Ad
مضامین

موبائل فون پر پابندی: امتحانی شفافیت کی جانب ایک اہم قدم

✍️ :- فردوس احمد نجار/ارن بانڑی پورہ


(njfirdous090@gmai.com)

کشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن (JKBOSE) کی جانب سے امتحانی مراکز میں نگرانی کے عملے کے لیے موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ امتحانی نظام کی شفافیت اور ساکھ کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ اگر اس فیصلےپرسنجیدگی،یکسانیت اور غیر جانب داری کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے، تو یہ امتحانی بدعنوانیوں کی روک تھام اور عوامی اعتماد کی بحالی میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔تاہم، اس اقدام کی اہمیت محض موبائل فون کے استعمال پر پابندی تک محدود نہیں، بلکہ یہ ان وسیع تر خامیوں کی جانب بھی توجہ مبذول کراتا ہے جو ہمارے تعلیمی نظام میں منصفانہ اور قابلِ اعتماد امتحانی عمل کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔

دسویں اور بارہویں جماعت کے بورڈ امتحانات کے دوران موبائل فون کے ممکنہ غلط استعمال سے متعلق خدشات بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں۔ ان میں معروضی (Objective Type) اور مختصر جوابی (Short Answer Type) سوالات کی تصاویر یا متن امتحانی مراکز سے باہر بھیج کر ان کے جوابات حاصل کرنا اور پھر انہیں اثر و رسوخ رکھنے والے امیدواروں تک پہنچانا بھی شامل ہے۔ اسی تناظر میں مصنوعی ذہانت کے ٹولز، بالخصوص ChatGPT، کے ممکنہ استعمال کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، جن کے ذریعے امتحانی پرچوں میں پوچھے گئے سوالات کے فوری جوابات حاصل کرکے بعض امیدواروں کو ناجائز فائدہ پہنچانے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔ اگرچہ ایسے واقعات کی تصدیق شواہد کی بنیاد پر ہونا ضروری ہے، تاہم اگر اس نوعیت کی بے ضابطگیاں ثابت ہوں تو یہ نہ صرف امتحانی ضابطوں کی سنگین خلاف ورزی ہیں، بلکہ ان طلبہ کے ساتھ صریح ناانصافی بھی ہیں جو اپنی محنت، قابلیت اور تیاری کی بنیاد پر امتحان دیتے ہیں۔ امتحانی مرکز وہ جگہ ہونی چاہیے جہاں ہر امیدوار کو یکساں مواقع حاصل ہوں، نہ کہ جہاں ٹیکنالوجی، اثر و رسوخ یا غیر مجاز ذرائع تک رسائی کسی کی کامیابی کا سبب بنے۔

سال بھر محنت کرنے والے طلبہ کے لیے امتحانی انصاف محض ایک انتظامی تقاضا نہیں، بلکہ ان کے اعتماد اور تعلیمی مستقبل کی بنیاد ہے۔ اگر بعض امیدواروں کو غیر مجاز ذرائع سے مدد فراہم کی جائے، جبکہ دوسرے طلبہ اپنی محنت اور علم کی بنیاد پر امتحان دیں، تو نتائج کی منصفانہ حیثیت متاثر ہونا فطری ہے۔ اس لیے معاملہ صرف موبائل فون کے غلط استعمال کا نہیں، بلکہ امتحانی عمل کی دیانت، مساوات اور اعتبار کو برقرار رکھنے کا ہے۔

اس تناظر میں نگرانی کے عملے کے لیے موبائل فون پر پابندی ایک بروقت اور قابلِ تحسین اقدام ہے۔ اس سے امتحانی مواد کی غیر مجاز ترسیل اور بیرونی رابطوں کے ممکنہ ذرائع محدود کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم، اس فیصلے کی حقیقی افادیت کا انحصار اس کے مؤثر نفاذ پر ہوگا۔ ضروری ہے کہ تمام امتحانی مراکز میں یکساں ضابطے نافذ کیے جائیں، خلاف ورزیوں کی مناسب نگرانی ہو اور ثابت شدہ بے ضابطگیوں میں ملوث افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ اس کے ساتھ انتظامی ضرورت کے تحت رابطے کے لیے متبادل طریقۂ کار بھی متعین ہونا چاہیے، تاکہ امتحانی تحفظ اور ضروری انتظامی امور کے درمیان توازن برقرار رہے۔

