Ad
سفر نامہ

سفرِ محمود:.... قسط نمبر 28

✍️ :. ​عبدالرشید سرشارؔ

 جمرات کمپلیکس کے​ستون نمبر 32 پر ملاقات کے بعد کا منظر بڑا روح پرور تھا۔ حجاج کے نکلنے اور نئے قافلوں کے داخلے کا ایک ایسا لامتناہی سلسلہ تھا جیسے سمندر میں لہریں ایک دوسرے کے پیچھے چلی آ رہی ہوں۔ سنتِ نبوی کے مطابق اگر قافلوں نے مزدلفہ سے ساڑھے چھ بجے منیٰ کی سمت قدم بڑھائے ہوں گے، تو لگ بھگ صبح کے سات بجے تک جمرۂ عقبہ پر رمی کا آغاز ہو چکا تھا۔ پچیس لاکھ کا یہ عظیم الشان انسانی سمندر جس میں بوڑھے، جوان، مرد، خواتین، تندرست اور معذور سبھی شامل تھے رمی کے فریضے میں جُتا ہوا تھا، اور اگلے تین دن تک وادیِ منیٰ کا پورا خطہ اسی چہل پہل اور ایمانی رونق سے دمکنے والا تھا۔

​میں ابھی دعاؤں کی کتابیں سمیٹ کر مصحفِ شریف آنکھوں سے لگا ہی رہا تھا کہ میرے وفاشعار ساتھی غلام محی الدین نے محبت اور خلوص سے کہا

ماسٹر جی! آپ صرف راستے کی نشاندہی کریں، ویل چیئر دھکیلنا آپ کا کام نہیں۔

​جمرات کی وسیع ریمپوں کے دائیں بائیں بڑی گاڑیوں کے سائز کے دیو ہیکل سائن بورڈ آویزاں تھے، جن پر چھ کی چھ اہم شاہراہوں کے نام اور ان کے گزرنے کے راستے واضح نشانات کے ساتھ درج تھے۔ ہم پر ایک بار پھر شارعِ شاہ فیصل (نمبر 50) کا سودا سوار ہوا۔ آتے ہوئے بھی بڑی آرزو تھی کہ اسی راستے سے نکلیں، مگر بے پناہ ہجوم کے باعث انتظامیہ نے آگے بڑھنے کی اجازت نہ دی تھی۔

​مناسک کی ترتیب کے لحاظ سے رمی کے بعد قربانی، پھر حلق یا قصر اور اس کے بعد فرض طواف یعنی طوافِ زیارت کی باری تھی۔ فقہی اعتبار سے طوافِ زیارت قربانی سے پہلے بھی ادا کیا جا سکتا تھا، اس لیے میں نے غلام محی الدین سے رائے مانگی

محیہ لال  آگے کا کیا ارادہ ہے؟ آپ کا کیا مشورہ ہے؟

وہ کمالِ سادگی اور عقیدت سے بولے

ماسٹر جی! جو آپ کو مناسب لگے۔ آپ پڑھے لکھے ہیں، میں بھلا اس سوچ بچار کے کہاں قابل ہوں!

​میرے دل میں خیال مچلا کہ حرم شریف کا رخ کرتے ہیں، طوافِ زیارت نمٹا لیں۔ فاصلہ ہی کتنا ہے؟ سات آٹھ کلومیٹر طے کر کے مسجد حرام پہنچ جائیں گے۔ مگر اسی پل حقیقت پسندی نے انگڑائی لی۔ رات بھر کے جاگے ہوئے، مزدلفہ سے پیدل چل کر ابھی تک صرف سات کلومیٹر طے کئے تھے۔ عرفات کے بعد پیٹ میں بسکٹ کے  کچھ ٹکڑے اور تھوڑا سا دودھ ہی گیا تھا۔ اگر جمرات سے حرم شریف کی سمت قدم اٹھاتے ہیں تو آٹھ کلومیٹر جانا، حرم میں طواف کے سات چکر، صفا و مروہ کی سعی، پھر واپسی کے آٹھ کلومیٹر اور جمرات سے مکتب نمبر 22 تک مزید ساڑھے تین کلومیٹر کل ملا کر یہ قریباً پچیس کلومیٹر کی کٹھن مسافت بنتی تھی۔ پھر سب سے بڑی آزمائش یہ تھی کہ اہلیہ ساتھ تھیں اور وہ بھی ویل چیئر پر۔ ویل چیئر کے سبب مطاف کے بجائے مسجدِ حرام کی بالائی منزل پر طواف کرنا پڑتا، جہاں آدھے گھنٹے کا پھیلاؤ ڈیڑھ سے دو گھنٹے میں بدل جاتا ہے۔

