مضامین
سیرتِ رسول ﷺ: کردار سازی کا ابدی منشور

پی، ایم، شری گورنمنٹ ہائر اسکنڈری اسکول اچھن، پلوامہ میں منعقدہ سیرت کانفرنس کے تناظر میں
E-mail ID: enayatnazir2024@gmail.com
ربیع الاول کا بابرکت مہینہ آتے ہی عالمِ اسلام کے دلوں میں محبتِ رسول ﷺ کی ایک نئی لہر پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ وہ مبارک ایام ہیں جو ہمیں اس عظیم المرتبت ہستی کی سیرت و کردار پر غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں جس کی بعثت نے انسانیت کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم، شعور، عدل، رحمت اور حسنِ اخلاق کی روشنی عطا کی۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سیرتِ طیبہ محض مسلمانوں کے لیے ایک تاریخی سرمایہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک مکمل اخلاقی و عملی نمونہ ہے۔
آج کا انسان بظاہر سائنس و ٹیکنالوجی کی بے مثال ترقی سے ہم کنار ہے۔ معلومات کے ذرائع پہلے سے کہیں زیادہ وسیع ہیں، مگر اس کے باوجود اخلاقی اقدار کے زوال، عدم برداشت، فکری انتشار، خود غرضی، بدزبانی، تشدد اور باہمی نفرت جیسے مسائل نے معاشرے کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ بالخصوص نوجوان نسل مختلف فکری، سماجی اور تہذیبی اثرات کے درمیان اپنے راستے کی تلاش میں ہے۔ ایسے پُرفتن دور میں سیرتِ رسولِ رحمت ﷺ کو اجاگر کرنا اور آپ ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ کو نئی نسل کے کردار کا حصہ بنانا وقت کی ناگزیر ضرورت ہے۔
اسی احساس اور مقصد کے تحت 3 ستمبر 2026ء کو پی ایم شری گورنمنٹ ہائر اسکنڈری اسکول اچھن (پلوامہ) کے زیرِ اہتمام ایک عظیم الشان، پروقار اور پُررونق سیرت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس بامقصد پروگرام کا اہتمام ادارے کے پرنسپل محترم سید محبوب احمد شاہ صاحب کی نگرانی میں کیا گیا۔
کانفرنس میں چیف ایجوکیشن آفیسر پلوامہ محترمہ انجم راجہ کے علاوہ محکمۂ تعلیم کے متعدد آفیسران، اہلِ قلم، اہلِ علم، معزز شہری، والدین، مختلف تعلیمی اداروں سے آئے ہوئے طلاب اور اساتذہ نے شرکت کی۔
کانفرنس کا مرکزی موضوع نہایت فکر انگیز اور عصرِ حاضر کی ضرورت سے ہم آہنگ تھا:
’’محمد رسول اللہ ﷺ بحیثیتِ معلمِ اخلاق‘‘
مختلف اسکولوں سے آئے ہوئے طلبہ نے اس موضوع پر سیرتی مقابلہ جاتی تقاریر پیش کیں۔ کم سن طلبہ و طالبات نے جس اعتماد، شائستگی، فکری پختگی اور محبت کے ساتھ سیرتِ رسول ﷺ کے مختلف گوشوں کو اجاگر کیا، وہ یقیناً قابلِ تحسین تھا۔ ان کی تقاریر میں صدق و امانت، صبر و تحمل، عدل و انصاف، عفو و درگزر، شفقت و رحمت اور حسنِ معاشرت جیسے اخلاقی اوصاف نمایاں طور پر زیرِ بحث آئے۔
مقابلے میں اول پوزیشن بہیرہ گلزار نے حاصل کی، جو محبوب العالم پبلک اسکول لاسی پورہ کی جماعت دوم کی طالبہ ہیں۔ دوم پوزیشن مسکان بلال، جماعت ششم، سی، ایم، آئی، ایس لتر پلوامہ نے حاصل کی، جبکہ سوم پوزیشن عالیہ شہزاد نے حاصل کی، جو گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری اسکول واصورہ پلوامہ سے تعلق رکھتی ہیں۔