تاہم، امتحانی بدعنوانیوں کی روک تھام ہی ہمارے تعلیمی نظام کا واحد مسئلہ نہیں۔ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ امتحانی طریقۂ کار کو قومی تعلیمی پالیسی 2020 (NEP 2020) کے بنیادی مقاصد سے ہم آہنگ بنایا جائے۔ یہ پالیسی قابلیت پر مبنی سیکھنے، تنقیدی فکر، تخلیقی صلاحیت، مسئلہ حل کرنے کی اہلیت اور علمی فہم کو فروغ دینے پر زور دیتی ہے۔ اس کے برعکس، ہمارے مروجہ امتحانی نظام میں اب بھی یادداشت اور کتابی مواد کو دہرانے کی صلاحیت کو خاصی اہمیت حاصل ہے۔ نتیجتاً، بعض صورتوں میں طالب علم کی کامیابی کا انحصار اس بات پر زیادہ ہوتا ہے کہ وہ کتنا مواد یاد کرکے لکھ سکتا ہے، نہ کہ اس پر کہ وہ کسی تصور کو کس حد تک سمجھتا اور اپنے علم کو عملی صورتِ حال میں کس طرح استعمال کر سکتا ہے۔

یہ صورتِ حال ایک بنیادی تضاد کو نمایاں کرتی ہے۔ جب امتحانات کا زیادہ تر انحصار یادداشت پر ہو، تو وہ طالب علم کی مجموعی صلاحیتوں کا محدود جائزہ پیش کرتے ہیں؛ اور اگر اسی محدود جانچ کو بھی نقل یا غیر مجاز مدد کے ذریعے متاثر کر دیا جائے، تو نتائج کی اعتباریت مزید کمزور ہو جاتی ہے۔ امتحانی نمبر اسی وقت حقیقی تعلیمی کامیابی کے قابلِ اعتماد پیمانے بن سکتے ہیں جب وہ طالب علم کے علم، فہم اور محنت کی درست عکاسی کریں۔

امتحانات پر حد سے زیادہ انحصار نے تعلیم کے مقصد کو بھی متاثر کیا ہے۔ طلبہ اکثر متوقع سوالات، تیار شدہ جوابات اور زیادہ نمبر حاصل کرنے کے امکانات پر اپنی توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔ اس رجحان کے باعث وسیع مطالعے، آزادانہ غوروفکر، مشاہدے، تجربے اور تخلیقی صلاحیتوں کی نشوونما کے لیے گنجائش محدود ہو جاتی ہے۔ اسی امتحان مرکز رویے نے نجی ٹیوشن اور کوچنگ پر بڑھتے ہوئے انحصار کو بھی تقویت دی ہے۔ اگرچہ ٹیوشن طلبہ کی تعلیمی کمزوریوں کو دور کرنے اور مشکل تصورات سمجھنے میں مفید ثابت ہو سکتی ہے، لیکن جب اس کا بنیادی مقصد متوقع سوالات کی تیاری اور جوابات کو رٹوانا رہ جائے، تو یہ حقیقی سیکھنے کے بجائے محض امتحانی کارکردگی بہتر بنانے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

لہٰذا، امتحانی اصلاحات کو صرف نقل کی روک تھام تک محدود رکھنے کے بجائے سوالیہ پرچوں اور جانچ کے طریقوں میں بھی بامعنی تبدیلی لانا ضروری ہے۔ بورڈ کو ایسے سوالات اور تشخیصی طریقوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جو طلبہ کی فہم، تجزیاتی صلاحیت، منطقی استدلال اور علم کے عملی اطلاق کو جانچیں۔ جب امتحان میں محض معلومات دہرانے کے بجائے کسی تصور کی وضاحت، تجزیہ اور مسئلے کا حل پیش کرنے کی صلاحیت کو اہمیت دی جائے گی، تو طلبہ میں رٹے کے بجائے سمجھ کر سیکھنے کا رجحان فروغ پائے گا۔ یہی تبدیلی قومی تعلیمی پالیسی کے مقاصد کو عملی شکل دینے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

