سفر نامہ
سفرِ محمود ...... (قسط نمبر 7)

✍️ :. عبدالرشید سرشار
بقول شاعر
ہم نے آنکھوں سے دیکھا نہیں ہے مگر
اُن کی تصویر سینے میں موجود ہے
جس نے لا کر کلامِ الٰہی دیا
وہ محمدﷺ مدینے میں موجود ہے
پھول کھلتے ہیں پڑھ پڑھ کے صلِّ علٰی
جھوم کر کہہ رہی ہے یہ بادِ صبا
ایسی خوشبو چمن کے گلوں میں کہاں
جو نبیﷺ کے پسینے میں موجود ہے
ہم نے مانا کہ جنت بہت ہے حسین
چھوڑ کر ہم مدینہ نہ جائیں کہیں
یوں تو جنت میں سب ہے مدینہ نہیں
اور جنت مدینے میں موجود ہے
چھوڑنا تیرا طیبہ گوارا نہیں
ساری دنیا میں ایسا نظارہ نہیں
ایسا منظر زمانے میں دیکھا نہیں
جیسا منظر مدینے میں موجود ہے
مسجدِ نبویؐ میں نمازِ مغرب کی ادائیگی کے بعد جب ہم باہر نکلے تو دل میں روضۂ اقدس کی زیارت کا شوق ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ تمنا یہی تھی کہ سرورِ کونین، فخرِ موجودات ﷺ کی مبارک دہلیز پر حاضر ہو کر درود و سلام کا نذرانہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کی جائے۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبیِ پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"جس شخص نے حج کیا اور میری وفات کے بعد میرے روضے کی زیارت کی، اس نے گویا میری زندگی ہی میں میری زیارت کا شرف حاصل کیا۔"
(روایت: بیہقی)
احادیثِ مبارکہ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ صاحبِ استطاعت شخص کے لیے روضۂ اطہر کی زیارت واجب کا درجہ رکھتی ہے، اور حج کے بعد اس سعادت سے محروم رہنا گویا رحمت للعالمین ﷺ کے احسانات کے ساتھ بے وفائی کے مترادف ہے۔
زائرین کے بحرِ بے کراں اور ہجومِ شوق کو سنبھالنے کے لیے مدینہ منورہ کی انتظامیہ نے حرمِ پاک کے بابرکت دروازوں کے پاس خصوصی رکاوٹیں قائم کر رکھی ہیں، تاکہ لوگ نظم و ضبط کے ساتھ فاصلہ طے کرتے ہوئے داخل ہوں۔ مرد زائرین کے لیے روضۂ اطہر پر حاضری کا مبارک راستہ 'باب السلام' سے ہو کر گزرتا ہے جو عین قبلہ کی سمت واقع ہے۔
ہم لوگ دلی تڑپ کے ساتھ دوڑتے ہوئے بابِ السلام تک پہنچے۔ پولیس کے جوان چاق و چوبند کھڑے تھے۔ ہم نے نہایت عاجزی اور عقیدت کے ساتھ اپنا دایاں قدم اندر رکھا۔ غرور، تکبر اور تمام دنیاوی آلائشوں سے دل کو پاک کیا تو بے ساختہ آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی جاری ہو گئی۔ دو رویہ زائرین آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہے تھے۔ درود و سلام زائرین کی زبان پر ورد تھا تاہم ایک منظر دیکھ کر دل کڑھنے لگا؛ تقریباً تمام زائرین کے ہاتھوں میں موبائل فون تھے اور اس غایتِ ادب و احترام کے مقام پر بھی لوگ سنہری جالیوں کی عکس بندی اور ویڈیو بنانے میں محو تھے۔ احقر کی زبان پر خاموشی کے ساتھ درودِ ابراہیمی کا ورد جاری تھا۔ رحمت للعالمین ﷺ کے دربارِ گوہر بار میں یہ میری دوسری حاضری تھی، اس لیے میں نے پکا ارادہ کر رکھا تھا کہ اس ادب گاہِ ناز میں موبائل کیمرے کے استعمال سے مکمل پرہیز کروں گا۔
