سفر نامہ
سفرِ محمود:..... قسط نمبر ۱۱

مکہ مکرمہ: تاریخ، عظمت اور فیضانِ الٰہی کا ابدی مرکز
مدینۃ المنورہ کے پرنور اور پرسکون ماحول سےنکل کر جب کاروانِ شوق مکہ مکرمہ کی حدود میں داخل ہوتا ہے، تو سرور و تشکر کے ساتھ دل پر ایک ہیبت اور جلال کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ سفرِ محمود کی داستانِ نیاز مندی کو آگے بڑھانے اور حرمِ کعبہ میں اپنی باریابی کی سرگزشت رقم کرنے سے قبل، یہ نہایت موزوں اور ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس ارضِ مقدس اور بلدِ امین کی تاریخ، معاشی و انتظامی حیثیت اور روحانی عظمت پر ایک نظر ڈالی جائے۔
وہ بستی جس نے انسانی تاریخ، نبوت کے سلسلوں اور توحید کے سب سے عظیم ابواب کو اپنے سینے میں محفوظ کر رکھا ہے۔
وادیِ غیر ذی زرع اور تاریخ کی ابتدا
آج سے تقریباً چار ہزار برس قبل کا واقعہ ہے کہ جب خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکمِ الٰہی ہوا اور انہوں نے اپنی شریکِ حیات حضرت ہاجرہؑ اور اپنے لختِ جگر، شیر خوار فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کو فلسطین کے زرخیز خطے سے لا کر حجاز کی ایک خشک، سنگلاخ اور بے آب و گیاہ وادی میں خالقِ کائنات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔
چاروں طرف تپتے ہوئے پتھریلے پہاڑ اور ریت کے میدان تھے، زندگی کا نام و نشان تھا نہ پانی کا کوئی قطرہ۔ مگر جب تشنگی کی انتہا پر لختِ جگر کی بے قراری اور ماں کی اضطرابی دوڑ (صفا و مروہ کی سعی) بارگاہِ ایزدی میں مقبول ہوئی، تو ننھے اسماعیلؑ کے قدموں تلے سے چشمۂ زمزم پھوٹ پڑا۔ یہ وہ آبِ حیات تھا جس نے اس بے جان وادی کو تاقیامت حیاتِ جاوداں عطا کر دی۔
چونکہ مکہ مکرمہ شام، یمن اور مصر کو ملانے والی قدیم تجارتی شاہراہ پر واقع ہے اس لیے جب صحرا نوردی کرنے والے قبیلہ بنو جرہم نے یہاں پرندوں کی پرواز دیکھی اور پانی و انسان کا سراغ پایا، تو انہوں نے حضرت ہاجرہؑ سے اس وادی میں قیام اور پانی کے استعمال کی اجازت طلب کی۔ یوں اس بنجر صحرا میں ایک باضابطہ انسانی آبادی کی پہلی اینٹ رکھی گئی۔
اسلامی عقائد و روایات کے مطابق، روئے زمین پر اللہ کی عبادت کے لیے پہلا گھر حضرت آدم علیہ السلام نے اسی سرزمین پر تعمیر فرمایا تھا، جو بعد ازاں طوفانِ نوحؑ کے دوران معدوم ہو گیا۔ صدیوں بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کو اسی مقام پر بنیادیں از سرِ نو اٹھانے کا حکم دیا.
