مضامین
مسلکی مناظرہ بازی اور اتحادِ امت کو درپیش چیلنجز

مسلکی مناظرہ بازی اور اتحادِ امت کو درپیش چیلنجز وادیٔ کشمیر کے امن، اخوت اور دینی تشخص کے تناظر میں
اسلام اخوت، اتحاد، عدل اور خیر خواہی کا دین ہے۔ قرآنِ مجید نے امتِ مسلمہ کو ایک امت قرار دیتے ہوئے ہر قسم کے تفرقہ، انتشار اور گروہی عصبیت سے بچنے کی تلقین کی ہے۔ افسوس کہ آج امت مسلمہ کو درپیش بڑے چیلنجوں کے باوجود بعض حلقوں میں مسلکی مناظرہ بازی، فرقہ وارانہ کشمکش اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی روش فروغ پا رہی ہے، جس کا سب سے زیادہ نقصان نوجوان نسل اور معاشرتی امن کو پہنچ رہا ہے۔
حالیہ عرصے میں سوشل میڈیا پر بعض نام نہاد مسلکی نمائندوں کی جانب سے ایسے مناظرے اور مباحث سامنے آئے ہیں جن میں علمی وقار، دعوتی حکمت اور اخلاقی سنجیدگی کے بجائے اشتعال انگیزی، تحقیر اور مخالفین کی کردار کشی کو ترجیح دی گئی۔ ایسے طرزِ عمل سے نہ دین کی خدمت ہوتی ہے اور نہ امت کی اصلاح، بلکہ اس سے نوجوانوں کے دلوں میں نفرت، تعصب اور انتشار پیدا ہوتا ہے اور معاشرے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔
قرآنِ حکیم مسلمانوں کو واضح الفاظ میں حکم دیتا ہے:
"وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا" (آل عمران: 103)
ترجمہ: "سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔"
قرآنِ مجید نے سابقہ امتوں کی گمراہی کے اسباب بیان کرتے ہوئے ہمیں متنبہ کیا ہے کہ فرقہ بندی اور گروہی تعصب تباہی کا راستہ ہے:
"وَقَالَتِ الْيَهُودُ لَيْسَتِ النَّصَارٰى عَلٰى شَيْءٍ وَقَالَتِ النَّصَارٰى لَيْسَتِ الْيَهُودُ عَلٰى شَيْءٍ" (البقرہ: 113)
ترجمہ: "یہودی کہتے ہیں کہ نصاریٰ کے پاس کچھ نہیں اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ یہودیوں کے پاس کچھ نہیں۔"
اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ" (الأنعام: 159)
ترجمہ: "جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور گروہوں میں بٹ گئے، ان سے آپ کا کوئی تعلق نہیں۔"
اور فرمایا:
"كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ" (الروم: 32)
ترجمہ: "ہر گروہ اسی چیز پر خوش ہے جو اس کے پاس ہے۔"
یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے امت کی اصل شناخت کسی مسلک یا گروہ کے بجائے "مسلمان" قرار دی:
"هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِنْ قَبْلُ" (الحج: 78)
ترجمہ: "اسی نے تمہارا نام پہلے بھی مسلمان رکھا تھا۔"
رسول اللہ ﷺ نے بھی امت کے اتحاد کو بنیادی اہمیت دیتے ہوئے فرمایا:
"المؤمن للمؤمن كالبنيان يشد بعضه بعضاً"
ترجمہ: "ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔"
اور فرمایا:
"لا تباغضوا ولا تحاسدوا ولا تدابروا وكونوا عباد الله إخواناً"
ترجمہ: "آپس میں بغض نہ رکھو، حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے منہ نہ موڑو اور اللہ کے بندے بن کر بھائی بھائی بن جاؤ۔"
