Ad
جموں و کشمیر

جموں خطے کے 21 مقامات پر فوج کی جگہ سی آر پی ایف تعینات ہوگی

نوکِ قلم نیوز ڈیسک 

نئی دہلی/جموں، 8 ستمبر: سکیورٹی ایجنسیوں نے جموں و کشمیر کے جموں خطے میں منتخب مقامات پر انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے لیے فوج کی جگہ مرکزی ریزرو پولیس فورس (CRPF) تعینات کرنے کا جامع منصوبہ تیار کیا ہے۔ حکام نے منگل کو یہ اطلاع دی۔

حکام کے مطابق جموں خطے کے اودھم پور اور کٹھوعہ اضلاع میں تقریباً 21 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے، جہاں نیم فوجی دستے تعینات کیے جائیں گے۔ ان کے ساتھ سی آر پی ایف کے جنگلاتی جنگی کارروائیوں کے لیے مخصوص دستے کمانڈو بٹالین فار ریزولوٹ ایکشن (CoBRA) بھی موجود ہوں گے۔

سکیورٹی حکام کے مطابق، سابقہ فوجی نقل و حرکت کے بعد ان مقامات پر فوج کی موجودگی محدود رہ گئی تھی۔ اب سی آر پی ایف کے ان آپریشنل اڈوں کی ذمہ داری سنبھالنے سے علاقے میں فوج اور نیم فوجی دستوں کے درمیان بہتر آپریشنل رابطہ اور تال میل قائم ہونے کی توقع ہے۔

حکام نے بتایا کہ 2020 میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول (LAC) کی جانب فوجی دستوں کی منتقلی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خلا کو سی آر پی ایف کے ذریعے پُر کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

منصوبے کے تحت تقریباً 21 سی آر پی ایف کمپنیاں تعینات کی جائیں گی، جن میں تقریباً 2,100 اہلکار شامل ہوں گے۔ یہ اہلکار دونوں اضلاع میں قائم 21 کیمپوں کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔

سی آر پی ایف کی یہ کمپنیاں CoBRA دستوں کی معاونت سے جنگلاتی علاقوں اور دشوار گزار راستوں میں ہدفی انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں انجام دیں گی۔ ان علاقوں میں حالیہ برسوں کے دوران دہشت گردوں کی نقل و حرکت اور خفیہ ٹھکانے قائم کیے جانے کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔

فوج کو سرحدی علاقوں میں تعینات کرنے کا منصوبہ

سکیورٹی ادارے کی جانب سے بتدریج جموں سیکٹر کا مکمل انسدادِ شورش نظام سی آر پی ایف کے حوالے کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس اقدام سے فوج کی انفنٹری یونٹس کو معمول کی انسدادِ دہشت گردی ڈیوٹی سے مکمل طور پر ہٹا کر لائن آف کنٹرول (LoC) اور بین الاقوامی سرحد (IB) پر سرحدی سکیورٹی مزید مضبوط بنانے کے لیے تعینات کیا جا سکے گا۔

حکام کے مطابق، وسطی بھارت میں نکسلی مخالف کارروائیوں میں کامیابی سے خدمات انجام دینے والے سی آر پی ایف کے منتخب یونٹس کو اب بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ علاقوں سے مرحلہ وار واپس بلا کر جموں و کشمیر میں تعینات کیا جا رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس تعیناتی کا مقصد جموں کے جنگلاتی اور دشوار گزار علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانا اور سکیورٹی فورسز کے درمیان بہتر تال میل قائم کرنا ہے۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!