اس عمل میں اساتذہ اور نگران عملے کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ استاد کی ذمہ داری محض نصاب مکمل کروانے یا بہتر نتائج حاصل کرنے تک محدود نہیں، بلکہ وہ طلبہ میں دیانت داری، احساسِ ذمہ داری اور اصولوں کی پاسداری پیدا کرنے میں بھی بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اگر امتحانی مراکز میں ضابطوں کی خلاف ورزی کو نظر انداز کیا جائے، تو طلبہ میں یہ تصور پیدا ہو سکتا ہے کہ کامیابی کے حصول میں اصولوں کی پابندی سے زیادہ اہمیت نتائج کی ہے۔ اس کے برعکس، جب اساتذہ اور نگران عملہ دیانت داری کے ساتھ قواعد پر عمل کرتا ہے، تو وہ اپنے طرزِ عمل سے یہ پیغام دیتا ہے کہ حقیقی کامیابی کا راستہ محنت، علم اور اخلاقی ذمہ داری سے ہو کر گزرتا ہے۔

امتحانات میں غیر دیانت دارانہ ذرائع سے حاصل کیے گئے نمبر وقتی فائدہ تو دے سکتے ہیں، لیکن وہ علم اور مہارت کی حقیقی کمی کو پورا نہیں کر سکتے۔ اگر یہ کمی عملی زندگی اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں تک پہنچ جائے، تو اس کے اثرات فرد سے آگے بڑھ کر معاشرے کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر، انجینئر، استاد اور دیگر پیشہ ور افراد کی اہلیت کا انحصار محض ڈگری یا سند پر نہیں، بلکہ اس علم، مہارت اور عملی صلاحیت پر ہوتا ہے جو انہوں نے حقیقتاً حاصل کی ہو۔ اس لیے امتحانی شفافیت صرف ایک انتظامی ضرورت نہیں، بلکہ مستقبل کے قابل، ذمہ دار اور دیانت دار افراد کی تیاری کے لیے بھی ناگزیر ہے۔

حاصلِ کلام یہ ہے کہ کشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کی جانب سے نگرانی کے عملے کے لیے موبائل فون پر پابندی ایک اہم اور قابلِ ستائش قدم ہے۔ تاہم، اس فیصلے کو ایک وسیع تر اصلاحاتی عمل کا نقطۂ آغاز سمجھا جانا چاہیے۔ امتحانی مراکز میں غیر مجاز موبائل فون کے استعمال اور نقل کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کے ساتھ ساتھ ایسے امتحانی طریقۂ کار کو فروغ دینا بھی ضروری ہے جو طلبہ کی حقیقی علمی استعداد، فہم اور عملی قابلیت کا منصفانہ جائزہ لے سکیں۔

امتحان میں نقل کی روک تھام کسی طالب علم کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں، بلکہ اس کے مستقبل کے تحفظ کی کوشش ہے۔ ہمیں ایسا تعلیمی نظام تشکیل دینے کی ضرورت ہے جس میں نمبر محض رٹے، اثر و رسوخ یا غیر مجاز مدد کا نتیجہ نہ ہوں، بلکہ علم، فہم اور محنت کی حقیقی عکاسی کریں۔ تعلیم کی کامیابی کا معیار صرف بلند نمبر یا کامیابی کی شرح نہیں، بلکہ ایسے افراد کی تیاری ہے جو آزادانہ سوچ سکیں، درست فیصلے کر سکیں اور اپنی ذمہ داریاں دیانت داری اور قابلیت کے ساتھ نبھا سکیں۔

یہی امتحانی شفافیت کا حقیقی مقصد اور بامعنی تعلیمی اصلاحات کی مضبوط بنیاد ہے۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!