تعمیر مکمل ہونے کے بعد خلیل اللہؑ نے جبلِ ابو قبیس پر کھڑے ہو کر باری تعالیٰ کے حکم سے حج کی عام منادی فرمائی، جس کی گونج آج بھی ہر مومن کے لبوں پر "لبیک اللھم لبیک" بن کر مچل رہی ہے۔
قرآنِ پاک نے اس مقدس شہر کو بکّہ،ام القریٰ البلد الامین اور حرمًا آمناً جیسے القاب سے موسوم کیا ہے۔
پانچویں صدی عیسوی میں خانہ کعبہ کی تولیت اور مکہ کے شہری انتظامات قریش کے ہاتھوں میں آئے۔ افسوس کہ توحید کا یہ اولین مرکز وقت کی گردشوں کے ساتھ بت پرستی کا گڑھ بن گیا اور کعبہ کے اندر و باہر 360 بت نصب کر دیے گئے۔
پھر تاریخ نے وہ روشن ترین موڑ دیکھا جب 571ء میں سرورِ کونین، فخرِ موجودات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت اسی وادی میں ہوئی۔ 610ء میں غارِ حرا کی تنہائیوں میں پہلی وحی اتری اور آپ ﷺ نے اعلانِ حق فرمایا۔ تیرہ برس تک مکہ کی گلیوں میں توحید کی صدا بلند ہوتی رہی، مگر اہلِ مکہ کی عداوت، ظلم اور جان لیوا سازشوں کے بعد اللہ کے حکم سے 622ء میں آپ ﷺ نے یثرب (مدینہ منورہ) کی طرف ہجرت فرمائی۔
بالآخر نبوت کے اکیسویں سال، 630ء (۸ ہجری) میں وہ گھڑی آئی جب تاریخِ انسانی کے عظیم ترین فاتح، خاتم النبیین ﷺ دس ہزار جانثار قدسی صفت صحابہ کرامؓ کے ہمراہ فاتحانہ مگر عجز و انکسار سے جھکے ہوئے سر کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے۔ کعبۃ اللہ کو تمام آلائشوں اور بتوں سے پاک کر کے ایک بار پھر کلمۂ توحید اور "جاء الحق وزھق الباطل" کے نعروں سے گونجتا ہوا مرکزِ توحید بنا دیا گیا۔
دورِ حاضر کا مکہ مکرمہ سعودی عرب کا تیسرا بڑا اور جدید ترین سہولیات سے آراستہ ایک بین الاقوامی شہر بن چکا ہے:
یہ صوبہ مکہ کا صدر مقام ہے (جس کے ماتحت جدہ اور طائف جیسے اہم شہر بھی آتے ہیں)۔ اس کا رقبہ لگ بھگ ۱۲۰۰ مربع کلومیٹر اور مستقل آبادی تقریباً 24 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔
صوبائی سطح پر حکومتی گورنری اور بلدیاتی نظام کے علاوہ، حرمین شریفین کے تقدس، توسیعات اور زائرین کی سہولت کے لیے ایک بااختیار ادارہ "جنرل اتھارٹی برائے امورِ حرمین شریفین" خدمات انجام دیتا ہے۔ گورنر مکہ کی سربراہی میں اعلیٰ اختیاراتی حج و عمرہ کمیٹی (جس میں وزارتِ حج، وزارتِ داخلہ اور سیکیورٹی فورسز شامل ہیں) کروڑوں ضیوف الرحمن کے انتظامات سنبھالتی ہے۔
مکہ کی اقتصادیات کا اصل محور "خدماتِ حجاج و معتمرین" (Hospitality & Services) ہے۔ جدید ترین فلک بوس ہوٹلز، عالمی ٹرانسپورٹیشن کا نیٹ ورک، کپڑوں اور سونے کے زیورات کی تجارتی منڈیاں، خوشبودار عود و عطورات، تسبیحات، جائے نمازیں اور مدینہ و حجاز کی برکتوں سے سجی کھجوروں کی فروخت یہاں سال بھر معاشی روح پھونکے رکھتی ہے۔
مسجدِ حرام اور کعبۃ اللہ کا ہیئتی و روحانی نقشہ
