مضامین
ساس سسر کی خدمت سے فرار

ہمارے معاشرے کا خاندانی نظام آج جن سنگین بحرانوں اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، اس کی ایک بڑی وجہ دین کا سطحی فہم اور اپنے مطلب کے مطابق احکامات کی تعبیر ہے۔ شادی کے بعد اکثر گھروں میں انتشار اس وقت جنم لیتا ہے جب بہوئیں اپنے خاوند سے الگ گھر بسانے اور ساس سسر سے قطع تعلق کرنے کے لیے یہ عذر تراشتی ہیں کہ: "اسلام میں ساس سسر کی خدمت بہو پر فرض یا واجب نہیں ہے!"
یہ ایک ایسا قانونی استدلال ہے جسے اخلاقیات اور شریعت کی روح سے کاٹ کر صرف اپنی من مانی کے لیے بطورِ ڈھال استعمال کیا جاتا ہے۔
فقہی اعتبار سے الگ رہائش کے حقوق اپنی جگہ، لیکن کیا اسلام صرف خشک قانونی دفعات کا نام ہے؟ اسلام کی روح تو صلہ رحمی، حسنِ سلوک اور ایثار پر قائم ہے۔
ایک بہو کے لیے اس کے ساس سسر اس کے خاوند کے والدین ہیں، جنہوں نے اسے پالا پوسا، تعلیم دی اور اس قابل بنایا کہ وہ ایک خاندان کا کفیل بن سکے۔ ایسے بوڑھے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اور ان کا احترام نہ صرف اعلیٰ اخلاق اور صلہ رحمی کا تقاضا ہے، بلکہ یہ خاوند کے دل کو جیتنے اور اسے خوش رکھنے کا سب سے بڑا ذریعہ بھی ہے۔ جب ایک عورت اپنے شوہر کے بوڑھے ماں باپ کی دلجوئی کرتی ہے، تو وہ دراصل اپنے ہی گھر کی بنیادوں کو مضبوط کر رہی ہوتی ہے۔
معاشرے میں دیکھنے کو ملتا ہے کہ وہی بہو جو سسرال میں خدمت سے بچنے کے لیے شریعت کی باریکیاں بیان کرتی ہے، اپنے میکے جا کر یکسر بدل جاتی ہے۔ وہاں وہ اپنے بھائیوں اور بھابھیوں کو نصیحت کرتی ہے کہ: "ماں باپ کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑنا، ان کی خدمت تم پر فرض ہے!"
اسی طرح ایک بیوی یہ تو شدت سے چاہتی ہے کہ اس کا شوہر اس کے میکے والوں کی بے پناہ عزت کرے، ان کی ہر ضرورت پوری کرے اور داماد کے تمام فرائض نبھائے، مگر جب خود اس کے سسرال والوں کے ساتھ بیٹھنے یا ان کی خدمت کی باری آتی ہے، تو اس کا رویہ سرد اور تلخ ہو جاتا ہے۔
ایسے ہی ایک معاملے میں جہاں ایک خاتون نے سات آٹھ سال تک اپنے شوہر کو اس کے بوڑھے والدین سے الگ کر رکھا تھا، جب اس سے پوچھا گیا کہ: "اگر آپ اسلام کا نام لے کر الگ رہنا ہی اپنا حتمی حق سمجھتی ہیں، تو یاد رکھیں کہ اسی اسلام نے ایک مرد کو چار شادیوں کی اجازت بھی دی ہے" تو یہ سنتے ہی اس کے دماغ کا سارا زنگ پل بھر میں اتر گیا اور وہ خود ہی کہنے لگی کہ "ساس سسر کے ساتھ صلہ رحمی اور نرمی کا بھی حکم ہے!" یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ مسئلہ اسلام کے احکامات کا نہیں بلکہ اپنی سہولت کے مطابق دین کو توڑنے مروڑنے کا ہے۔
یہاں اس حقیقت کو تسلیم کرنا بھی لازمی ہے کہ ہر مسئلے کے دو رخ ہوتے ہیں۔ شادی کے بعد میاں بیوی کو اپنی ذاتی زندگی کے لیے پرائیویسی کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ ساس سسر اور سسرال کے دیگر افراد کو بھی چاہیے کہ وہ میاں بیوی کی نجی زندگی میں بلاوجہ دخل اندازی نہ کریں۔
ہر بات پر روک ٹوک، بہو کو خادمہ سمجھنا یا اس کی ذاتی زندگی پر پہرے بٹھانا بھی سراسر غلط ہے اور اسلام اس کی بھی اجازت نہیں دیتا۔ دینِ اسلام افراط و تفریط کے بجائے اعتدال اور توازن کی تلقین کرتا ہے۔
گھر صرف اینٹ، پتھر، فرنیچر اور قانونی حقوق کے تبادلے سے آباد نہیں ہوتے، گھر بنتے ہیں قربانیوں، ایثار اور باہمی احترام کے جذبے سے۔
ایک کامیاب اور خوشحال گھرانے کی تعمیر میں والدین، بھائی، بہنیں، شوہر اور بیوی سب کا مثبت اور کلیدی کردار ہوتا ہے۔ اگر سب لوگ اپنی اپنی انا کو ایک طرف رکھ کر، اپنے حقوق سے زیادہ دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کی فکر کریں اور مثبت سوچ کے ساتھ گھر کو سنوارنے میں لگ جائیں، تو وہی گھر دنیا میں امن، سکون اور برکتوں والی جنت کا نمونہ بن جائے گا۔