ان طلبہ کی کامیابی اس حقیقت کی عکاس ہے کہ اگر نئی نسل کو سیرتِ طیبہ ﷺ سے جوڑا جائے تو وہ نہ صرف اسے سمجھ سکتی ہے بلکہ نہایت مؤثر انداز میں اس کا پیغام دوسروں تک پہنچانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف ایجوکیشن آفیسر پلوامہ محترمہ انجم راجہ نے سیرتِ نبوی ﷺ کے پیغام کو گھر گھر پہنچانے اور رسولِ اکرم ﷺ کے سکھائے ہوئے اخلاق کو نوجوان نسل کے کردار میں پیوست کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے انتظامیہ کو اس بامقصد اور خوبصورت پروگرام کے انعقاد پر خراجِ تحسین بھی پیش کیا۔ ان کا یہ پیغام دراصل پوری کانفرنس کی روح کی ترجمانی کر رہا تھا کہ سیرت کو صرف تقریروں اور کتابوں تک محدود رکھنے کے بجائے اسے عملی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔
قرآنِ حکیم نے رسول اللہ ﷺ کی عالمگیر حیثیت کو نہایت جامع انداز میں بیان فرمایا:
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ
’’اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔‘‘
لفظ ’’للعالمین‘‘ اپنے اندر ایک عالمگیر پیغام سموئے ہوئے ہے۔ آپ ﷺ کی رحمت کسی مخصوص قوم، نسل، علاقے یا طبقے تک محدود نہیں۔ آپ ﷺ کی تعلیمات انسانیت کو امن، عدل، رحمت، رواداری اور حسنِ اخلاق کی دعوت دیتی ہیں۔
قرآنِ مجید نے آپ ﷺ کے اخلاق کی عظمت کو یوں بیان فرمایا:
وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ
’’اور بے شک آپ ﷺ اخلاق کے عظیم مرتبے پر فائز ہیں۔‘‘
یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیم کا سب سے مؤثر پہلو یہ تھا کہ آپ ﷺ نے جس اخلاق کی تعلیم دی، اسے سب سے پہلے اپنی عملی زندگی میں پیش فرمایا۔ آپ ﷺ محض معلمِ اخلاق نہیں تھے بلکہ اخلاقِ حسنہ کا زندہ نمونہ تھے۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ
’’مجھے عمدہ اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہے۔‘‘
یہ ارشاد واضح کرتا ہے کہ اخلاق سیرتِ نبوی ﷺ کا بنیادی اور مرکزی موضوع ہے۔ عبادات انسان کو اللہ سے جوڑتی ہیں، جبکہ حسنِ اخلاق اسے اللہ کی مخلوق کے حقوق ادا کرنے کا شعور عطا کرتا ہے۔ سچ بولنا، وعدہ پورا کرنا، امانت کی حفاظت کرنا، کمزوروں پر رحم کرنا، اختلاف کے باوجود دوسروں کا احترام کرنا، غصے پر قابو پانا اور خطا کاروں کو معاف کرنا—یہ سب تعلیماتِ نبوی ﷺ کا حصہ ہیں۔
آج کے تعلیمی اداروں کے لیے اس پہلو کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اسکول صرف کتابی علم فراہم کرنے کے مراکز نہیں بلکہ کردار سازی کی بنیادی درس گاہیں بھی ہیں۔ اگر ایک طالب علم اعلیٰ نمبروں کے ساتھ بد اخلاق، غیر ذمہ دار اور عدم برداشت کا شکار ہو تو ہماری تعلیمی کامیابی ادھوری ہے۔ حقیقی تعلیم وہ ہے جو انسان کو علم کے ساتھ شعور، صلاحیت کے ساتھ ذمہ داری اور کامیابی کے ساتھ اخلاق بھی عطا کرے۔
