مضامین
جب اخلاقی حدود دھندلا جائیں

کبھی معاشرے میں کوئی ایک واقعہ رونما ہوتا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اندھیرے کمرے میں اچانک روشنی جل گئی ہو۔ ہم چونکتے ہیں، سوال کرتے ہیں، غصہ کرتے ہیں، افسوس کرتے ہیں… پھر چند دن بعد سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ مگر سوال وہیں رہ جاتا ہے:
یہ کیا ہو رہا ہے؟
کیا واقعی معاشرہ بدل رہا ہے، یا ہماری آنکھیں اس قدر عادی ہو چکی ہیں کہ بہت سی غلط چیزیں اب ہمیں غلط دکھائی ہی نہیں دیتیں؟ اخلاقی زوال ہمیشہ کسی بڑے حادثے سے شروع نہیں ہوتا۔ کبھی یہ ایک نامناسب جملے، ایک بے معنی مذاق، ایک ناموزوں تصویر یا ایسے رویے سے شروع ہوتا ہے جسے کبھی ہم برائی سمجھتے تھے اور اب "زمانے کا چلن" کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ پھر آہستہ آہستہ ہماری حساسیت مرنے لگتی ہے۔ اور جب حساسیت ختم ہو جائے تو قانون بھی بہت کچھ نہیں کر سکتا، کیونکہ قانون جرم کے بعد حرکت میں آتا ہے، جبکہ اخلاق انسان کو جرم سے پہلے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔
آج موبائل فون بچے کے ہاتھ میں محض ایک آلہ نہیں، ایک خاموش استاد بھی ہے۔ وہ اسے علم بھی دکھاتا ہے اور فریب بھی، تخلیق بھی اور ابتذال بھی۔ مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے بچے کے ہاتھ میں دنیا تو دے دی، مگر اس دنیا کو سمجھنے کی اخلاقی بصیرت ہمیشہ نہیں دی۔
ہم بچوں سے بہت کچھ چھپاتے ہیں، مگر دنیا ان سے کچھ نہیں چھپاتی۔ جس سوال کا جواب گھر میں نہیں ملتا، انٹرنیٹ دے دیتا ہے؛ جس خوف کا اظہار بچہ والدین کے سامنے نہیں کر پاتا، وہ کبھی کسی غلط شخص کے سامنے کر دیتا ہے۔ اس لیے بچوں کو صرف "اچھا بچہ بنو" کہنا کافی نہیں۔ انہیں اپنی حدود پہچاننا، غلط کو "نہیں" کہنا، کسی نامناسب رویے پر آواز اٹھانا اور خطرے کی صورت میں قابلِ اعتماد شخص سے بات کرنا بھی سکھانا ہوگا۔ یہ ذمہ داری گھر کی بھی ہے اور اسکول کی بھی۔
اسکول صرف کتاب، امتحان اور نتیجے کا نام نہیں؛ یہ بچے کے اعتماد اور کردار کی تشکیل کی جگہ بھی ہے۔ استاد کے لیے professional boundaries محض ایک انتظامی اصطلاح نہیں بلکہ منصب کی حرمت کا تقاضا ہیں۔ اداروں کو ایسے مضبوط safeguarding نظام بنانے ہوں گے جہاں شکایت سنی جائے، کمزور محفوظ رہے اور طاقتور جواب دہ ہو۔
گھر میں بھی ہمیں "لوگ کیا کہیں گے" کی دیوار گرانا ہوگی۔ عزت خاموشی کا نام نہیں۔ عزت یہ ہے کہ ایک بچہ خوف کے بغیر اپنی بات کہہ سکے، ایک طالب علم شکایت کرتے ہوئے خود کو مجرم محسوس نہ کرے، اور ایک ادارہ اپنی ساکھ سے پہلے اپنے بچے کی حفاظت کو ترجیح دے۔
ہمیں اخلاقی پولیسنگ نہیں، اخلاقی بیداری چاہیے کیونکہ اخلاقیات صرف دوسروں کو روکنے کا نام نہیں؛ اپنے آپ کو روکنے کا نام بھی ہے۔
ہم ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں معلومات بہت ہیں مگر حکمت کم، رابطے بہت ہیں مگر تعلق کم، آوازیں بہت ہیں مگر سننے والے کم۔ شاید اسی لیے ہمیں بار بار اپنے آپ سے پوچھنا پڑتا ہے: یہ کیا ہو رہا ہے؟
معاشرے صرف عمارتوں، سڑکوں اور ٹیکنالوجی سے ترقی یافتہ نہیں ہوتے؛ ان کی اصل پہچان ان کے اخلاقی معیار سے ہوتی ہے۔ اور جس دن ہمیں غلط کو غلط کہنے کے لیے کسی بڑے سانحے کا انتظار کرنا پڑے، سمجھ لیجیے کہ مسئلہ صرف معاشرے میں نہیں، ہماری اپنی حساسیت میں بھی پیدا ہو چکا ہے۔
اِکز اقبال ایک معلم، کالم نگار اور سماجی مبصر ہیں اور مریم میموریل انسٹیٹیوٹ پنڈت پورا قاضی آباد میں پرنسپل ہے۔
رابطہ: 7006857283
ای میل: ikkzikbal@gmail.com