​میں نے پل بھر میں ذہن کے گوشے میں حساب لگایا۔ صبح کے ساڑھے دس بج رہے تھے اور آفتاب کا پارہ تیزی سے چڑھ رہا تھا۔ دانش مندی یہی تھی کہ فی الوقت مکتب نمبر 22 چلا جائے، کچھ دم لیا جائے اور تازہ دم و توانا ہو کر آگے کا سوچا جائے، شریعتِ مطہرہ میں بھی اس کی پوری گنجائش ہے۔ سفر سے قبل تو کاغذوں پر من پسند منصوبے بنانا آسان تھا کہ ساڑھے چھ بجے مزدلفہ سے نکلیں گے، ساڑھے سات بجے رمی، ساڑھے آٹھ بجے حرم شریف، دس بجے طوافِ زیارت مکمل، گیارہ بجے واپس جمرات اور بارہ بجے منیٰ کے خیمے میں بے فکر سو رہے ہوں گے۔ مگر زمینی حقیقتیں بالکل جدا تھیں۔ گھڑی کی سوئیاں ساڑھے دس بجا رہی تھیں اور ہم تھکے ماندے اب بھی جمرات کے پہلو میں  ہی کھڑے تھے۔

​میں نے فیصلہ کن لہجے میں کہا:

محیہ لال! ایسا کرتے ہیں، ابھی سیدھے مکتب نمبر 22 چلتے ہیں۔

بسم اللہ! دیر کس بات کی، آپ حکم کریں، ہم وہیں چلتے ہیں،

 غلام محی الدین نے خندہ پیشانی سے کہا اور ویل چیئر کے ہینڈل تھام لیے۔

​سائن بورڈ کے مطابق شارعِ شاہ فہد (روڈ نمبر 68) سب سے موزوں راستہ تھا، مگر شارع القصر الملکی سے شاہ فہد تک پہنچنا ایک صبر آزما اور انتظامی رکاوٹوں کے باعث ناممکن  بن چکا تھا، کیونکہ اس کے لیے دوبارہ جمرات کمپلیکس میں داخل ہو کر لمبا چکر کاٹنا پڑتا۔ سورج سوا نیزے پر تھا اور آگ برسا رہا تھا۔ سڑک کے کناروں پر تعینات پولیس اہلکار اور رضا کار ہینڈ پمپوں اور شاوروں سے حجاج پر پانی کی مصنوعی پھوار برسا رہے تھے، مگر اس جھلساتی لو میں وہ پانی اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف تھا۔ چہرے اور گردن پر بہنے والی نمی سے اندازہ ہی نہ ہوتا کہ یہ پسینہ ہے یا شاور کا چھڑکاؤ۔ دس قدم چل کر پانی کی بوتل منہ سے لگاتے تو کھولتا ہوا پانی محسوس ہوتا۔ مجبوری میں دو گھونٹ پی کر باقی پانی سر پر انڈیل دیتے یا کوڑے دان میں پھینک دیتے۔ چونکہ ابھی حلق نہیں ہوا تھا، اس لیے احرام کی پابندی کے تحت سر پر ٹوپی، رومال یا عقال رکھنے کی ممانعت تھی اور ننگا سر سورج کی براہِ راست تپش کا نشانہ بنا ہوا تھا۔ جب بھی کوئی رضا کار ٹھنڈے پانی کی بوتل تھماتا، میں دو گھونٹ حلق تر کر کے باقی سارا پانی غلام محی الدین کے سر پر ڈال دیتا۔ بے چارے کو سر کھجانے کی فرصت کہاں تھی، وہ پسینے میں شرابور تن من سے ویل چیئر دھکیلنے میں مگن تھا۔ بھیڑ بہت تھی، مگر غلام محی الدین کے ہاتھ اب اس قدر مشاق ہو چکے تھے کہ ویل چیئر کا پہیہ کسی حاجی کے پاؤں سے نہ ٹکراتا۔

