Ad
مضامین

زخمی شال فروش ۔۔۔شامت ِاعمال ما!

✍️:. ش م  احمد / سری نگر 


7006883587

 اُتراکھنڈ میں ۱۷ ؍سالہ کشمیری شال پھیری والے مسمی دانش اور اس کے بھائی تابش خان پر دن کی روشنی میں ہجومی حملہ ایک قابل ِافسوس واقعہ اور صدمہ خیزسانحہ ہے۔ اگردل دُکھانے والایہ واقعہ سوشل میڈیا کی وساطت سے اُجاگر نہ ہواہوتا تو شاید ہی کسی کو پتہ چلتا کہ دو کشمیری شال فروش دونوعمر بھائیوں کووکاس نگر اُترا کھنڈ میں ایک مٹھائی والے مسمی یادو نے اپنی بدسلوکی اورمارپٹائی کا ہدف بنایا۔ بتایا جاتاہے کہ مذکورہ حلوائی نے ان بھائیوں کانام پتہ پوچھا اورجونہی ان سادہ لوحوں نےاُس پرا پنی کشمیری شناخت ظاہر کی تو یادو اُن کے ساتھ نفرت وبیزاری سے پیش آیا ‘ ساتھ ہی اپنےسا تھیوں سے مل کران بے چاروں کو ہجومی تشدد سے زخم زخم کرکےچھوڑا۔ اطلاعات کے مطابق حملے میں دانش کا بازو فریکچر ہوا ‘ وہ بچارا خوف زدہ ہے‘ درد سے کراہ رہا ہے اورڈرا سہما ہے ۔ میڈیا ئی تفصیلات سے باورہوتاہے کہ یہ دوبھائی حلوائی سے کچھ خریدنے گئے تھےکہ ان کے ساتھ یہ ظالمانہ حادثہ پیش آیا۔بلااشتعال گالم گلوچ ‘ نفرتی باتیں اور جلی کٹی سنانے کے علاوہ انہیں کس جرم میں جسمانی تعذیب وتشدد سے لہولہاں کیا گیا‘ پتہ نہیں۔ دانش کی زخمی حالت میں لی گئیں منہ بولتی تصویریں دیکھ کر ہر باضمیر انسان کا کلیجہ کو منہ آتا ہے۔

ان سے بین السطور کشمیرکی جواں پیڑھی کا درد بھی جھلکتا ہے اور کشمیریوں کے تئیں بیرونی ریا ستوں میں نفرت‘ عداوت اور بدظنی کی منفی شبیہ بھی نگاہوں کے سامنے رقصاں ہوتی ہے۔ یہ رُوداد بزبان ِ حال اربابِ حل وعقد سے سوال کرتی ہے کیا یہی بدسلوکی کشمیریوں کاصلہ ہونی چاہیے جنہوں نے مئی۲۰۲۵کوپہلگام میں جگر سوز دہشت گردانہ حملے کے دوران اپنے ایک مایہ ناز سپوت سید عادل حسین شاہ جیسے بہادر‘ باضمیر اور باشعور نوجوان کے ایثار کی لافانی مثال قائم کی؟ کیادیس واسی اتنی جلدی بھول گئے کہ شہید عادل نامی گھڑ بان نے گولیوں کی دندناہٹ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ایک حقیقی ہیروکی طرح سیاح مہمانوں کا بچاؤ کیااور اپنی انسانیت کی گہری چھاپ تاریخ کے صفحات میں چھوڑتے ہوئے سیاحوں کے دفاع میں اپنی جان تک قربان کی ؟عادل نے کشمیر کی تاریخ میں ایک فخریہ باب رقم کرکے ملک اور انسانیت کے ساتھ وفا داری کی اچھوتی مثال قائم کی لیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ انسان دوست اورملک وقوم کی وفادار کشمیر کی نوجوان نسل کے تئیں بیرونی ریاستوں میں بعض کئی لوگ حساسیت‘ ممنوعیت اور اپنائیت کا مظاہرہ کرنے کی بجائے ناسمجھی کے عالم میں خواہ مخواہ اہلِ کشمیرکے خلاف دلوں میں غلط فہمیاں اور بدگمانیاں پالے ہوئے ہیں اور جب بھی اُنہیں موقع ملتا ہےتو کشمیریوں کو نفرتوں کا لقمہ ٔتر بنانے سے کتراتے نہیں۔اُتراکھنڈ کے بعد اب محمد رمضان نامی کشمیری پشمینہ شال والے کے ساتھ بھی ہماچل میں ہراسانی کا ایسا ہی قصہ پیش آیا ہے ۔ پوچھا جاسکتا ہے کہ دانش ‘ تابش ‘رمضان کا قصور کیا ہے سوائےاس کے کہ وہ کشمیر کے بے خطا بیٹے ہیں؟ حالانکہ انسانی ہمدردی کا تقاضا یہ ہے کہ کوئی بھی دانا وبیناانسان جب کسی محنت کش نوجوان کو گھر بار سے سینکڑوں میل دور محنت اور ایمان داری سے کمائی کرتا پائے تو اس کے دل میں ایسے شخص کے تئیں ہمدردیوں کا سمندر موجزن ہو اور زبان پر میٹھے بول ہونے چاہیں‘ کجا کہ اس کے خلاف گالیاں بکی جائیں‘ اُسے آہنی سلاخوں سے جسمانی تشدد و ذہنی عتاب کا نشانہ بنایاجائے ‘ نفسیاتی اتیا چار کی سزا دی جائے ۔ یہ چیز بنیادی انسانی قدروں کی توہین کے برابرہے ۔ 

