مضامین
شکیل احمد حافظ :.... ہم جیسی چاہتے تھے بنا لی ہے روشنی

متوسط قد،خوبصورت خال و خد ،رنگ سانولا اور چہرے کا حلیہ بھی گہرا،سر پر چھوٹے چھوٹے سفید بال ،ناظم بے مثال ،چھوٹے کان ،سنجیدگی کا دبستان،چھوٹی ناک ،زبان بے باک ،علم و ادب کا خلیل ،جناب عالی شکیل ۔کشمر کے زرخیز علاقے شہر خاص میں علم و ادب کو جن نگینوں نے اپنی چمک دمک سے آراستہ کیا ہے انھیں میں سے ایک در نایاب نگینہ شکیل احمد حافظ " بھی ہیں۔شکیل احمد حافظ کا شمار ان ذی شعور اشخاص میں ہوتا ہے جنہوں نے شہر خاص میں علم و ادب کی آبیاری اپنی خون جگر سے کی ہے۔آپ کا اصلی نام شکیل احمد حافظ ہیں۔27دسمبر 1962 کو گندر پورہ عیدگاہ میں تولد ہوئے ۔میٹرک کا امتحان شاہین پبلک سکول حول سے1977میں پاس کیا اور اس کے شعبہ کھیل(Physical Education)میں 1985 بی پی ایڈ کیا۔شکیل صاحب کے والد محترم مرحوم علی محمد حافظ نے شہر خاص میں متوسط طبقے کی صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے یہاں کئی مدارس کی بنیاد رکھ لی اور شاہین گروپ آف اسکولز کے توسط سے شہر خاص میں علم کے چراغ روشن کیے ۔پھر جب ان کے والد محترم اس جہاں فانی سے کوچ کر جاتے ہیں تو یہ ذمہ داری ان کے فرزند ارجمند شکیل احمد حافظ کے سپرد کی گئی ۔
شکیل احمد حافظ نہ صرف ایک ماہر تعلیم ہیں ،آپ ایک سماجی کارکن ہونے کے علاؤہ،کئی علمی و اشاعتی اداروں سے منسلک بھی ہیں ۔شہر سرینگر کے معروف تعلیمی ادارے شاہین پبلک سکول کے ڈائریکٹر کے عہدے پر بھی فائز ہیں ۔ ۔والد محروم کے خوابوں میں رنگ بھرنے کا حوصلہ ابھی ان کے یہاں دیکھنے کو ملتا ہے۔اپنے گردونواح کی خستہ حالی نے انہیں یہ احساس دلایا کہ اپنے آس پاس کے متوسط لوگوں کے لیے کچھ کرنا ہوگا، چنانچہ انہوں نے بھی تعلیم کو ذریعۂ انقلاب بنایا اور شاہین پبلک سکول جیسے ادارے کو فروغ دیا۔ علامہ اقبال کے شاہین سے متاثر ہو کر ان کا بھی یہ خواب تھا کہ وہ شہر خاص کے نوجوانوں کو شاہین کی بلند پروازی میں ان کے معاون ثابت ہوجائے۔
اقبال کا شاہین ایک پرندہ نہیں، درویشی کا محافظ ہے جو پہاڑوں کی چٹانوں پر بسیرا کرتا ہے، بلند پروازی کرتا اور آسمان کے تاروں سے روشنی حاصل کر کے بیابانوں کا اندھیرا مٹاتا ہے۔ اسے آشیانے کی فکر نہیں، وہ خودی اور غیرت کی اعلیٰ مثال ہے، جس کی بلند نگاہی، تیز رفتاری اور بے باکی کو پوری دنیا قدر کرتی ہے۔ شکیل احمد حافظ بھی اپنے گردونواح کے جوانوں میں یہی خصوصیات دیکھنے کے متمنی ہیں۔
اقبال کہتے ہیں:
تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
تیرے سامنے آسماں اور بھی ہے
اور کبھی وہ شاہین اور کرغس کے فرق کو اس طرح بیان کرتے ہیں:
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرغس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور ہے
آہستہ آہستہ مرحوم علی محمد حافظ کے خواب ان کے فرزند شکیل احمد حافظ کے توسط سے شرمندہ تعبیر ہورہے ہیں اور شہر خاص کے کئی نوجوانوں لڑکے اور لڑکیاں ان کی صحبت میں رہ کر اپنی علمی پیاس بجھا کر اپنی زندگیوں کو سنوار رہے ہیں، جو آج کل سماج کے مختلف شعبوں میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ بقول شکیل احمد حافظ: "اگر کسی بھی سماج میں انقلاب لانا ہو تو ہمارا جو ہتھیار ہونا چاہیے وہ صرف اور صرف تعلیم ہوگی ۔سماجی ،سیاسی ،اقتصادی اور معاشی نظام اور بیماریوں کا علاج صرف اور صرف تعلیم میں پنہاں ہے ۔اسی لئے میں اپنے آس پاس کے تمام لوگوں سے ہمیشہ استدعا کرتا ہوں تعلم کو فروغ دینے میں ہمیشہ پہل کریں ۔
شکیل احمد حافظ شعبہ تعلیم میں سب کے محسن اور معاون بھی ، حریف کسی کے بھی نہیں۔ ان کے شاگردوں کا حلقہ بہت وسیع ہے ۔سخاوت کا جزبہ بھی ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہے ۔ان کی نگرانی میں زبان و ادب، تاریخ، سیاست، سائنس ، ریاضی اور مذہبیات پر بھی کتابیں تیار ہوئیں ۔شکیل احمد حافظ کو زبان و ادب سے گہرا شغف ہے۔ شکیل احمد حافظ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ علم و ادب سے وابستہ شاگردوں کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتے رہتے ہیں۔ شہر خاص میں عملی چراغ روشن کر کے اور تعلیمی نظام کو جلا بخشنے اور اسے فروغ دینے میں ان کا کارنامہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگا۔بقول شاہین عباس
آنکھوں سے یوں چراغوں میں ڈالی ہے روشنی
ہم جیسی چاہتے تھے بنا لی ہے روشنی