Ad
جموں و کشمیر

عمر عبداللہ نے تنویر صادق کے ’پاجامہ‘ ریمارکس کا دفاع کردیا

عمر عبداللہ نے تنویر صادق کے ’پاجامہ‘ ریمارکس کا دفاع کردیا، کہا معافی یا وضاحت کی ضرورت نہیں

✍️ :. نوکِ قلم نیوز ڈیسک 


سری نگر، 10 ستمبر: جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے نیشنل کانفرنس کے چیف ترجمان تنویر صادق کے حالیہ ’پاجامہ‘ ریمارکس کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا بیان تاریخی حقائق پر مبنی تھا اور نہ تنویر صادق کو معافی مانگنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی پارٹی کی جانب سے کسی وضاحت کی ضرورت ہے۔

سری نگر میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ماضی میں کشمیریوں کو درپیش غربت اور مشکلات کے بارے میں تاریخ دانوں نے تفصیل سے لکھا ہے اور یہ تنویر صادق کی ذاتی رائے نہیں تھی۔

وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’تنویر نے جو کچھ کہا وہ تاریخی طور پر درست ہے۔ انہیں اپنے بیان پر معافی مانگنے یا وضاحت دینے کی ضرورت نہیں۔‘‘

عمر عبداللہ نے معروف برطانوی مصنف اور تاریخ دان والٹر لارنس سمیت دیگر تاریخ دانوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جموں و کشمیر، بالخصوص کشمیری عوام کی غربت اور اس دور کے حالات کے بارے میں لکھا ہے۔ ان کے مطابق اس زمانے میں لوگ زمینداروں، زائل داروں اور چک داروں کے نظام کے تحت مشکلات میں زندگی گزار رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب کشمیریوں کے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے تھے کہ وہ مناسب لباس خرید سکیں۔

عمر عبداللہ نے کہا، ’’ایک وقت تھا جب کشمیری اتنے غریب تھے کہ انہیں مسجد سے پاجامہ پہن کر شہر آنا پڑتا تھا۔ یہ تنویر صادق کی اپنی سوچ نہیں بلکہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔‘‘

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ممکنہ طور پر تنویر صادق کا مقصد یہ بتانا تھا کہ کشمیری عوام نے ان مشکل حالات سے نکل کر کتنی ترقی کی ہے۔ آج لوگ اپنے بچوں کو تعلیم دلا رہے ہیں اور کشمیری نوجوان ڈاکٹر اور انجینئر بن رہے ہیں۔

انہوں نے تنویر صادق کے بیان پر بی جے پی اور پی ڈی پی کی جانب سے تنقید کو بھی نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ دونوں جماعتیں اس معاملے پر ایک ہی ’میچ‘ کھیل رہی ہیں اور ان کا ایجنڈا مشترک ہے۔

عمر عبداللہ نے واضح کیا کہ ’’تنویر صادق نے کچھ غلط نہیں کیا، انہیں معافی مانگنے یا وضاحت دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ نہ ہی میری پارٹی کو اس معاملے پر معافی مانگنے کی ضرورت ہے۔‘‘

وندے ماترم پر کانگریس کے اعتراض پر عمر کا ردعمل

وندے ماترم کے مکمل بند گائے جانے پر کانگریس کے اعتراض کے حوالے سے عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت موجودہ قانون اور قانونی ذمہ داریوں پر عمل کرنے کی پابند ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر مستقبل میں کانگریس اقتدار میں آتی ہے تو وہ قانون کو تبدیل یا منسوخ کرسکتی ہے، لیکن جب تک قانون موجود ہے، حکومت کو اس پر عمل کرنا ہوگا۔

عمر عبداللہ نے کہا کہ جس تقریب میں دو گورنرز، لیفٹیننٹ گورنر اور ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس موجود ہوں، وہاں قومی ترانہ بجانا لازمی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ قانونی دفعات کے تحت سرکاری تقریبات میں قومی ترانے کے ساتھ وندے ماترم کے مکمل بند بجانے کی بھی پابندی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ضابطہ صرف جموں و کشمیر تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک میں نافذ ہے، جن میں کانگریس کی حکومت والی ریاستیں بھی شامل ہیں۔

عمر عبداللہ نے کہا کہ اگر کوئی شخص مکمل بند کے وقت کھڑا نہیں ہوتا تو قانونی کارروائی ہوسکتی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا کانگریس چاہتی ہے کہ اس معاملے کو بنیاد بنا کر کشمیریوں کو جیل بھیج دیا جائے۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!