    ہمیں یہ بدیہی حقیقت نہیں بھولنی چاہیے کہ وادی ٔ کشمیر کے گلی کوچوں میں دانش اور تابش کےہم عمر شہزادے اکثر دُنیا ومافیہا سے غافل موبائیلوں میں گم نظر آتے ہیں‘ سیکوٹی بائیک ہوائی جہاز کی رفتار سے اُڑاتےپھرتے ہیں ‘بازاروں کی مٹر گشتی ان کا شوق اورسڑک چھاپ مجنون ہونا ان کا مشغلہ ہوتا ہے ‘لیکن ہر کوئی اپنے منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا نہیں ہوتا‘ اس لئے لونڈوں کی اسی بھیڑ سے الگ  ایسےکوتاہ نصیب لڑکے بھی ہوتے ہیں جنہیں ذہن میں گھریلوحالات کا دباؤ ‘ گلے میں تنگ دستیوں کا طوق اورگردن میں محرومیوں کا قلادہ پڑا ہو تو بچپنے کے شوق مارنے پڑتے ہیں اور ارمانوں کی چتا خوداپنے ہاتھوں جلانی پڑتی ہے۔ کوئی ان میں سے غربت وناداری سے جنگ لڑتے ہوئے ٹھیلہ والا ‘ کوئی ہاتھوں میں آبلے اور پیروں میں چھالے قبول کر نے والایومیہ مزدور ‘ کوئی شال پھیری والا بنتا ہے ‘ تاکہ گھر والوں کو دووقت کی روٹی کھلاسکے ۔ دانش اور تابش کشمیری نوعمروں کی اسی قبیل سے تعلق رکھنے والے محنت کش ہیں ‘ کوئی رئیس یا بادشاہ نہیں ۔ گھر والوں سے جدائی اور دوستوں سے دُوری کا بھاری بوجھ دل میں دبائے اگر حلال روزگار کمانے کی جدوجہد نے اُنہیں اُترا کھنڈ کھینچ لیا تو اُن کو شاباشی اورمحبتیں ملنی چاہیں جس طرح ہم کشمیر میں بہار وبنگا ل اور دلی ویوپی سے آنے والے لاکھوں مزدروں اور کاریگروں کو ہرسال کشمیر میں سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں ۔ سُوئے اتفاق سے ان ٹھوس وشرین حقائق سے کلی ناواقف یادو نامی غنڈے نے ان دوبے ضرر بھائیوں کو آسان ہدف سمجھ کر مارا پیٹا ‘یہ کوئی مردانگی نہیں بلکہ بزدلی اور کائرتا ہے جسے اُتراکھنڈ کا ہر ذی شعور آبائی باشندہ مان مریادا کے خلاف مانے گا ۔ اگر حملہ آور حلوائی کے پاس ضمیر نامی روکنے ٹوکنے والی کوئی داخلی میزان صحیح سلامت ہو تو وہ اپنے کئے پر یقیناًپچھتاوئے کے آنسو بہا چکاہوگا ۔ 

