چاہیے، نہ کہ اس کے وجود یا شناخت پر سوال اٹھا کر۔ سیاسی اختلاف جمہوریت کا حسن ہے، لیکن سیاسی مخالفین کی تضحیک یا ان کی شناخت کو موضوعِ بحث بنانا جمہوری روایات کو کمزور کرتا ہے۔

لہٰذا جب اگلی بار کوئی پوچھے کہ "یہ التجا مفتی کون ہے؟" تو جواب سادہ ہے: وہ جموں و کشمیر کی ایک نوجوان سیاسی آواز ہیں جن کی باتوں سے اتفاق یا اختلاف کیا جا سکتا ہے، مگر جنہیں نظر انداز کرنا ان کے ناقدین کے لیے بھی ممکن نہیں رہا۔ اگر وہ غیر اہم ہوتیں تو ان کا ذکر روزانہ سیاسی بیانات میں نہ ہوتا۔ ان کی موجودگی اور ان پر ہونے والی بحث اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ریاست کی سیاسی گفتگو کا ایک اہم حصہ بن چکی ہیں۔

اصل سوال یہ نہیں کہ التجا مفتی کون ہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ان کی اٹھائی ہوئی باتوں اور عوامی مسائل کا جواب کیا ہے۔ جمہوریت میں شخصیات نہیں، مسائل اور نظریات اہم ہوتے ہیں۔ جو سیاست عوامی مسائل کے بجائے شخصیات کے گرد گھومنے لگے، وہ اپنی اصل ذمہ داری سے دور ہو جاتی ہے۔ جموں و کشمیر کے عوام بھی آج یہی چاہتے ہیں کہ ان کے مسائل پر بات ہو، ان کے حقوق کی بات ہو اور ان کے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ گفتگو ہو۔ یہی کسی بھی صحت مند جمہوری معاشرے کی پہچان ہے۔

مضمون نگار  ٹریڈ یونین و سیاسی لیڈر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک معروف قلمکار بھی ہیں۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!