​چلتے چلتے ہم تاریخی مسجدِ خیف کے عین سامنے آ پہنچے۔ وہی مقدس مقام جہاں چودہ سو برس قبل دسویں ہجری میں سرورِ کونین، خاتم النبیین ﷺ نے حجۃ الوداع کے ایام میں قیام فرمایا تھا (اس عظیم یادگار کا تفصیلی ذکر اگلی قسط کی نذر ہوگا)۔

​ حج  انسپکٹر منظور صاحب نے مجھے منیٰ کے خیموں، فلائی اوورز اور سڑکوں کا ایک تفصیلی نقشہ دیا تھا۔ میری تمنا تھی کہ کسی صورت شاہراہ نمبر 44 سے شاہراہ نمبر 50 میں راستہ مل جائے، مگر انتظامیہ نے شارع نمبر 50 کو واپسی کے لیے لوہے کی جالیوں اور ترپالوں سے مکمل سیل کر رکھا تھا۔ چنانچہ ہزاروں کے مجمع کے ساتھ ہم تین بے بس جانیں اور ایک  بے جان ویل چیئر کھلے آسمان تلے شاہراہ نمبر 44 پر رینگنے پر مجبور تھے۔ قدم قدم پر رضا کار اور وردی پوش عملہ موجود تھا۔ ہم اپنے مکتب کا شناختی کارڈ دکھاتے، وہ بغیر بولے آگے کا اشارہ کر دیتے، زبانیں مختلف تھیں، عرب اہلکار صرف اپنی زبان بولتے اور صفائی پر مامور بنگالی بھائی ہماری بات تو سمجھتے مگر جغرافیے سے ناواقف تھے۔

​کبریٰ نمبر 25 (شاہ عبد العزیز فلائی اوور) آیا، مگر غلام محی الدین  کی رفتار تیز تھی، وہ اپنی ہی دھن میں ویل چیئر دھکیلتے ہوئے پل کے نیچے سے آگے نکل گئے۔ مڑ کر پیچھے آنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ چلتے چلتے ہم بالکل اسی جگہ  جا پہنچے جہاں سے مزدلفہ کی حدود شروع ہوتی ہیں۔ وہاں تعینات سیکیورٹی کے مستعد عملے نے ہمارا رُخ موڑا۔ بالآخر گھوم گھام کر ہم شارعِ شاہ فیصل (روڈ 50) پر آ ہی گئے۔ صرف ساڑھے تین کلومیٹر کا سفر تھا، مگر پل چھوٹ جانے کی وجہ سے جدید دور کا گوگل میپ بھی بے بس ہو چکا تھا۔اور ہمیں دس کلو میٹر کا سفر کرنا پڑا ۔

​خدا خدا کر کے دن کے بارہ بجے ہم مکتب نمبر 22 میں داخل ہوئے۔ بھوک، پیاس اور تھکن نے نڈھال کر رکھا تھا۔ مکتب میں سناٹا تھا، گنتی کے چند افراد ہی لوٹ سکے تھے۔ بیشتر حجاج شاید راستوں کی بھول بھلیوں میں گم تھے یا نایاب ہمت والے طوافِ زیارت کے لیے مکہ مکرمہ نکل گئے تھے۔ خیمے کے باہر حرم شریف کے طرز کے مخصوص پیلے ڈرم رکھے تھے، جن میں زمزم کے بجائے عام پانی کی بوتلیں برف کے بڑے بڑے ٹکڑوں میں دبا کر رکھی گئی تھیں تاکہ فریج کا کام لیا جا سکے۔ ہم نے برفیلے پانی سے کلی کی، دو چار گھونٹ پیے تو سوکھے گلے میں تری لوٹی۔ کچھ دیر بعد کھانا تقسیم ہوا، مگر نڈھال بدن میں بھوک کے باوجود لقمہ نگلنا دشوار تھا۔ خیر، کچھ لقمے زہر مار کیے تاکہ اعصاب قائم رہیں۔