اسکولوں اور تعلیمی اداروں میں سیرتِ رسول ﷺ کی تعلیم کی ضرورت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ نئی نسل کو منشیات، آن لائن فحاشی، اخلاقی بے راہ روی اور انٹرنیٹ کے غیر ذمہ دارانہ استعمال جیسے خطرات کا سامنا ہے۔ محض پابندیاں عائد کرنے سے ان مسائل کا پائیدار حل ممکن نہیں؛ نوجوانوں کو مضبوط اخلاقی شعور، مقصدِ زندگی اور صحیح و غلط میں امتیاز کی تربیت دینا ہوگی۔ سیرتِ نبوی ﷺ اس سلسلے میں ایک جامع رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ آپ ﷺ نے پاکیزگی، حیا، خود ضبطی، ذمہ داری، سچائی اور دوسروں کے احترام کو انسانی کردار کی بنیاد قرار دیا۔ تعلیمی اداروں میں سیرت کے مطالعاتی حلقے، اخلاقی تربیتی نشستیں، مشاورتی پروگرام، منشیات سے بچاؤ کی آگاہی مہمات اور انٹرنیٹ کے محفوظ و باوقار استعمال سے متعلق رہنمائی کا مستقل اہتمام کیا جانا چاہیے، تاکہ طلبہ فتنوں سے محفوظ رہتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو مثبت مقاصد کے لیے بروئے کار لاسکیں۔
اچھن پلوامہ میں منعقدہ سیرت کانفرنس اسی فکر کی ایک خوبصورت عملی مثال تھی۔ ایک طرف طلبہ نے سیرتِ رسول ﷺ کے اخلاقی پہلوؤں پر اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا، تو دوسری طرف تقریب میں جدید تعلیمی نظام سے متعلق ایک اہم قدم بھی اٹھایا گیا۔
SMS BASED ONLINE STUDENT ATTENDANCE SYSTEM
کا افتتاح بھی عمل میں آیا۔ اس نظام کا افتتاح چیف ایجوکیشن آفیسر پلوامہ محترمہ انجم راجہ نے کیا۔ یہ اقدام اس بات کی علامت ہے کہ سیرت و اخلاقی تربیت کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں میں جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال اور تعلیمی نظم و نسق کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔
اسی موقع پر ادارے کا ایک خوبصورت ترانہ بھی باقاعدہ لانچ کیا گیا۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ اس ترانے کو ادارے کے پرنسپل محترم سید محبوب احمد شاہ صاحب نے خود ترتیب دیا تھا، جبکہ اس کی لانچنگ چیف ایجوکیشن آفیسر پلوامہ محترمہ انجم راجہ کے ہاتھوں عمل میں آئی۔ کسی تعلیمی ادارے کا ترانہ دراصل اس ادارے کے تشخص، اقدار، نصب العین اور اجتماعی روح کی عکاسی کرتا ہے، اس لیے یہ سرگرمی بھی کانفرنس کے اہم اجزا میں شامل تھی۔
مجھے بھی اس بابرکت اور پروقار محفل میں شرکت کا موقع نصیب ہوا۔ دراصل اسی روز ایک نجی مصروفیت کے تحت ایک شادی میں شرکت کا پروگرام تھا، لیکن سیرت کانفرنس کی دعوت کو غنیمت جانتے ہوئے میں نے اس پروگرام کو مؤخر کیا۔ میرے لیے یہ محض ایک تقریب میں شرکت کا معاملہ نہیں تھا؛ بلکہ رسولِ رحمت ﷺ کے اخلاق اور سیرت کا تذکرہ سننے والی ایسی بابرکت مجلس میں بیٹھنا روح کے لیے ایک ایسی غذا تھی جس کی تاثیر دنیاوی مصروفیات سے کہیں بڑھ کر محسوس ہوتی ہے۔
طلبہ کی یکے بعد دیگرے تقاریر سننے کا موقع ملا تو محسوس ہوا کہ سیرتِ رسول ﷺ کا چراغ آج بھی نئی نسل کے دل و دماغ کو منور کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کی آوازوں میں محبتِ رسول ﷺ بھی تھی اور سیرت کے اخلاقی پیغام کو سمجھنے کی ایک خوبصورت کوشش بھی۔
