Ad
سفر نامہ

سفر محمود...... قسط نمبر 14

✍️ :. عبدالرشید سرشار 


عزیزیہ کے شب و روز پارسل کی قطار اور نان کا تندور

(سفرِ حجاز کے اوراق سے ایک دلگداز مشاہدہ)

​3 مئی 2026: عزیزیہ کی بستی اور دیہی انسیت

​آج تین مئی ہے۔ ہمارے رفقائے سفر کی تمنا تھی کہ عزیزیہ کے جس خطے میں ہم مقیم ہیں، اس کی ذرا چہل قدمی ہو جائے اور گرد و پیش کو قریب سے دیکھا جائے۔

​عزیزیہ کوئی صدیوں پرانا شہر نہیں، بلکہ ساٹھ کی دہائی کی پیداوار ہے۔ جب مکہ مکرمہ کی آبادی پھیلی اور مسجدِ حرام کے ارد گرد زائرین و ضیوف الرحمن کے لیے جگہ تنگ پڑنے لگی، تو سعودی حکومت نے وادیِ عزیزیہ کے ہموار دامن کو ایک باضابطہ جدید بستی کی شکل دی۔ یہاں کشادہ سڑکیں بنیں، عالی شان عمارتیں کھڑی ہوئیں، اور بڑے بڑے تجارتی مراکز قائم کیے گئے۔ نقل و حمل کے محدود وسائل کے اس دور میں عزیزیہ کے انتخاب کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ مشاعرِ مقدسہ یعنی منیٰ، مزدلفہ اور جمرات یہاں سے بالکل قریب تر رہیں۔ دوسری طرف حرم شریف کے قریبی ہوٹلوں کے آسمان چھوتے اخراجات تیسری دنیا کے عازمین کی پہنچ سے باہر ہو رہے تھے۔ چنانچہ برصغیر پاک و ہند، بنگلہ دیش اور انڈونیشیا کے زائرین کا یہی خطہ مسکن بن گیا۔ آج کا عزیزیہ ایک ضلع کا صدر مقام ہے، جہاں جامعہ ام القریٰ کا قدیم کیمپس، ہلالِ احمر اور بلدیہ کا صدر دفتر واقع ہے۔

​اکیسویں صدی کی سہولیات کے تقاضوں کے سامنے اگرچہ عزیزیہ کی یہ رہائش گاہیں اب خاصی فرسودہ لگتی ہیں جہازی سائز کے ہال نما کمرے، درجن بھر افراد کے لیے ایک مشترکہ غسل خانہ و بیت الخلاء، اور پرانی چھوٹی سی لفٹ۔ مگر سچ کہوں تو مدینۃ المنورہ کے تین ستارہ ہوٹل کی پرسکون تنہائی کے مقابلے میں ہمیں عزیزیہ کی اس مشترکہ رہائش میں وادیِ کشمیر کے دیہی ماحول جیسی مٹھاس اور اپنائیت ملی۔ ایک ہی کمرے میں بزرگوں کے ساتھ عبادات پر تبادلہ خیال، نصیحتیں اور ہنسی مذاق، یوں لگتا تھا جیسے ہم پردیس میں نہیں، اپنے ہی گاؤں کے دالان میں بیٹھے ہیں۔

​’پارسل‘ کی ستم ظریفی اور تپتی دوپہر

​سال 2025 تک بھارتی حجاج کے لیے ان عمارتوں میں خود کھانا پکانے کی سہولت موجود تھی، مگر 2026 میں اس پر یکسر پابندی عائد کر دی گئی۔ المیہ یہ ہوا کہ کچن بند کرنے کے بعد حج کمیٹی نے کیٹرنگ کا کوئی معقول بندوبست نہ کیا اور ہزاروں ضعیف و ناتواں حجاج کو سرِ راہ بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔

​قیام گاہ سے نکل کر سر پر رومال باندھے اور ہاتھ میں چھتری تانے ہم لگ بھگ پانچ سو میٹر دور ’جامع بن محفوظ‘ کے پاس پہنچے۔ کشمیریوں کا مزاج برصغیر کے دیگر خطوں سے مختلف ہے۔ ہم صبح پراٹھوں اور تلن کے بجائے نون چائے اور کلچے کے عادی ہیں، اور دوپہر کو مصالحے دار بریانی کے بجائے ابلے ہوئے سادہ چاول، ساگ، دال یا گوشت کے طلب گار۔ جامع بن محفوظ کی سیدھ میں ہمیں ایک بنگالی ہوٹل نظر آیا، جہاں چاول اور سبزی کی امید بندھی۔ چالیس دن کاٹنے تھے، لہٰذا کھانے کا ٹھکانا کرنا ناگزیر تھا۔

​مگر ہوٹل کے باہر کا منظر دیدنی تھا!

 کچھوے کی چال چلتی ہوئی ایک طویل قطار سڑک تک پھیلی ہوئی تھی۔ میرے ساتھ دو خواتین اور تین ضعیف بزرگ تھے۔ جھلساتی دھوپ اور بہتے پسینے کو دیکھ کر میں نے سب کو واپس قیام گاہ بھیج دیا اور خود اس قطار میں لگ گیا۔ قطار میں پچاس سال کی عمر کا میں غالباً سب سے کم عمر جوان تھا۔ باقی سب ستر اور اسی برس کے ضعیف، لاٹھیوں کے سہارے کھڑے، ناتواں اور جھلسے ہوئے چہروں کے ساتھ۔ ہر کوئی اپنی جان بچانے اور نوالہ حاصل کرنے کی فکر میں تھا۔ اخوت اور ایثار کا یہ عظیم سفر بقا کی جنگ میں بدل چکا تھا. 

 آخر ڈیڑھ مہینے تک روز روز بھوکے پیٹ کون کس کے لیے قربانی دیتا؟

​آدھے گھنٹے کی مشقت کے بعد جب میں کاؤنٹر کے چھوٹے سی روزن تک پہنچا، تو اندر کھڑے بنگالی بیرے نے اردو اور بنگالی کے ملے جلے لہجے میں سوال داغا:

”کتنا پارسل؟“

​میں جھجھک کر بولا: ”بھائی صاحب، مجھے کھانا چاہیے، کوئی ڈاک نہیں بھیجنی۔“

”کتنا پارسل؟“ اس نے چڑھ کر دوبارہ وہی رٹا رٹایا جملہ دہرایا۔

​پیچھے کھڑے پیاسے اور تپتے ہوئے حجاج نے شور مچایا: ”حاجی صاحب جلدی کیجیے، بہت گرمی ہے!“

تب مجھے سمجھ آیا کہ اس دیار میں کھانے کو ہی ’پارسل‘ کہتے ہیں۔ میں شرمندگی کے ساتھ ہنسا اور کہا: ”پانچ پارسل۔“

اس نے پوچھا: ”کیا کیا؟“

”چاول، سبزی اور مفت والی پتلی دال۔“

​اس نے روبوٹ کی طرح پانچ تھیلیوں میں چاول، پانچ چھوٹی ڈبیوں میں سبزی اور پانچ لفافوں میں دال کا سوپ بھر کر مجھے تھماتے ہوئے کہا: ”پچاس ریال!“

​جموں کشمیر بینک نے چھبیس روپے کا ایک ریال دیا تھا۔ یعنی تیرہ سو روپے میں پانچ آدمیوں کا معمولی ترین کھانا مل گیا۔ ایک ہاتھ میں پانچ پارسلوں کا بوجھ، دوسرے ہاتھ میں لڑکھڑاتی ہوئی چھتری اور سر پر سورج کا قہر۔ جب میں چالیس پینتالیس منٹ بعد کمرے پر پہنچا تو بدن پسینے سے شرابور تھا۔ حرم کی نچلی منزل میں اتنے وقت میں دو طواف ہو جاتے ہیں، اور یکساں مشقت ہوتی ہے۔ کمرے میں داخل ہوا تو بھوک سے نڈھال عبدالسلام چچا نے شکوہ کناں لہجے میں کہا: ”بیٹا! تم نے بہت دیر کر دی، اب تو بھوک ہی مر گئی۔“ میرے پاس ایک سرد آہ کے سوا کوئی جواب نہ تھا۔