​اسی اثنا میں مجھے عبدالسلام بھائی کی فکر لاحق ہوئی جو اپنے قافلے کے ساتھ بچھڑ گئے تھے۔ میں نے فون ملایا تو ان کی کانپتی آواز سے بے چارگی عیاں تھی۔ جمرات کی پہلی منزل پر وہ آسانی سے رمی تو کر چکے تھے، مگر واپسی کے راستوں سے قطعی نابلد تھے۔ چلتے چلتے ان کی بغلوں میں درد اٹھنے لگا تھا۔ بالآخر تگ و دو کرتے ہوئے ظہر کے وقت، قریباً ڈیڑھ بجے، وہ گرتے پڑتے مکتب 22 پہنچے۔ ان کے ہمراہ آنے والی شمشادہ جی (جنہیں ہم سب پیار سے آنٹی کہتے تھے) راستے میں پھر بچھڑ چکی تھیں۔

​ظہر کی نماز میں نے مکتب کے خیمے میں پڑھائی۔ عالمِ اسلام عید کی خوشیاں منا رہا تھا اور ہم صحرائے منیٰ میں سنتِ ابراہیمی کی ادائیگی میں افتان و خیزاں تھے۔ عبدالسلام بھائی کی حالت غیر تھی، انگ انگ دکھ رہا تھا۔ میں انہیں فوراً ڈسپنسری لے گیا۔ ڈاکٹر صاحب نے معائنے کے بعد درد کش مرہم تجویز کیا، مگر ساتھ ہی نصیحت کی کہ چونکہ دوائی معطر ہے، اس لیے جب تک قربانی اور حلق نہ ہو جائے، احرام کی حالت میں اس کا استعمال جائز نہیں۔

​عبدالسلام بھائی نے نم آلود لہجے میں شکوہ کیا

ماسٹر جی! آپ راستوں سے واقف تھے، ہمیں ساتھ ہی لے لیتے۔

میں نے نرمی سے کہا حاجی صاحب! جب آپ جمرات سے فارغ ہو کر نکل رہے تھے، تو ایک فون کیا ہوتا

وہ ندامت سے بولے

بس یہی غلطی ہو گئی کہ رابطہ نہ کر سکے۔ جب ہم نکلے تو آنٹی سے ان کا بھاری بیگ اٹھایا نہیں جا رہا تھا، وہ بوجھ میں نے اپنے کندھے پر ڈال لیا۔ اتنے میں محمد سلطان وڑو صاحب ہجوم میں کم ہو  گئے۔ ایک جگہ آنٹی اور میری اہلیہ پانی پینے رکیں تو آنٹی ہجوم کے ریلے میں اوجھل ہو گئیں۔ ہم بیگ اٹھائے انہیں کھوجتے رہے اور اسی چکر میں واپسی کا سرا ہاتھ سے چھوٹ گیا۔

​عصر کا وقت قریب آیا تو خیمے میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی۔ سبھی حجاج اپنے اپنے قربانی کوپن کے بار کوڈ موبائل فون سے اسکین کر رہے تھے کہ قربانی کی تصدیق ملے۔ میں نے بار کوڈ کی تصویر گھر پر اپنے بیٹے تجمل رشید کو بھی بھیجی تھی، مگر  سرور کے جمود کے باعث کوئی مصدقہ جواب موصول نہیں ہو رہا تھا۔ شام کے سات بجنے کو آئے تو واٹس ایپ گروپوں میں سرگوشی پھیلی کہ بھارتی حجاج کی اجتماعی قربانی مکمل ہو چکی ہے اور حلق کروایا جا سکتا ہے۔ مگر بار کوڈ اسکین کرنے پر اب بھی خاموشی تھی۔ کچھ حجاج شکوک کے عالم میں تھے تو کچھ نے توکل کر کے ٹرمر اور استرے نکال لیے اور حلق شروع کر دیا۔

​میں بھی گہرے تذبذب میں تھا کہ طاہر رشید پنڈت نے آ کر ٹوکا

ماسٹر جی! آپ نے ابھی تک بال کیوں نہیں کٹوائے؟

بھائی! جب تک باوثوق اطلاع نہ ملے، قبل از وقت حلق کروا کر عبادت میں کوئی نقص پیدا کرنا مناسب نہیں۔

ابھی یہ گفتگو چل ہی رہی تھی کہ حج کمیٹی کے آفیشل پورٹل پر حتمی تصدیق کا پیغام نمودار ہوا کہ قربانی کا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے، لہٰذا حجاج حلق کر کے احرام کھول سکتے ہیں۔

