مضامین
تنکا تنکا جوڑنا پڑتا ہے!

سہی پورہ قاضی آباد، کشمیر
صبح ابھی پوری طرح جاگی نہیں تھی۔ درختوں کے پتوں پر رات کی نمی ٹھہری ہوئی تھی اور آسمان پر روشنی کی پہلی لکیر آہستہ آہستہ پھیل رہی تھی۔ میں خاموش بیٹھا تھا کہ اچانک ایک ننھی سی چڑیا پر نظر پڑی۔ وہ زمین سے ایک تنکا اٹھاتی، چند لمحوں کے لیے اسے اپنی چونچ میں سنبھالتی، پھر پروں کو جنبش دیتی اور فضا میں تحلیل ہو جاتی۔ کچھ دیر بعد واپس آتی، تنکا آشیانے میں رکھتی اور پھر اسی سفر پر نکل جاتی۔
میں دیر تک اسے دیکھتا رہا۔ آخرکار تجسس نے خاموشی توڑ دی۔
پھر بے اختیار پوچھ بیٹھا:
"اے ننھی سی چڑیا! آخر کب تک یوں اڑتی رہو گی؟ ایک تنکا اٹھانے کے لیے اتنی دور جانا، پھر واپس آنا، اور پھر اسی مشقت کو دہرانا۔۔۔ کیا تمہیں تھکن نہیں ہوتی؟"
چڑیا نے جیسے میری بات سنی، اپنی گردن ذرا سی اٹھائی، پروں کو سمیٹا اور میرے سوال کا جواب دینے کے بجائے ایک بار پھر اڑان بھر لی۔
کچھ دیر بعد وہ لوٹی تو اس کی ننھی سی چونچ میں ایک اور تنکا تھا۔
میں نے پھر پوچھا: "میں نے تم سے تمہاری تھکن پوچھی تھی، تم نے جواب میں پھر ایک تنکا کیوں اٹھا لیا؟"
اس بار وہ آشیانے کے کنارے بیٹھی، چند لمحے خاموش رہی اور جیسے مسکرا کر بولی: "کیونکہ آشیانے سوالوں سے نہیں، تنکوں سے بنتے ہیں۔"
میں خاموش ہوگیا۔
وہ پھر بولی:
"بار بار اڑان بھرنی پڑتی ہے،
تنکا تنکا اٹھا کر لانا پڑتا ہے۔
کچھ تنکے راستے میں گر جاتے ہیں،
کچھ ہوا اڑا لے جاتی ہے،
کبھی پورا آشیانہ بھی بکھر جاتا ہے۔۔۔
مگر پھر اڑنا پڑتا ہے۔"
"اور اگر تمہاری ساری محنت پھر سے بکھر جائے؟"میں نے پوچھا
چڑیا نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا:
"تو کیا ہوا؟
پَر ابھی سلامت ہیں نا!"
