مضامین
قومی یومِ لائبریرین: اہمیت، مسائل اور تجاویز

ای میل: enayatnazir2024@gmail.com
قومی یومِ لائبریرین (National Librarian Day) ہر سال ہندوستان میں 12 اگست کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن عظیم ماہرِ کتب خانہ اور ہندوستان میں لائبریری سائنس کے بانی سمجھے جانے والے ڈاکٹر ایس۔ آر۔ رنگناتھن کی یومِ پیدائش کی مناسبت سے منایا جاتا ہے۔ یہ دن لائبریری پروفیشنلز کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں کتب خانوں اور مطالعے کی اہمیت کو اجاگر کرنے کا ایک اہم موقع بھی فراہم کرتا ہے۔
کتابیں کسی بھی تعلیمی نظام کی روح اور کتب خانے اس نظام کے علمی مراکز ہوتے ہیں۔ ایک طالب علم کی علمی، فکری اور تخلیقی تربیت میں کتاب کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ کتب خانہ طلبہ کو نصابی تعلیم سے آگے بڑھ کر وسیع مطالعہ، تحقیق، تنقیدی فکر اور نئی معلومات حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ اس پورے عمل میں لائبریرین کا کردار محض کتابیں جاری اور واپس کرنے تک محدود نہیں، بلکہ وہ طلبہ کو مناسب کتاب کے انتخاب، معلومات کے حصول اور مطالعے کی عادت پیدا کرنے میں ایک علمی رہنما کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس طرح ایک فعال لائبریری تعلیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور ایک باشعور نسل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ڈیجیٹل دور نے لائبریرین کی ذمہ داریوں کو مزید وسیع اور اہم بنا دیا ہے۔ آج کا لائبریرین صرف مطبوعہ کتابوں کا نگران نہیں بلکہ ای-بکس، ای-جرنلز، ڈیجیٹل ریپوزٹریز، آن لائن ڈیٹا بیس اور دیگر الیکٹرانک وسائل سے طلبہ اور اساتذہ کو مستفید کرنے کا ذمہ دار بھی ہے۔ طلبہ کو درست اور مستند معلومات تک رسائی فراہم کرنا، ڈیجیٹل لٹریسی پیدا کرنا، آن لائن معلومات کی صحت اور اعتبار کو پرکھنے کی صلاحیت پیدا کرنا اور لائبریری کو ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا جدید لائبریرین کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ اس لیے موجودہ دور میں اسکول لائبریری کو ایک Modern Learning and Information Centre کے طور پر فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
جموں و کشمیر اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں لائبریری پروفیشنلز کو درپیش مسائل
جموں و کشمیر کے اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں لائبریری پروفیشنلز اپنی ذمہ داریاں پوری لگن سے انجام دے رہے ہیں، تاہم انہیں بعض اہم مسائل کا سامنا ہے۔ ان میں سب سے اہم مسئلہ ترقی کے محدود مواقع اور کیڈر میں Stagnation کا ہے۔ جونیئر لائبریرین کے طور پر سروس میں آنے کے بعد ترقی کا دائرہ محدود ہونے کی وجہ سے ایک لائبریری پروفیشنل عموماً صرف لائبریرین کے عہدے تک پہنچنے کے بعد طویل عرصے تک ترقی سے محروم رہ جاتا ہے۔ اس مسئلے کا مستقل اور منصفانہ حل تلاش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ لائبریری پروفیشنلز کے حوصلے بلند ہوں اور وہ مزید جذبے کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے سکیں۔
دوسرا اہم مسئلہ پے اناملی (Pay Anomaly) کا ہے۔ اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے لائبریری پروفیشنلز کو طویل عرصے سے اپنے سروس اور پے اسٹرکچر سے متعلق جائز مطالبات کے حل کا انتظار ہے۔ جب دیگر متعلقہ کیڈرز کے پے اناملی سے متعلق مسائل کے حل کی جانب پیش رفت ہو سکتی ہے تو لائبریری پروفیشنلز کے جائز مسائل کو بھی ترجیحی بنیادوں پر زیرِ غور لایا جانا چاہیے۔ لائبریری پروفیشنلز کے ساتھ مساوی اور منصفانہ سلوک نہ صرف ان کے اعتماد میں اضافہ کرے گا بلکہ اسکول لائبریری نظام کو بھی مزید مؤثر بنائے گا۔
اس کے علاوہ اسکولوں میں جدید اور ڈیجیٹل لائبریریوں کے لیے مطلوبہ انفراسٹرکچر بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ کمپیوٹرز، انٹرنیٹ، ڈیجیٹل وسائل، مناسب فرنیچر، لائبریری آٹومیشن اور دیگر ضروری سہولیات کی دستیابی پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ حکومت کی جانب سے ہر سال سرکاری اسکولوں کو لاکھوں روپے مالیت کی کتابیں فراہم کی جاتی ہیں، جو ایک قابلِ قدر اقدام ہے؛ تاہم ان وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے لائبریری سیکشن کو مزید فعال، منظم اور جدید بنانا بھی ضروری ہے۔
ایک لائبریری پروفیشنل کی حیثیت سے ایک تجویز
بحیثیت ایک لائبریرین میری اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ حکام سے مؤدبانہ تجویز ہے کہ لائبریری سائنس/Library Science کو Higher Secondary سطح پر متعارف کرایا جائے اور اسے باقاعدہ ایک مضمون (Subject) کے طور پر اسکولوں میں پڑھانے کا انتظام کیا جائے۔ اس اقدام سے طلبہ میں کتاب، کتب خانے اور تحقیق کے حوالے سے شعور پیدا ہوگا اور مطالعے کی ثقافت کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ اسکولوں میں Reading Clubs، Book Review Sessions، Library Periods اور Reading Activities کو باقاعدہ تعلیمی سرگرمیوں کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔
اگر لائبریری کو اسکول کے تعلیمی نظام کا باقاعدہ اور فعال حصہ بنایا جائے، لائبریری پروفیشنلز کے ترقی کے مواقع میں اضافہ کیا جائے، Stagnation کا مسئلہ حل کیا جائے، جائز پے اناملی کے مسئلے پر توجہ دی جائے اور جدید ڈیجیٹل لائبریریوں کے لیے مناسب انفراسٹرکچر فراہم کیا جائے تو جموں و کشمیر کے اسکولوں میں کتب بینی اور مطالعے کی ایک مضبوط ثقافت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اسکول کی ایک فعال لائبریری دراصل ایک فعال تعلیمی نظام کی علامت ہے۔ کتابوں کو الماریوں سے نکال کر طلبہ کے ہاتھوں تک پہنچانا اور طلبہ کو کتاب سے جوڑنا ہی ایک لائبریری پروفیشنل کی اصل کامیابی ہے۔ قومی یومِ لائبریرین کے موقع پر ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ ہم کتب خانوں کو محض کتابوں کے ذخیرے کے بجائے علم، تحقیق، تخلیق اور شخصیت سازی کے مراکز میں تبدیل کرنے کے لیے اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھیں گے۔
نوٹ: مضمون نگار محکمۂ اسکول ایجوکیشن، جموں و کشمیر میں بحیثیت لائبریرین اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں اور اس وقت گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری اسکول آرہل، پلوامہ میں تعینات ہیں۔