افسانہ
ناتواں کا بوجھ :... افسانہ

ویران آنگن،ہو کا عالم ، رات کا سناٹا تھا، مگر حلیمہ کی موت کو ایک سال گزر جانے کے باوجود صمد جو کے دل کا غبار چھٹنے کا نام نہیں لیتا تھا۔ آنگن میں گردو غبار کے ڈھیر پر آکاش کنڈلی مارے بیٹھا تھا۔ اس کے بال خودرو برساتی جھاڑیوں کی طرح بڑھ چکے تھے، اور وہ ایک پرانی، میلی دری پر بیٹھا غوں غوں کی آوازیں نکال رہا تھا۔ مچھر بیں بیں کرتے اس کے بدن کا جیسے معائنہ کر رہے تھے۔صمد جو ایک کونے میں حقہ کی نے منہ میں ڈال کر غمگین آنکھوں سے ستاروں کو گھور رہا تھا۔
پڑوسن شاہ مالی (آہستہ سے صحن کا دروازہ کھٹکھٹا کر): صمد بھائی، کیا حال ہے؟ رات بہت ہو گئی، آکاش نے کھانا کھایا؟
صمد (حقے کا دھواں چھوڑتے ہوئے): بہن، کھانے کو تو پیٹ مانگتا ہے، مگر اسے کھلانا… کھلانے سے پہلے نہلانا، نہلانے سے پہلے اس کے کپڑے بدلوانا، اور پھر یہ گندگی!
حلیمہ تھی، تو جیسے تیسے پیار کی رسی سے بندھا تھا، اب تو بھاگنے کی فکر میں رہتا ہے۔ میں بھی تھک گیاہوں۔ چاروں طرف سے قرض، اور یہ عذاب!
شاہ مالی: اللہ صبر دے! مجھے دکھ ہے کہ وہ سنتا نہیں، بولتا نہیں، اوپر سے نظر بھی کمزور ہے۔ یہ روگ تو ماں کا کلیجہ ہی سہہ سکتا تھا۔ حلیمہ تھی، تو سب قدرے بہتر تھا، اب آپ اکیلی جان اوپر سے بڑھاپا۔۔۔
صمد جو (آنسو ضبط کرتے ہوئے): اکیلا پن نہیں، بوجھ تلے دبا ہوں۔ یہ گھر، یہ گندگی، یہ میرا خون۔ پندرہ سال کا جوان، مگر مجھ سے ایک بچے کی طرح بھی سنبھلتا نہیں۔ گھر میں کون ہے جو اس کا ہاتھ پکڑے؟ بڑے بیٹے شہر میں کما رہے ہیں، انہوں نے تو منہ موڑ لیا۔ انہیں بس اپنی جیب اور اپنی عزت پیاری ہے۔ ایک ناتواں کا بوجھ کون اٹھائےگا؟
شاہ مالی: بھائی، خدا کو یاد کرو۔ گاؤں والے بھی اب تھک گئے ہیں۔ روز بھاگ جاتا ہے، روز کوئی نہ کوئی ڈھونڈ لاتا ہے۔ اب اس کا حال تو ایک آوارہ کتےکی طرح ہو گیا ہے۔ گندے کپڑے، جوؤں بھری زلفیں... اس طرح تو کوئی بھکاری بھی نہیں ہوتا۔
صمد جو (ٹھنڈی سانس بھر کر): اسے کوئی نہیں جانتا، بہن۔ اسے بھی کوئی نہیں چاہیے اب۔ شاید اسی میں اس کی نجات ہے۔
چند ہفتوں بعد، آکاش گاؤں سے بہت دور، ایک نئی بستی کی پرانی مسجد کے پاس، ویران کھنڈر میں پناہ لیے ہوئے تھا۔ اس کا جسم مٹی اور میل کا آمیزہ بن چکا تھا۔
اس بستی کے تین نوجوان، شاہد، الطاف، اور فاروق، رفاہی کاموں کی وجہ سے مشہور تھے۔ ان کا دل دردمندی سے لبریز تھا۔ وہ اکثر سڑکوں اور پلوں کے نیچے سے ایسے ہی مجبور، بےکس انسانوں کو اٹھا کر اپنے "باز آبادکاری مرکز" لے جاتے تھے۔
تینوں نوجوان عصر کی نماز کے بعد چہل قدمی کر رہے تھے۔