مکہ مکرمہ کے عین قلب میں خالقِ کائنات کا وہ گھر ضوفشاں ہے جس کی طرف دنیا بھر کے مسلمان دن میں پانچ وقت اپنا رُخ کر کے سر بسجود ہوتے ہیں:
کعبۃ اللہ اور مطاف: سیاہ ریشمی اور طلائی نقوش والے غلاف (کسوہ) میں ملبوس، چار دیواری پر مشتمل یہ چوکور عمارت تقریباً 13 سے 15 میٹر اونچی اور 11 سے 12میٹر لمبی چوڑی ہے۔ اس کے گرد سنگِ مرمر کا سفید صحن مطاف کہلاتا ہے، جس کا موجودہ گھیراؤ اور توسیعی منزلیں بیک وقت ایک لاکھ سے زائد طواف کرنے والوں کو سمو سکتی ہیں۔
کعبہ کے گرد محیط مسجدِ حرام کا کل رقبہ نئی توسییعات کے بعد تقریباً 15 لاکھ مربع میٹر تک جا پہنچا ہے، جہاں بیک وقت 30 لاکھ سے زائد نمازی صف بستہ ہو سکتے ہیں۔ اس عظیم الشان عمارت کے 262 سے زائد خوبصورت دروازے اور آسمان سے باتیں کرتے 13 فلک بوس مینار ہیں۔
مسجدِ حرام کے مشرقی حصے میں صفا اور مروہ کی دو تاریخی پہاڑیاں واقع ہیں جن کے درمیان تقریباً 400 میٹر طویل اور کثیر منزلہ راستہ (مسعیٰ) تعمیر ہے۔ زائرین حضرت ہاجرہؑ کی سنت تازہ کرتے ہوئے ان دو پہاڑیوں کے درمیان سات چکر (سعی) لگاتے ہیں۔ صفا کا کچھ حصہ آج شیشے کے احاطے میں محفوظ ہے جبکہ مروہ کے اختتام پر واضح شناختی نشان قائم ہے۔
حرمین انتظامیہ نے لاکھوں زائرین کے لیے 13 ہزار سے زائد جدید بیت الخلاء، 4 ہزار کے قریب وضو خانے اور غسل خانے بنائے ہیں، جبکہ ہزاروں کی تعداد میں متحرک عملہ شب و روز صفائی اور زمزم کی فراہمی پر مامور رہتا ہے۔
مسجدِ حرام کی چاروں سمتیں تاریخ کے انمول نقوش سے سجی ہیں
مشرقی سمت یہاں تاریخی مکتَبَہ (مکتبہ مکہ مکرمہ) واقع ہے، جس کے بارے میں قوی روایت ہے کہ یہی سرورِ کائنات ﷺ کی جائے ولادتِ باسعادت ہے۔ اسی کی سیدھ میں تاریخی شعبِ ابی طالب کا وہ پہاڑی درہ ہے جہاں رسول اللہ ﷺ، آپ کے پاکباز اہلِ بیت اور صحابہ کرامؓ نے اسلام کی خاطر تین سال تک سخت ترین معاشی و سماجی بائیکاٹ اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت فرمائیں۔
جنوبی سمت یہاں مکہ کلاک ٹاور کی فلک بوس عمارتیں واقع ہیں۔
شمالی سمت قدیم تاریخی قبرستان جنت المعلیٰ اور تاریخی مسجدِ جن واقع ہے۔
مغربی سمت جبلِ عمر کا خطہ اور رہائشی کمپلیکس واقع ہیں۔
حج کے ایام میں دنیا کے چپہ چپہ سے بیس لاکھ سے زائد عازمین رنگ و نسل، زبان اور جغرافیے کے تمام امتیازات مٹا کر ایک ہی لباس (احرام) میں یہاں مجتمع ہوتے ہیں، جبکہ سال کے باقی ایام میں ہر لمحہ، دن ہو یا رات، عمرہ زائرین کعبۃ اللہ کے گرد پروانہ وار طواف میں مصروف رہتے ہیں۔
دعا ہے کہ ربِ ذوالجلال ہم سب کو اپنے اس مقدس گھر کی بار بار باادب اور مقبول حاضری نصیب فرمائے، اور ہمارے اس حقیر سفر نامے کو بارگاہِ الٰہی میں قبولیت کا شرف بخشے۔ (آمین)
حالسیڈار، ویری ناگ (کشمیر