ادب
غزل:. از.... عشیار عبداللہ

✍️ :. عشیار عبداللہ کیا حاصل ہے تدبیروں کا سب کھیل ہے بس تقدیروں کا ----------------- بے حال ہمیشہ رہتے ہیں نا پوچھو حال فقیروں کا ----------------- زنداں میں پڑا ہوں زندہ ہوں ممنون ہوں ان دیواروں کا ----------------- کوئی چارہ کر اے چارہ گر پاؤں میں پڑی زنجیروں کا ---------------- جو ان کے لب سے گرتے ہیں کوئی مول نہیں ان ہیروں کا ------------------ وہ مرشد ہے وہ ہادی ہے وہ رہ بر ہے سب پیروں کا ------------------ بس میری آنکھ سے اوجھل ہے اک تارہ وہ رہ گیروں کا