شاہد (آکاش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، جس کے بال کانوں سے نکل کر گردن تک آ رہے تھے): دوستو، اس بیچارے کو دیکھو۔ انسان ہے یا کوئی جانور؟ مجھے تو دیکھ کر ہی جگر پھٹا جا رہا ہے۔ اس کی حالت تو ایسی ہے جیسے برسوں سے پانی کا ایک قطرہ بھی نہ پڑا ہو۔
الطاف: ہاں، شاہد۔ اس کے گندے کپڑوں اور لمبے بالوں میں جوؤں کی پوری کالونی آباد ہے۔ مگر ایک بات کی تسکین ہے کہ یہ ہمارے علاقے کا نہیں ہے۔ پردیسی ہے، ورنہ گاؤں میں شور مچ جاتا۔
ہیلو بھائی آپ کانام کیا ہے؟
شاہد نے اس نوجوان سے پوچھا۔
غوں،غوں،غوں،غوں
ارے یہ تو گونگا ہے الطاف نے مداخلت کرتے ہوئے کہا ۔
فاروق (افسوس سے سر ہلاتا ہے): اسے کیا معلوم کہ اس کا گھر کہاں ہے اور وہ کون ہے؟ بھائی، میں نے کئی جوان ایسے دیکھے ہیں۔ یہ بیچارے تو تقدیر کے مارے ہیں۔ انہیں تو کوئی اپنا نہیں سکتا، سوائے کچھ فلاحی انجمنوں کے۔ اسے تو کسی نے پھینک دیا ہے یا بوجھ سمجھ کر آزاد کر دیا ہے۔
شاہد (فوری فیصلہ کرتے ہوئے): زیادہ سوچنے کا وقت نہیں۔ ہمیں ہمدردی کے احساس سے منہ نہیں موڑنا چاہیے۔ یہ ہمارا امتحان ہے۔ چلو، اسے یہاں سے اٹھاتے ہیں۔
الطاف: کیا اسے زبردستی لے جائیں گے؟ وہ تو غصے میں ہے، دیکھو کیسے ہاتھ ہلا رہا ہے۔
شاہد: ہمیں اسے اس کی مرضی کے خلاف ہی سہی، مگر اس گندگی کے ڈھیر سے نجات دلانی ہوگی۔
تینوں آکاش کی طرف بڑھے۔ آکاش نے غضبناک انداز میں شور مچایا، ہاتھ پاؤں مارے، مگر شاہد نے پیار سے اس کے بال پکڑے۔ فاروق نے جلدی سے ٹرمر نکالا اور ایک ایک کرکے اس کے سارے بال نیچے گرنے لگے،یوں لگ رہا تھا جیسے ایمزون کے جنگلات میں شدید طوفان سے آسمان سے باتیں کرتے درخت زمین بوس ہو رہے ہوں ۔پھر اس کے پھٹے ہوئے گندے چیتھڑے پھاڑ دیے گئے۔
فاروق (تولیہ پکڑے ہوئے): آؤ شاہد، پہلے اسے خوب نہلائیں اور پھر گرم پانی سے صاف کریں۔ اس پر لگی ہوئی میل کی تہہ تو چلہ کلان کے برف کی طرح سخت ہو گئی ہے۔
آکاش غوں غوں کر رہا تھا، جیسے ایک زخمی جانور۔ مگر جب صاف، نئے کپڑے پہن کر وہ باز آبادکاری مرکز کے صاف ستھرے کمرے میں نرم بستر پر لیٹا، تو اس کے چہرے پر ایک عجیب سی بے چینی اور سکون کی ملی جلی کیفیت تھی۔
شاہد (آکاش کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے، اطمینان سے): بھائیو، یہ دردمند دل اللہ نے اسی لیے دیا ہے تاکہ ہم ان ناتواں اور بیکس لوگوں کا بوجھ اٹھا سکیں جنہیں ان کے اپنے ہی لوگ بوجھ سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں۔ انسانیت کی سب سے بڑی خدمت یہی ہے۔
(تینوں دوست آکاش کی طرف دیکھ کر مسکرائے۔ ان کی آنکھوں میں کراہت نہیں، بلکہ اپنائیت کی روشنی تھی، جو اس بے زبان، بے سہارا انسان کو ایک نئی زندگی کی طرف لے جا رہے تھے۔۔۔۔۔
حالسیڈار ویریناگ
7006146071