Ad
جموں و کشمیر

عمر عبداللہ کا کابینہ میں توسیع کا اعلان، ایم ایل ایز کو وزارت کے لیے رابطہ نہ کرنے کی ہدایت؛ اپوزیشن کی تنقید

✍️ :. رضوان سلطان / نوکِ قلم نیوز 


وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے افواہوں کا خاتمہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگلے ہفتے جموں و کشمیر کابینہ میں توسیع کی جائے گی۔ انہوں نے یہ اعلان آج لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے ساتھ لوک بھون میں ملاقات کے بعد کیا۔ تاہم، اس دوران عمر عبداللہ کی جانب سے اپنی ہی جماعت نیشنل کانفرنس کے ایم ایل ایز کو دیا گیا پیغام سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے، جس پر مختلف سیاسی رہنماؤں نے ردعمل ظاہر کیا ہے۔

لیفٹیننٹ گورنر سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے پارٹی اراکین کو واضح پیغام دیا کہ وہ وزارت کے لیے نہ تو ان کے دروازے پر دستک دیں اور نہ ہی واٹس ایپ پر پیغامات بھیجیں، کیونکہ کابینہ میں شامل کیے جانے والے نئے چہروں کا انتخاب پہلے ہی کیا جا چکا ہے۔ ان کے مطابق، نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے فہرست کو حتمی شکل دے دی ہے اور اب اس میں کسی تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔

عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ انہیں ایم ایل ایز کی جانب سے طویل پیغامات موصول ہو رہے ہیں، جیسے وہ انہیں جانتے ہی نہ ہوں۔ ان کے اس بیان پر اپوزیشن جماعتوں نے تنقید کی اور اسے منتخب نمائندوں کے وقار سے جوڑتے ہوئے سوالات اٹھائے۔

سیاسی لیڈران کا ردعمل 

پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد غنی لون نے عمر عبداللہ کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ منتخب نمائندوں کے ساتھ اس طرح کا رویہ مضحکہ خیز اور توہین آمیز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اراکینِ اسمبلی کو کابینہ میں شامل نہیں کیا جا سکتا تو کم از کم عوام کے سامنے اس انداز میں ان کی تذلیل نہیں کی جانی چاہیے۔

سجاد لون کے مطابق، اس طرزِ عمل سے نہ صرف متعلقہ اراکین بلکہ پورے سیاسی طبقے کا وقار مجروح ہوتا ہے۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب منتخب نمائندوں کے ساتھ اسکول کے نااہل بچوں جیسا برتاؤ کیا جائے تو وہ اپنے حلقوں کے عوام کا سامنا کیسے کریں گے۔

ڈوڈہ کے ایم ایل اے معراج ملک نے اپنے ردعمل میں کہا کہ عمر عبداللہ جس طرح ہر روز عوامی پلیٹ فارم پر نیشنل کانفرنس کے ایم ایل ایز کی تذلیل کرتے ہیں، وہ انتہائی افسوسناک ہے۔انہوں نے کہا کہ عمر عبداللہ آج جس عہدے پر فائز ہیں، اس کے پیچھے انہی ایم ایل ایز کی حمایت اور کردار ہے۔ ان کے مطابق، وزیر اعلیٰ کو اپنی جماعت کے رہنماؤں اور منتخب نمائندوں کا احترام کرنا چاہیے۔

پی ڈی پی کے بارہمولہ صدر محمد رفیق راتھر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر عمر عبداللہ کے بیان کو شیئر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا نیشنل کانفرنس کے ایم ایل ایز کے لیے یہ شرمناک نہیں کہ ان کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ کیا جا رہا ہے؟ کیا ان میں اپنی عزتِ نفس اور وقار کے لیے آواز اٹھانے کی بھی ہمت باقی نہیں رہی؟

رفیق راتھر نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ نیشنل کانفرنس کے ایم ایل ایز وزارت کے عہدوں کے لیے بار بار اپنے لیڈر کے دروازے پر دستک دینے والے درخواست گزار بن کر رہ گئے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا عوام نے انہیں اسی مقصد کے لیے منتخب کیا تھا؟



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!