تقریب کے اختتام پر مقابلہ جاتی تقاریر میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو انعامات سے نوازا گیا اور شرکاء میں اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔ یہ حوصلہ افزائی نہ صرف طلبہ کے لیے اعزاز تھی بلکہ انہیں آئندہ بھی سیرتِ طیبہ کے مطالعے اور اس کے پیغام کو عام کرنے کی ترغیب دینے کا ایک مؤثر ذریعہ بھی بنی۔
آج ہمارے معاشرے میں اخلاقی بحران کے کئی مظاہر سامنے آ رہے ہیں۔ گفتگو میں شائستگی کم ہوتی جا رہی ہے، اختلاف برداشت کرنے کا حوصلہ کمزور پڑ رہا ہے، سوشل میڈیا نے اظہار کے مواقع تو بڑھا دیے ہیں مگر ذمہ دارانہ اظہار کی تربیت ابھی بھی ایک بڑا سوال ہے۔ ایسے حالات میں رسول اللہ ﷺ کی سیرت ہمارے لیے ایک کامل اخلاقی نصاب پیش کرتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ربیع الاول کے ان مبارک ایام کو محض رسمی سرگرمیوں تک محدود نہ رکھا جائے۔ سیرتِ رسول ﷺ کے حوالے سے سیمینار، کانفرنسیں، تقریری و تحریری مقابلے، کوئز، مطالعاتی نشستیں اور دیگر علمی سرگرمیاں مسلسل منعقد کی جائیں۔ خصوصاً تعلیمی اداروں کو اس سلسلے میں اپنا کردار مزید مؤثر بنانا چاہیے تاکہ نئی نسل کا رشتہ سیرتِ نبوی ﷺ سے محض جذباتی نہیں بلکہ علمی، فکری اور عملی بنیادوں پر مضبوط ہو۔
ہمیں یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے محبت صرف نعرے لگانے یا چند مخصوص ایام میں تقریبات منعقد کرنے کا نام نہیں۔ محبتِ رسول ﷺ کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ آپ ﷺ کے اخلاق ہماری گفتگو میں، ہمارے معاملات میں، ہمارے گھروں میں، ہمارے تعلیمی اداروں میں اور ہمارے معاشرتی رویوں میں نظر آئیں۔
آج دنیا امن کی تلاش میں ہے، معاشرے اخلاق کی تلاش میں ہیں اور نوجوان نسل ایک ایسے مثالی کردار کی متلاشی ہے جس سے وہ اپنی زندگی کی سمت متعین کرسکے۔ ایسے میں سیرتِ محمد مصطفیٰ ﷺ انسانیت کے لیے ایک روشن اور عالمگیر رہنمائی پیش کرتی ہے۔
اچھن کی یہ سیرت کانفرنس اسی عالمگیر پیغام کی ایک خوبصورت ترجمانی تھی۔ یہ ایک ایسی بامقصد اور پُرامن کاوش تھی جس نے طلبہ کو سیرتِ رسول ﷺ سے جوڑنے، اخلاقی اقدار کو اجاگر کرنے اور تعلیمی ادارے کو کردار سازی کے مرکز کے طور پر مضبوط کرنے کی جانب ایک قابلِ تحسین قدم اٹھایا۔
ضرورت صرف یہ ہے کہ اس پیغام کو ایک دن، ایک مہینے یا ایک کانفرنس تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ اسے ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بنایا جائے۔ کیونکہ سیرت صرف پڑھنے اور سننے کے لیے نہیں، اپنانے کے لیے ہے۔
اور اگر ربیع الاول ہمیں کوئی سب سے بڑا سبق دیتا ہے تو وہ یہی ہے کہ ہم معلمِ اخلاق ﷺ کے اخلاق کو اپنی ذات سے شروع کرکے اپنے گھر، اپنے ادارے، اپنے معاشرے اور پوری انسانیت تک پہنچانے کی کوشش کریں۔ یہی سیرت کا حقیقی پیغام اور عصرِ حاضر کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
نوٹ: مضمون نگار محکمۂ اسکول ایجوکیشن، جموں و کشمیر میں بحیثیت لائبریرین اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں اور اس وقت گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری اسکول آرہل، پلوامہ میں تعینات ہیں۔