وادیٔ کشمیر کی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ یہاں اسلام کی اشاعت علمائے حق، داعیانِ اسلام اور ساداتِ کرام کی دعوت و کردار کے ذریعے ہوئی۔ حضرت میر سید علی ہمدانیؒ اور ان کے رفقائے کرام نے اس سرزمین پر توحید، اخلاق، عدل اور اخوت کا پیغام عام کیا۔ اسی طرح شیخ نورالدین نورانیؒ نے محبت، رواداری اور خیر خواہی کی تعلیمات کے ذریعے لوگوں کے دلوں کو جوڑا۔ ان اکابرین کی دعوت کا محور امت کو متحد کرنا تھا، نہ کہ اسے فرقوں اور گروہوں میں تقسیم کرنا۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ آج جب ہمارا معاشرہ منشیات، سگریٹ نوشی، اخلاقی بے راہ روی، تعلیمی پسماندگی، بے روزگاری اور نوجوانوں کے فکری بحران جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے، تو بعض نام نہاد علماء اور مقررین اپنی توانائیاں مسلکی مناظروں اور سوشل میڈیا کی لفظی جنگوں پر صرف کر رہے ہیں۔ نوجوان نسل کو نشے کی لعنت، جرائم اور اخلاقی زوال سے بچانے کے بجائے انہیں ایسے مباحث میں الجھایا جا رہا ہے جن کا دین اور معاشرے کی تعمیر سے کوئی تعلق نہیں۔
علمائے حق کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ وہ نوجوانوں کو قرآن و سنت سے جوڑیں، انہیں منشیات، سگریٹ نوشی اور دیگر سماجی برائیوں سے بچائیں، ان کی اخلاقی و فکری تربیت کریں اور انہیں ایک باکردار اور ذمہ دار شہری بنائیں۔ اگر ہماری مساجد، مدارس اور دینی اجتماعات نوجوانوں کی اصلاح، کردار سازی اور قرآن فہمی کے مراکز بن جائیں تو معاشرے کے بہت سے مسائل خود بخود کم ہو سکتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ امت کے موجودہ فکری انتشار اور مسلکی کشمکش کا سب سے مؤثر علاج قرآن کو مرکزِ دعوت بنانا ہے۔ قرآنِ مجید وہ واحد بنیاد ہے جس پر تمام مسلمان متفق ہیں۔ جب دعوت کا مرکز اشخاص، جماعتیں اور مسلکی شناختیں بن جاتی ہیں تو اختلافات بڑھ جاتے ہیں، لیکن جب قرآن اور سنت دعوت کا محور بن جائیں تو مشترکات نمایاں ہوتے ہیں اور اختلافات کی شدت کم ہو جاتی ہے۔
اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ کشمیر سمیت پورے معاشرے میں قرآنی دروس، حلقہ ہائے قرآن، فہمِ قرآن کی مجالس، مطالعاتی حلقے اور قرآنی بیداری کی تحریکیں قائم کی جائیں۔ مساجد، مدارس، اسکولوں، کالجوں اور سماجی اداروں میں قرآن کے پیغام کو عام کیا جائے تاکہ نوجوان نسل اپنی اصل دینی شناخت اور مقصدِ زندگی سے آشنا ہو سکے۔
اس موقع پر امن و امان کے قیام اور سماجی ہم آہنگی کے لیے کام کرنے والے متعلقہ اداروں سے بھی دردمندانہ اپیل ہے کہ وہ ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کریں جو سوشل میڈیا یا عوامی اجتماعات میں مسلکی منافرت، اشتعال انگیزی اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دیتے ہیں۔ اظہارِ رائے کی آزادی اپنی جگہ، لیکن کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ معاشرے کے امن، نوجوانوں کی فکری سلامتی اور امت کے اتحاد کو نقصان پہنچائے۔
کشمیر کے امن، نوجوانوں کے روشن مستقبل اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کا تقاضا یہی ہے کہ ہم قرآن و سنت کو اپنی دعوت، فکر اور عمل کا مرکز بنائیں، باہمی احترام کو فروغ دیں اور ان بزرگان دین کی روشن روایت کو زندہ کریں جنہوں نے اس سرزمین پر محبت، اخوت اور خیر خواہی کے چراغ روشن کیے تھے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں تفرقہ و انتشار سے محفوظ رکھے، قرآنِ مجید سے ہمارا تعلق مضبوط فرمائے، نوجوان نسل کو ہر قسم کی برائی اور گمراہی سے بچائے اور امتِ مسلمہ کو حقیقی اتحاد و اخوت کی نعمت سے سرفراز فرمائے۔