​قربانی کا یقین ہوتے ہی میرے تخیل کے پردے پر دس ذی الحجہ، دس ہجری کا حجۃ الوداع کا منظر تیر گیا۔ نبیِ رحمت، فخرِ موجودات ﷺ مزدلفہ سے وادیِ محسر ہوتے ہوئے تشریف لاتے ہیں، جمرۂ عقبہ کی رمی فرماتے ہیں، اور جہاں آج مسجدِ خیف کی شاندار عمارت استادہ ہے، وہاں آپ ﷺ کا خیمہ نصب تھا۔ آپ ﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے تریسٹھ اونٹ نحر فرمائے، ہر اونٹ سے گوشت کا ایک ایک ٹکڑا لے کر ہنڈیا میں پکایا گیا، اس میں سے گوشت اور شوربا نوش فرمایا اور باقی سب مساکین میں بانٹ دیا۔ پھر سرِ اقدس کے بال منڈوائے، احرام کھولا اور طوافِ افاضہ کے لیے بیت اللہ شریف روانہ ہوئے۔ کیسا مبارک اور لازوال وہ منظر ہوگا

​میں نے شکرانے کا سانس لیا اور وضو خانے کی طرف لپکا۔ اپنا ٹرمر نکالا، مگر بدقسمتی سے اس کی بیٹری جواب دے چکی تھی۔

ماسٹر جی، یہاں  آئیں

یہ آواز سوپور کے مشتاق صاحب اور ہارون کے گلزار صاحب کی تھی۔ ان کے پاس استرا اور مشین موجود تھی۔ گلزار صاحب نے محبت سے ٹرمر کے ذریعے میرے بال چھوٹے کیے اور مشتاق صاحب نے مشین چلا کر سر کو بالکل صاف کر دیا۔

​جب سر پر مشین پھر رہی تھی تو دل کی گہرائیوں سے ایک ہوک اٹھی۔ سر کے بال تو انسانی ہاتھ نے چند لمحوں میں صاف کر دیے، کاش کوئی ایسا ہاتھ بھی مل جاتا جو میرے بالوں کے ساتھ ساتھ میرے سر اور جسم پر لدے ہوئے گناہوں کے بار کو بھی صاف کر دیتا! 

مگر منیٰ کی اس وادی میں ایسا کوئی بشر کہاں ملتا؟

 میں نے چاروں طرف نگاہ دوڑائی، زمین سے لے کر افق تک دیکھا، گناہ صاف کرنے والا کوئی انسان دور دور تک نہ تھا۔

​اسی کیفیت میں نظریں آسمان کی طرف اٹھ گئیں۔ مغرب کا وقت آن پہنچا تھا اور افقِ منیٰ زردی مائل شفق کی چادر اوڑھ رہا تھا۔ یکایک خیال غفور الرحیم کی بے پایاں رحمت کی طرف گیا، اور روح کی گہرائی میں یہ ندا گونجتی محسوس ہوئی کہ: 

”اے بندے! انسانوں میں کیا تلاش کرتا ہے؟

 میں تو تیری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں۔ ذرا مجھے سچے دل سے پکار کر تو دیکھتا!

 انسان واقعی کتنا جلد باز اور بے صبر ہے۔

​مکتب کا منظر عجیب تھا۔ حاجی بھائی ایک دوسرے کے سر مونڈ رہے تھے۔ ناتجربہ کار ہاتھوں کے سبب کئی سروں سے خون کی سرخ بوندیں بھی رس رہی تھیں، خدا کا فضل ہوا کہ میرا سر کسی کٹ سے محفوظ رہا۔ میں نے نل کے نیچے سر پر  پانی بہایا۔ دل میں ایک ہی التجا تھی کہ کاش اس پانی کے بہاؤ کے ساتھ میرے گناہ بھی دھل کر صاف ہو جائیں۔ اگر اس سرزمین پر، اس ساعت میں بھی مغفرت نہ ہوئی تو پھر کب ہوگی؟

​اور پھر وہ لمحہ آ گیا جب احرام اتارنے کا وقت ہوا۔ سفید سوت کی دو ان سلی چادریں جن کے زیب تن ہوتے ہی بہت سے حلال کام بھی  حرام ہو چکے تھے۔ اب حلق کے ساتھ ہی وہ حلال ہو رہے تھے۔ دل عجیب اداسی سے بھر گیا۔ آٹھ ذی الحجہ سے دس ذی الحجہ تک، ان تین دنوں اور تین راتوں میں، ان دو چادروں سے کیسی گہری روحانی انسیت ہو گئی تھی۔ خاک و پسینے سے ان کا رنگ قدرے مٹیالا ہو چکا تھا۔ کاش میرے وجود سے گناہوں کا لباس بھی اسی طرح ہمیشہ کے لیے اتر جاتا!