​4 مئی 2026: سحر خیزی، طواف اور نان بائی کا تندور

​اگلے دن، یعنی چار مئی کو، ہماری آنکھ رات کے دو بجے کھلی۔ بھاگم بھاگ شٹل بس پکڑ کر حرم شریف پہنچے۔ تہجد کی اذانیں گونج رہی تھیں اور انسانوں کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر رواں دواں تھا۔ ہم عام لباس میں تھے، لہٰذا پولیس نے بیریکیڈ لگا کر کنگ عبدالعزیز گیٹ کی طرف جانے سے روک دیا۔ ہم فہد گیٹ کی طرف بڑھے اور برقی سیڑھیوں کے ذریعے تیسری منزل پر پہنچ گئے۔ بزرگوں اور خواتین کو ان رواں دواں سیڑھیوں پر چڑھتے ہوئے خوف آتا ہے، مگر اوپر پہنچ کر جب کھلے آسمان تلے بیت اللہ کا دیدار ہوا تو ساری تھکن کافور ہو گئی۔ تہجد اور فجر کے روح پرور لمحات گزار کر ہم ساڑھے پانچ بجے واپس عزیزیہ پہنچے۔

​کمرے میں پہنچتے ہی چچا عبدالسلام نے اپنے پرانے ہوٹل کے تجربے کا واسطہ دے کر کہا: ”روٹی کا انتظام میں کرتا ہوں، تم چائے بناؤ۔“ میں نے پانی چڑھایا، دکان سے دودھ لا کر زعفرانی رنگت والی نمکین چائے تیار کر لی، مگر چچا غائب!

​پورا آدھا گھنٹہ گزرنے کے بعد عبدالسلام چچا ہانپتے کانپتے کمرے میں داخل ہوئے۔ ان کے ہاتھ میں پالیتھین تھیلا تھا جس میں خوان کے سائز کی دو تندوری روٹیاں تھیں، اتنی تیز گرم کہ ہاتھ جل رہے تھے۔ فرمانے لگے: ”بیٹا! جامع بن محفوظ کے گیٹ تک حاجیوں کی طویل قطار لگی تھی۔ ایک ریال کی گرم روٹی کے لیے بوڑھے حاجی دھکے کھا رہے تھے اور پاکستانی نان بائی بے نیازی سے تندور سے روٹیاں نکال کر پھینک رہے تھے۔ لوگ لپک کر روٹی پکڑتے تو ہاتھ جھلس جاتے۔“

​ہم نے بہرحال ابلتی چائے کے ساتھ وہ گرم نان حلق سے اتارے اور اللہ کا شکر ادا کیا۔

​ایک تلخ حقیقت

​حج کی تربیت کے دوران بتایا گیا تھا کہ حفاظتی نقطۂ نظر سے عمارتوں میں کھانا پکانے کی ممانعت ہوگی۔ مگر اس کا متبادل کیٹرنگ نہ دینا سراسر بے حسی ہے۔ عزیزیہ کے بازاروں میں انڈونیشیا، پاکستان ،بنگلہ دیش اور بھارت کے زائرین باوقار انداز میں خریداری کرتے، کپڑوں کے نرخ معلوم کرتے نظر آتے ہیں، لیکن ایک وقت کے کھانے اور سوکھی روٹی کی خاطر سڑکوں اور تندوروں پر قطاروں میں ذلیل ہوتے صرف اور صرف برصغیر بالخصوص بھارتی حجاج ہی دکھائی دیے۔

 ضعیفوں، ناتوانوں اور پردہ دار خواتین کو روٹی کے ایک پارسل کے لیے یوں در بدر ہوتے دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے، اور جامع بن محفوظ کے در و دیوار نے ہمارے اس اضطراب کو چالیس دن تک خاموشی سے اپنے سینے میں قید رکھا۔

حالسیڈار ویریناگ 

7006146071



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!