آگے بڑھتے ہوئے میں عین ان المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حجرۂ مبارک کے سامنے حاضر ہوا۔ وہاں موجود ایک بڑا سا گول نشان اس بات کی نشاندہی کر رہا تھا کہ اسی سمت میں خاتم النبیین ﷺ آرام فرما ہیں۔ میں نے انتہائی عاجزی اور لرزتی آواز میں سلام عرض کیا۔ انتظامیہ رش کو ایک جگہ ٹھہرنے نہیں دے رہی تھی، لہٰذا ادب اور قانون کی پاسداری کرتے ہوئے، میں نے خاتم النبیین ﷺ کے دائیں بائیں، ان کے یارِ غار حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور خلیفۂ عادل حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں بھی سلامِ عقیدت پیش کیا۔ سنہری جالیوں کو اپنے گناہگار ہاتھوں سے مس کیے بغیر، ہجوم کے ساتھ آہستہ آہستہ آگے بڑھتا رہا اور بالآخر 'بابِ جبرائیل' سے خاتم النبیین ﷺ کے دربار سے رخصت کی اجازت چاہی۔ اس وقت میرا دل فرطِ مسرت سے اچھل رہا تھا کہ اس گناہ گار نے بھی شفاعتِ مصطفیٰ ﷺ کا ایک اہم زینہ طے کر لیا ہے۔
ہوٹل واپسی کے بعد اب ہماری آرزو 'ریاض الجنہ' میں داخلے کا پروگرام تھا۔ دراصل ہم نے 'نسک' (Nusuk) ایپ کے ذریعے اپریل کے ابتدائی ایام ہی میں پرمٹ حاصل کر لیا تھا، بس اسے کنفرم کرنا باقی تھا۔ ہماری باری جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب، رات ٹھیک دو بجے طے تھی۔
ہم لوگ ہوٹل سے رات بارہ بجے ہی پوری تیاری اور شوقِ دروں کے ساتھ نکل پڑے۔ بابِ جبرائیل کی سمت میں زائرین کی طویل قطاریں انتظار میں ایستادہ تھیں۔ پولیس اہلکاروں نے ہمارے موبائل فونز پر پرمٹ کی تصدیق کی اور پھر ہمیں مسجدِ نبوی کے ایک وسیع و عریض ہال میں بٹھا دیا گیا۔ ریاض الجنہ میں قیام کے لیے صرف ۲۰ منٹ کا وقت مقرر ہوتا ہے۔ تمام قانونی مراحل سے گزرنے کے بعد، بالآخر ہمارے قدم جنت کے اس ٹکڑے یعنی 'ریاض الجنہ' میں داخل ہو گئے۔
داخل ہوتے ہی میں نے سیدھا آگے بھاگنا مناسب نہ سمجھا، بلکہ جہاں پہلا قدم پڑا اور جگہ ملی، وہیں دو رکعت نمازِ نفل ادا کی۔ اس کے بعد موقع ملتے ہی آگے بڑھا اور چلتے چلتے عین منبرِ پاک کے قریب پہنچ گیا۔ وہاں نوافل سے زیادہ احقر نے اپنی ٹوٹی پھوٹی زبان میں ربِ کریم کے حضور دعاؤں کا کشکول پھیلا دیا۔ کچھ اپنے لیے، کچھ اپنے مرحومین کے لیے، اور کچھ اپنے دوستوں، رشتہ داروں ، ہمسائیوں اور تمام متعلقین کے لیے مانگا۔ اس لمحے مجھے سچ مچ احساس ہوا کہ میرا دل ٹوٹ چکا ہے اور آنسوؤں کا بندھن چھوٹ گیا ہے شاید پولیس اہلکاروں نے بھی میری اس رقت انگیز کیفیت کو نوٹ کر لیا تھا۔
ہماری جماعت کو داخل ہوئے ۲۰ منٹ بیت چکے تھے اور دیگر تمام لوگوں کو باہر نکالا جا رہا تھا، لیکن نہ معلوم مجھے چند اور لمحات وہاں گزارنے کی اجازت کیسے مل گئی! میں نے اسطوانۂ ابو لبابہ (ستونِ توبہ) کے پاس بھی کچھ بابرکت منٹ گزارے۔ چونکہ رش کی وجہ سے مخصوص جگہوں کا تعیّن کرنا مشکل تھا اور ہمارے ساتھ کوئی خاص رہنما بھی نہیں تھا، اس لیے جہاں کہیں چند انچ جگہ ملتی، ۱۰ یا ۲۰ سیکنڈ کے لیے وہیں دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیتا۔ کبھی دائیں، کبھی بائیں کبھی آگے!
پیچھے ہٹنے کا تو میں نے نام ہی نہ لیا!
سرورِ کائنات ﷺ کی خدمت میں درود و سلام کا نذرانہ، اپنے گناہوں کی معافی، اور ایک بار اس دنیوی جنت کے ٹکڑے میں داخلہ پا کر ہمیشہ کی حقیقی جنت میں جگہ پانے کی التجا یہ سب دعائیں میں مسلسل مانگتا رہا۔ پھر ان گناہگار نگاہوں نے حرم کے مقدس در و دیوار اور چھت کا دلکش نظارہ کیا۔
بالآخر ایک پولیس اہلکار قریب آیا اور نہایت احترام کے ساتھ، میرے کشمیری ہونے کی نسبت سے مجھے نام لے کر بلایا اور رخصت ہونے کی نرمی سے گزارش کی۔ میں نے اتنا عظیم شرف پانے پر پروردگارِ عالم کا بے حد شکر ادا کیا اور خوشی کے آنسو بہاتے ہوئے ریاض الجنہ کی ان بابرکت فضاؤں سے رخصت ہو گیا۔
آگے قسط میں مدینہ منورہ کی زیارات ہونگی بشرط زندگانی
حالسیڈار ویریناگ
7006146071