Ad
مضامین

یومِ اساتذہ اور استاد کا مقام

✍️ : تنویر احمد


یومِ اساتذہ کے موقع پر معاشرے میں مختلف آراء سامنے آنا ایک فطری امر ہے۔ کچھ افراد اساتذہ کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، جبکہ بعض لوگ اس موقع پر تعلیمی نظام، اساتذہ کے رویوں اور ماضی کے تلخ تجربات کو موضوعِ بحث بناتے ہیں۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ اہم ہے، تاہم یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک ایسے دن کو، جو بنیادی طور پر اساتذہ کی خدمات کے اعتراف اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے منایا جاتا ہے، صرف منفی واقعات اور عمومی تنقید تک محدود کر دینا مناسب طرزِ عمل ہے؟

یقیناً ماضی میں تعلیمی اداروں میں بعض ایسے طریقے رائج رہے ہیں جنہیں آج کے تعلیمی اور اخلاقی اصولوں کے مطابق درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بچوں کے ساتھ غیر مناسب سختی یا جسمانی سزا جیسے معاملات پر بات ہونی چاہیے اور جہاں اصلاح کی ضرورت ہو وہاں اصلاح بھی ضروری ہے۔ تاہم چند تلخ واقعات یا چند افراد کی غلطیوں کو بنیاد بنا کر پوری استاد برادری کی خدمات کو نظر انداز کر دینا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔

دنیا بھر میں مختلف طبقات اور پیشوں کی خدمات کے اعتراف کے لیے مخصوص دن منائے جاتے ہیں۔ مزدوروں کی محنت کو سراہنے کے لیے ایک دن، طبی شعبے سے وابستہ افراد کی خدمات کے اعتراف کے لیے مواقع اور دیگر طبقات کی حوصلہ افزائی کے لیے مختلف دن منائے جاتے ہیں۔ ان کا مقصد کسی فرد یا طبقے کو ہر خامی سے پاک قرار دینا نہیں، بلکہ معاشرے میں اس کے مثبت کردار اور خدمات کو تسلیم کرنا ہوتا ہے۔

اسی تناظر میں یومِ اساتذہ کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔

اگر ہم حقیقت کی نظر سے اپنے معاشرے کو دیکھیں تو ہمیں ہر شعبۂ زندگی میں استاد کی محنت کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ یہ افسر، ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، جج، وکیل، منتظم اور دیگر ماہرین آخر کس نے تیار کیے؟ کیا یہ سب علم اور مہارت کے ساتھ خود بخود وجود میں آگئے؟

ظاہر ہے ایسا نہیں۔

ہر کامیاب شخص نے زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر کسی استاد سے تعلیم حاصل کی۔ کسی نے اسے حروف کی پہچان کرائی، کسی نے قلم پکڑنا سکھایا، کسی نے حساب اور سائنس کے بنیادی اصول سمجھائے اور کسی نے اس کی صلاحیت کو پہچان کر آگے بڑھنے کی راہ دکھائی۔

آج جو افسر کسی ادارے کے معاملات چلا رہا ہے، وہ بھی کبھی ایک استاد کا طالب علم تھا۔ جو ڈاکٹر آج مریضوں کی خدمت کر رہا ہے، اس نے بھی کسی معلم سے علم حاصل کیا۔ جو انجینئر عمارتیں، سڑکیں اور پل تعمیر کر رہا ہے، اس کی علمی بنیاد بھی ایک تعلیمی نظام اور اساتذہ کی رہنمائی سے قائم ہوئی۔ سائنس اور ٹیکنالوجی میں ہونے والی ترقی کے پیچھے بھی تعلیم اور تربیت کا ایک طویل سلسلہ موجود ہے۔

یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ:

ڈاکٹر جسموں کا علاج کرتا ہے، انجینئر عمارتیں تعمیر کرتا ہے، افسر ادارے چلاتا ہے، مگر استاد ان افراد کی علمی بنیاد تیار کرتا ہے جو آگے چل کر یہ ذمہ داریاں سنبھالتے ہیں۔

اسی لیے استاد کو قوم کا معمار کہا جاتا ہے۔ ایک استاد بظاہر چند گھنٹے کلاس روم میں گزارتا ہے، لیکن اس کی محنت کے اثرات کئی دہائیوں تک معاشرے میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ اس کے شاگرد مختلف شعبوں میں جا کر ملک اور قوم کی خدمت کرتے ہیں۔

