افسانہ
رات کے سوداگر..... افسانچہ

ای میل: enayatnazir2024@gmail.com
کرامت اپنے کمرے میں تنہا، دیوار سے ٹیک لگائے بستر پر بیٹھا موبائل فون دونوں ہاتھوں میں تھامے انگلیوں سے ریلز اسکرول کر رہا تھا۔ ہر طرف سناٹا چھایا ہوا تھا۔ اس خاموشی میں صرف دو آوازیں امنِ شب کو تار تار کر رہی تھیں؛ ایک کمرے میں آویزاں وال کلاک کی مسلسل ٹک ٹک، اور دوسری قریبی نالے میں کام کرنے والی ڈوزر مشینوں، ٹریکٹروں اور ٹپروں کی قیامت خیز گھن گرج۔
قانون کی گرفت سے بچنے کے لیے ان مشینوں نے دن کی روشنی کے بجائے رات کی تاریکی کو ہی اپنا اوقاتِ کار بنا لیا تھا۔
کرامت کا صبح امتحانی پرچہ تھا۔ اس نے ارادہ کیا تھا کہ آج رات آدھی رات تک تیاری کرے گا۔ جونہی اس نے کتابیں کھولیں اور اسباق کو ذہن نشین کرنے کی کوشش کی، ڈوزر مشینوں کے شور اور ٹریکٹروں و ٹپروں کی گھن گرج نے پورے علاقے کا سکون تہہ و بالا کر دیا۔
کرامت نے ہر ممکن کوشش کی کہ یہ شور اس کے کانوں تک نہ پہنچے۔ کبھی انگلیاں کانوں میں ٹھونس لیتا، کبھی تکیہ سر پر رکھ لیتا۔ بڑی مشکل سے وہ اپنی توجہ کتابوں پر مرکوز کرنے میں کامیاب ہوا ہی تھا کہ امی کے کمرے سے اس کے ننھے بھائی عمّار کے رونے کی آواز آنے لگی۔
بچہ بمشکل ڈیڑھ سال کا تھا۔
"بیٹا! عمّار کو ذرا گود میں لے کر سلا دو۔"
ماں کی آواز آئی۔
کرامت نے بے بسی سے کتابیں بند کردیں۔ ماں کا حکم تھا، سو وہ ننھے بھائی کو گود میں اٹھا کر کھڑا ہوگیا۔ جو جو لوریاں اسے ازبر تھیں، ایک ایک کرکے سناتا گیا۔ کافی دیر بعد بچہ خاموش ہوا۔ کرامت نے اسے آہستگی سے بستر پر لٹایا اور دبے قدموں اپنے کمرے میں واپس آگیا۔
وہ ابھی بستر پر لیٹا ہی تھا کہ منے کے دوبارہ رونے کی آواز سنائی دی۔
کرامت نے تھکن سے بوجھل آنکھیں کھولیں۔
اس نے اندھیرے میں ہاتھ مار کر موبائل فون تلاش کیا۔
"کیوں نہ موبائل پر کوئی اچھی سی لوری نکال کر اسے سنا دوں؟ شاید اس بار جلدی سو جائے۔"
وہ موبائل پر لوری تلاش کرنے لگا۔
کرامت اپنی امی سے بے حد پیار کرتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ امی آرتھرائٹس کی تکلیف کے باعث بچے کو زیادہ دیر تک کھڑے ہو کر گود میں رکھنے سے قاصر ہیں۔ والد محکمۂ پولیس میں کانسٹیبل تھے اور دوسرے ضلع میں ڈیوٹی پر مامور تھے۔ ایسے میں ننھے بھائی کی ذمہ داری بڑی حد تک کرامت ہی کے کندھوں پر تھی۔
وہ لوری تلاش کرتے کرتے یو ٹیوب پر رِیلیں اسکرول کرنے لگا۔
اچانک ایک ویڈیو اس کی موبائل اسکرین پر نمودار ہوئی۔
ویڈیو میں دس پندرہ ڈوزر مشینوں کے مالکان، ٹپروں اور ٹریکٹروں کے مالکان کے ہمراہ احتجاجی دھرنے پر بیٹھے تھے۔
ایک شخص بڑے جوش سے کہہ رہا تھا:
"حکومت نے غیر قانونی مائننگ پر پابندی لگا کر ہمارے بیوی بچوں کا پیٹ کاٹ دیا ہے۔ اگر حکومت اپنے حکم نامے پر بضد ہے تو کم از کم ہماری مشینوں اور گاڑیوں کی بینک کی سودی قسطیں تو ادا کرے!"
کرامت چند لمحوں کے لیے اپنی اصل ضرورت بھول گیا۔
اس نے ویڈیو کے نیچے کمنٹ لکھ دیا۔
کمنٹ ابھی پوسٹ ہی ہوا تھا کہ جواب میں ایک سخت اور دھمکی آمیز پیغام اس کی اسکرین پر نمودار ہوا۔
کرامت کے ہاتھ کانپ گئے۔
اس نے چند لمحے اس پیغام کو دیکھا، پھر اپنا کمنٹ ڈیلیٹ کردیا۔
موبائل ایک طرف رکھا۔
ننھے بھائی کو دوبارہ گود میں اٹھایا اور اسے سلانے کے لیے کمرے سے باہر نکل آیا۔
وہ ابھی چند قدم ہی چلا تھا کہ مسجد کے مینار سے مؤذن کی آواز بلند ہوئی:
"اللہ اکبر... اللہ اکبر..."
کرامت رک گیا۔
ایک طرف رات کے اندھیرے میں قانون کو چکمہ دیتی ڈوزر مشینیں گرج رہی تھیں، دوسری طرف فجر کی اذان گونج رہی تھی۔
اس نے ننھے بھائی کو سینے سے مزید قریب کر لیا۔
اس کی نگاہیں کچھ دیر آسمان کی طرف اٹھیں۔
پھر وہ دھیرے سے مسکرایا۔
اسے محسوس ہوا کہ رات بھر صرف اس کے گھر کا سکون ہی نہیں چھینا گیا تھا:
کسی نے اس کی آواز بھی چھین لی تھی۔
اذان کی آواز بلند ہوتی گئی۔
مشینوں کا شور بھی جاری تھا۔
مگر کرامت کے اندر ایک اور آواز جنم لے چکی تھی۔
وہ جان گیا تھا کہ بعض اوقات خاموش رہنا بھی ایک جرم ہوتا ہے۔
اور اس صبح، امتحان دینے سے پہلے،
کرامت نے زندگی کا سب سے مشکل سبق پڑھ لیا تھا۔