یہ جملہ کہہ کر وہ پھر اڑ گئی۔
اور میں سوچتا رہ گیا کہ شاید زندگی بھی ہمیں یہی سبق دینے کے لیے بار بار آزماتی ہے۔۔۔ آشیانہ کبھی ایک ہی اڑان میں نہیں بنتا۔ زندگی بھی تنکا تنکا جوڑنی پڑتی ہے۔
ہم اکثر کسی کی بنی ہوئی زندگی دیکھتے ہیں تو ہمیں صرف آشیانہ نظر آتا ہے؛ اس میں لگے ہوئے تنکے نہیں۔ ہمیں کسی کی کامیابی دکھائی دیتی ہے، اس کے پیچھے کی بے شمار ناکامیاں نہیں۔ ہمیں کسی کے چہرے کا اطمینان دکھائی دیتا ہے، وہ راتیں نہیں جن میں وہ بے یقینی کے ساتھ جاگا ہوگا۔ ہمیں کسی کا مقام دکھائی دیتا ہے، وہ طویل سفر نہیں جس میں اسے بار بار گر کر اٹھنا پڑا ہوگا۔
شاید یہی زندگی کا سب سے بڑا مغالطہ ہے۔ ہم منزل دیکھ کر سفر کا اندازہ لگانے لگتے ہیں۔ حالانکہ ہر آشیانہ ایک دن میں نہیں بنتا۔ کچھ تنکے ہوا اڑا لے جاتی ہے، کچھ راستے میں چھوٹ جاتے ہیں، کچھ دوسرے پرندے چھین لیتے ہیں اور کبھی کبھی پوری محنت ایک ہی جھٹکے میں بکھر جاتی ہے۔ مگر چڑیا اگلی صبح پھر اڑتی ہے۔۔۔۔ نہ شکوہ۔۔۔۔ نہ اعلان۔۔۔۔نہ کسی سے گلہ۔۔۔۔بس ایک اور اڑان۔۔۔۔ایک اور تنکا۔۔۔۔اور پھر ایک اور کوشش۔
انسان بھی شاید اسی چڑیا کا بڑا سا روپ ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہم اپنے تنکوں کے نام بدل دیتے ہیں۔۔کبھی وہ تعلیم ہوتے ہیں، کبھی روزگار، کبھی کاروبار، کبھی تعلقات، کبھی عزت، کبھی اعتماد، کبھی اولاد کی تربیت اور کبھی اپنے خواب۔ ہم برسوں انہیں ایک ایک کرکے جمع کرتے ہیں۔ کبھی کسی کتاب سے ایک تنکا ملتا ہے، کبھی کسی استاد کی بات سے، کبھی کسی ناکامی سے، کبھی کسی اجنبی کی مہربانی سے اور کبھی زندگی کے کسی تلخ تجربے سے۔
پھر ہم انہیں جوڑتے ہیں۔ اور ایک دن ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ شاید کچھ بن گیا ہے۔ مگر زندگی یہاں بھی کہاں رکتی ہے! آندھیاں آتی ہیں۔۔۔ کبھی حالات کی۔۔۔ کبھی لوگوں کی۔۔۔ کبھی وقت کی اور کبھی اپنے ہی فیصلوں کی۔۔۔ آشیانہ ہلتا ہے۔۔۔ کچھ تنکے پھر بکھر جاتے ہیں۔ اور انسان سوچتا ہے: "میں نے اتنی محنت سے جو بنایا تھا، وہ پھر کیوں ٹوٹ گیا؟" شاید اس سوال کا جواب بھی اسی چڑیا کے پاس ہے کیونکہ زندگی میں آشیانہ بنانا کافی نہیں، اسے بار بار سنبھالنا بھی پڑتا ہے۔
ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں فوری کامیابی کا فریب بہت گہرا ہو چکا ہے۔ ہر طرف کامیاب لوگوں کی تصویریں ہیں، مگر ان کی جدوجہد کے صفحات غائب ہیں۔ ہمیں کامیابی کا نتیجہ دکھایا جاتا ہے، اس کا حساب نہیں۔ ہمیں تاج دکھائی دیتا ہے، کانٹے نہیں۔ ہمیں پھول دکھائی دیتا ہے، مٹی میں دبی ہوئی وہ جڑیں نہیں جنہوں نے اسے زندہ رکھا۔ اسی لیے جب ہماری اپنی زندگی میں تاخیر ہوتی ہے تو ہم سمجھتے ہیں شاید ہم ناکام ہو گئے ہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔ کبھی کبھی دیر صرف اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ آپ اپنا آشیانہ مضبوط بنا رہے ہیں۔۔۔ ہر تنکا اہم ہوتا ہے۔۔۔ ایک چھوٹی سی کوشش بھی۔۔۔ ایک گھنٹے کی پڑھائی بھی۔۔۔ ایک اچھا فیصلہ بھی۔۔۔ ایک معافی بھی۔۔۔ ایک قدم آگے بڑھانا بھی۔۔۔ اپنے بچے کے ساتھ بیٹھ کر کی گئی ایک گفتگو بھی۔۔۔ کسی مایوس انسان کو دیا گیا ایک جملہ بھی۔ یہ سب بظاہر معمولی تنکے ہیں، مگر زندگی کے آشیانے انہی سے بنتے ہیں۔
اور شاید ہمیں یہ بھی سیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہر تنکا ہمارے لیے نہیں ہوتا۔ کچھ چیزیں راستے میں چھوڑ دینی پڑتی ہیں۔۔۔۔ کچھ رشتے۔۔۔ کچھ عادتیں۔۔۔ کچھ غلط فہمیاں۔۔۔ کچھ ضدیں۔۔۔ کچھ ایسے خواب بھی جو ہمارے نہیں بلکہ دوسروں کی توقعات نے ہمارے اندر رکھ دیے ہوتے ہیں۔
آشیانہ بنانے کے لیے صرف تنکے جمع کرنا کافی نہیں؛ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ کون سا تنکا کہاں رکھنا ہے۔ زندگی بھی ایک تعمیر ہے۔ اور تعمیر میں انتخاب، صبر اور توازن تینوں درکار ہوتے ہیں۔
چڑیا ہمیں ایک اور سبق بھی دیتی ہے۔ وہ آشیانہ بناتے ہوئے آسمان سے اپنا تعلق نہیں توڑتی۔ وہ زمین پر گھر بناتی ہے، مگر پرواز کا حوصلہ نہیں چھوڑتی۔ یہی شاید کامیاب زندگی کا خوبصورت ترین راز ہے: اپنے گھر سے محبت کرو، مگر اپنے پروں کو مت بھولو۔ اپنی ذمہ داریوں کو نبھاؤ، مگر اپنے خوابوں کو دفن نہ کرو۔ اپنے لوگوں کے لیے جیو، مگر خود کو مکمل طور پر گم نہ کرو۔اور اگر کبھی آشیانہ ٹوٹ جائے تو یہ مت سمجھو کہ تمہاری کہانی ختم ہوگئی۔
چڑیا کو دیکھنا۔۔۔ وہ ملبے کے پاس بیٹھ کر ماتم نہیں کرتی۔۔۔ وہ دوبارہ اڑتی ہے۔۔۔ پھر ایک تنکا اٹھاتی ہے۔۔۔ پھر دوسرا۔۔۔ پھر تیسرا۔۔۔ اور ایک دن وہیں، اسی جگہ، جہاں کل صرف بکھراؤ تھا، ایک نیا آشیانہ کھڑا ہوتا ہے۔
شاید زندگی بھی ہم سے یہی کہہ رہی ہے: تمہیں ہر بار پوری دنیا نہیں بدلنی۔
بس آج ایک تنکا اٹھانا ہے۔۔۔ کل ایک اور۔۔۔ پھر ایک اور۔۔۔
اور اگر ہوا نے سب کچھ بکھیر دیا تو؟۔۔ تو پھر اڑنا ہے۔
اگر راستہ لمبا ہوگیا تو؟ ۔۔۔ تو پھر اڑنا ہے۔
اگر لوگ ہنسے تو؟۔۔۔ تو پھر اڑنا ہے۔
اگر پہلی کوشش ناکام ہوگئی تو؟۔۔۔ تو پھر اڑنا ہے۔
کیونکہ آشیانے ان لوگوں کے نصیب میں نہیں ہوتے جو صرف خواب دیکھتے ہیں؛ آشیانے ان کے بنتے ہیں جو خواب دیکھ کر بار بار اڑتے ہیں, تنکا تنکا اٹھاتے ہیں، اور بکھرنے کے بعد بھی بنانا نہیں چھوڑتے۔
جو کچھ آج ناممکن دکھائی دیتا ہے،
وہ کل صرف ہماری مسلسل کوششوں کا آشیانہ ہوگا۔
✍🏼 اِکز اِقبال ایک معلم، کالم نگار اور سماجی مبصر ہیں اور مریم میموریل انسٹیٹیوٹ پنڈت پورا قاضی آباد میں پرنسپل ہے۔
رابطہ: 7006857283
ای میل: ikkzikbal@gmail.com