قرآنِ کریم نے علم اور اہلِ علم کو بلند مقام عطا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ﴾

ترجمہ: “کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟”

(سورۃ الزمر: 9)

ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے:

﴿يَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ﴾

ترجمہ: “اللہ تم میں سے ایمان والوں اور علم والوں کے درجات بلند فرماتا ہے۔”

(سورۃ المجادلہ: 11)

رسول اللہ ﷺ نے علم کی تعلیم و تربیت کی اہمیت کو نمایاں فرمایا، اور احادیث میں اہلِ علم اور دوسروں تک علم پہنچانے کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ اسی طرح لوگوں کی خدمت اور ان کے احسان کو تسلیم کرنے کے بارے میں بھی تعلیم دی گئی ہے کہ جو لوگوں کا شکر گزار نہیں، وہ اللہ کا بھی شکر گزار نہیں۔

تاہم استاد کو عزت دینا اس بات کا نام نہیں کہ اس سے متعلق ہر غلطی پر خاموشی اختیار کر لی جائے۔ استاد بھی انسان ہے اور انسانی غلطی سے مبرا نہیں۔ جہاں کسی فرد کا رویہ غلط ہو وہاں اصلاح ہونی چاہیے، لیکن اصلاح اور عمومی تضحیک میں فرق برقرار رہنا چاہیے۔

قرآنِ کریم کا واضح حکم ہے:

﴿اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ﴾

ترجمہ: “انصاف کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔”

(سورۃ المائدہ: 8)

آج ہمارے معاشرے کو اسی متوازن رویے کی ضرورت ہے۔ تنقید ضرور ہو، مگر انصاف کے ساتھ۔ غلطی کی نشاندہی ضرور کی جائے، مگر تحقیر کے انداز میں نہیں۔ اختلاف ضرور ہو، مگر اخلاق اور دلیل کے دائرے میں۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایک رویہ یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ بعض لوگ خود کوئی مثبت کام نہیں کرتے، لیکن جب کوئی دوسرا شخص تعلیم، سماج یا قوم کی بہتری کے لیے کوشش کرتا ہے تو اس کی خامیاں تلاش کرنے میں غیر معمولی دلچسپی لیتے ہیں۔ کبھی کسی نام، کبھی کسی لفظ اور کبھی کسی معمولی غلطی کو اس قدر بڑھا دیا جاتا ہے کہ اصل مقصد ہی پسِ پشت چلا جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ﴾

ترجمہ: “بہت سے گمانوں سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔”

(سورۃ الحجرات: 12)

ایک صحت مند معاشرے کی ضرورت یہ ہے کہ وہ اچھے کام کی حوصلہ افزائی کرے، غلطیوں کی اصلاح کرے اور خدمت کرنے والوں کے جذبے کو کمزور کرنے کے بجائے اسے مضبوط بنائے۔

یومِ اساتذہ کا مقصد بھی اسی جذبے کی تجدید ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قوموں کا مستقبل صرف بڑے منصوبوں اور عمارتوں سے نہیں بنتا بلکہ ان درسگاہوں سے بنتا ہے جہاں اساتذہ آنے والی نسلوں کو علم، شعور اور ذمہ داری کی تعلیم دیتے ہیں۔

قلم سے جو تقدیر بدلنے کا ہنر دیتے ہیں

وہ استاد ہیں جو نسلوں کو سفر دیتے ہیں

لہٰذا یومِ اساتذہ کے موقع پر ضروری ہے کہ ہم استاد کی خدمات کا اعتراف کریں، اس کی جائز عزت افزائی کریں اور ساتھ ہی تعلیم کے شعبے میں موجود خامیوں کی اصلاح کے لیے مثبت اور ذمہ دارانہ انداز اختیار کریں۔

کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ:

یہ افسر، یہ ڈاکٹر، یہ انجینئر، یہ سائنس دان اور زندگی کے مختلف شعبوں میں خدمات انجام دینے والے ماہرین کسی نہ کسی استاد کے شاگرد رہے ہیں۔

استاد صرف قوم کا معمار نہیں، بلکہ قوم کے معماروں کا بھی معمار ہے۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!