 میں نے ادب اور سلیقے کے ساتھ احرام کی چادریں تہہ کر کے بیگ  میں رکھیں، اور اپنا روایتی کُرتا شلوار پہن لیا۔

​جیسے ہی عام لباس زیب تن کیا، اندر کا نفس یوں کسمسایا گویا قید سے چھوٹا ہو۔ 

وہ اکڑ کر کہنے لگا: اب تو  تو آزاد ہے!

 بالوں میں کنگھی کر سکتا ہے، معطر صابن اور خوشبو لگا سکتا ہے، سلے ہوئے کپڑے پہن سکتا ہے۔ مجھے ممتاز مفتی مرحوم شدت سے یاد آئے۔ اگر وہ بقیدِ حیات ہوتے تو  اس دوغلے نفس پر نہ جانے کیسی دل دکھا دینے والی بات لکھتے کہ میں اپنے ہی اندر شرمندہ ہو کر رہ جاتا۔

​اہلیہ کی حالت نازک تھی دن بھر ویل چیئر کے جھٹکوں نے ان کا سارا انگ انگ نچوڑ کر رکھ دیا تھا، اور غلام محی الدین بھی مشقت سے ادھ موئے ہو چکے تھے۔ مغرب کی اذان گونجی تو ہم نے خیمے میں باجماعت نماز ادا کی۔ نماز کے بعد مشتاق صاحب نے ترغیب دی:

آئیں، عشاء کی نماز تاریخی مسجدِ خیف میں ادا کرتے ہیں۔

​ہم چھ سات حجاج چل پڑے۔ کبریٰ شاہ عبد العزیز (25) کے نیچے سے گزرتے ہوئے، آدھے گھنٹے کی تیز رفتاری کے بعد شارعِ شاہ فیصل (نمبر 50) سے ہوتے ہوئے ہم عین مسجدِ خیف کے  گیٹ کے سامنے جا پہنچے۔ مگر سامنے سعودی پولیس کی رکاوٹیں حائل تھیں۔ اہلکاروں نے سیدھا داخلہ دینے کے بجائے سخت لہجے میں حکم دیا کہ پہلے گھوم کر جمرات کمپلیکس جائیں اور پھر طویل چکر کاٹ کر سیدھے راستے سے اندر آئیں۔ اس کا مطلب مزید دو ڈھائی کلومیٹر کی مشقت تھی، اور تب تک عشاء کی جماعت کب کی چھوٹ چکی ہوتی۔

​ہمارے ساتھ ایک مصری حاجی بھی تھا۔ جب ہم نے انگریزی میں التجا کی تو پولیس والوں نے سنی ان سنی کر دی۔ تب اس مصری نے عربی زبان میں ترکی بہ ترکی مورچہ سنبھالا۔ وہ ہاتھ ہلا ہلا کر اور سینہ تان کر خوب گرجا، مگر ڈیوٹی پر مامور جوانوں نے اس کی کسی دھمکی کو خاطر میں نہ لایا اور راستہ نہ کھولا۔

​نامراد اور نڈھال، ہم الٹے قدموں مکتب نمبر 22 کی طرف لوٹ آئے۔ خیمے میں پہنچ کر عشاء کی نماز ادا کی، کھانے کھایا اور پھر اسی ہمہ مقصدی صوفہ کم بیڈ کو کھول کر بچھایا۔ عاجزانہ دعا کے بعد، چھ ضرب ڈیڑھ فٹ کے اس مختصر بستر پر لیٹتے ہی نیند نے اپنے آغوش میں لے لیا۔

​عبدالرشید سرشارؔ

حالسیڈار، ویریناگ (کشمیر)

رابطہ: 7006146071



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!