 اُترا کھنڈ میں پیش آئے دل خراش واقعے کی دُھوم کشمیرمیں مچ گئی ‘ لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے‘ خاص کراُن لوگوں کو احساس ِعدم تحفظ نے مغلوب کیا جن کے عزیزواقارب بیرون ِ ریاست کاروبار ‘ تعلیم ‘ علاج ومعالجہ یا سیرسپاٹے وغیرہ کی غرض سے آیا جایا کرتے ہیں۔ کشمیر کے بلند پایہ مذہبی قائد میرواعظ ِکشمیرڈاکٹر محمدعمر فاروق نے اپنے جمعہ خطبے میں اس اندوہناک واقعے پر فکر وتشویس کا اظہار کرکے کشمیری عوام کے مجروح جذبات کو اظہار کی زبان عطاکی‘ انہوں نے بجاطور اربابِ اقتدار سے اپیل کی کہ بیرونِ کشمیر کام کاج کرنے والے اہل کشمیر کو معقول تحفظ دیا جائے۔ سیاسی گلیاروں کے لئے یہ مذموم واقعہ اخباری بیانات کا گرماگرم موضوع بنا ہواہے۔ متواتر وقوع پذیر ہونے والی اس نوع کی وارداتوں پر سیاسی پارٹیوں کے بیانات آج تک کتنے اثر انگیز ثابت ہوئے ‘اس سے صرفِ نظر کرتے ہوئے غنیمت ہے کہ کم ازکم سیاسی لوگوں کواس ایک جگرپاش پاش کرنے والے سانحہ پر اُف کرنے کی تو فیق ملی ۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کو دادملنی چاہیے کہ ہفتے کو اس مسئلے کو دنیا کے سامنے لانے کے لئےاس نے سری نگر میں شال فروشوں کی مارپیٹ ہونے پر ایک پُرامن احتجاجی ریلی نکالی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیری تاجروں اور طلبہ وطالبات وغیرہ کی بیرون ِ کشمیر حفاظت یقینی بنانے کے لئے اپنا موثر کردار اداکرے۔ قبل ازیں وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے پیش قدمی کر کے اُترا کھنڈ کے چیف منسٹر پشکر سنگھ دھامی سے فون ملاکراُن کی توجہ اس شر انگیزواقعے کی جانب مبذول کرائی ‘ اور غلط کام میں ملوثین کو قانون کے کٹہرے میں لانےکی اپیل کے ساتھ ساتھ اُتراکھنڈ میں کشمیر ی محنت کشوں وغیرہ کا تحفظ یقینی بنانے کی التماس کی ۔ سرکاری سطح ٹیلی فون کا اثر یہ ہوا کہ حملے کےذمہ دار ملزم کے خلاف پولیس میں ایف آئی آر درج کی جاچکی ہے ۔ آگے عدالت طے کرے گی کہ مظلوموں کو انصاف دینے کے لئے غیر قانونی حرکت میں ملوث مجرموں کو کیا سزا ملنی چاہیے۔ 

 یہ تصویر کا ایک رُخ ہے ۔ معاف کیجئے کہ تصویر کا دوسرا رُخ ذرا تیکھا اور کڑوا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ ملک بھر میں قبل از ۹۰ کشمیری تاجرین ‘ طلبہ ‘ کاریگر‘ کارخانہ دار ‘محنت کش اور علاج ومعالجے کی سہولیات سے مستفید ہونےکے لئے بیمار ملک کے ایک گوشے سے دوسرے گوشے تک بلا خوف و خطر آمدورفت کرتے تھے‘ کشمیر کے شال دوشالے سمیت کشمیر کی شہرہ ٔآفاق دست کاریاں‘ پیپر ماشی مصنوعات‘ وڈ کارونگ‘ سیب ‘ اخروٹ‘ زعفران وغیرہم کاکاروبار بیرونِ کشمیر عروج پرتھا‘ باہر تمام کشمیریوں کی اپنی عزت ومنزلت تھی‘ کسی کشمیری کو جسمانی گزند پہنچانا ‘اُسے چھیڑنا‘ ناکردہ گناہوں کی پاداش میں نفسیاتی ہراسانی کا شکار بنانا تو درکنار ملکی عوام کشمیریوں کو بصد شوق کشمیری خان کے محبت بھرے نام سے پکار تے‘ان کی سادگی اور مہمان نوازی کی تعریفوں میں رطب اللسان رہتے لیکن اعتماد ومحبت کا یہ سارا شیش محل اُس وقت چکنا چور ہو ا جب کشمیر میں ۸۷ کی شرمناک انتخابی دھاندلیوں کا نتیجہ نوے کے زہرناک گن کلچر کی صورت میں نکلا ۔ یہ کلچر شروفساد کے ایک ظلماتی سیزن کی نیو بنا کہ دھرتی کے سورگ کا سب کچھ تہ وبالا ہوا‘ ہر شئے لٹ گئی‘ امن وسکون برباد ہوا ‘ بھائی چارہ قصۂ پارینہ ہوا‘ تعمیر وترقی کا سہاناسفر رُک گیا‘ لاقانونیت قانون بن گئی ‘ بگاڑ کو بناؤ کہہ کر قبولا گیا‘ بدنظمی کو شرف ِعامہ ملا‘ انسان دشمنی کارِ ثواب ٹھہرائی گئی‘ اقلیتی پنڈت برادری اور گن کلچر کی ہیبت کے سامنے نہ جھکنے والے بعض مسلمان اور مستند سیاسی چہرے خوف ‘ گھٹن اور ہلاکت خیزفضا سے گلوخلاصی پانے کے لئےاپنے گھربار‘ کاروبار اور قیمتی املاک چھوڑ چھاڑ کر کشمیر سے مجبورانہ ترکِ مکانی کر گئے‘ میدان خالی پاکر فتنہ انگیز شورش نے خود فریبی کے عالم میں بہکے لوگوں کو جاگتے آنکھوں کےخواب دئے اورجذباتی نعروں کی افیون پلائی کہ ہرامن پسند کشمیری بدامنی کا مہرہ بنے گھر پھونک تماشہ دیکھنے والا بن کررہا‘ عقل والے حماقتوں کی رو میں بہہ گئے‘ بصیرتوں کے روشن چراغ بجھ یا بجھا دئے گئے۔ 

اِ دھر یہ سب کچھ کرگزرنے کے بعد بہت جلد عادت سے مجبور گن کلچر کے خون خوار شہمارنےاپنے ہی دُودھ پلانے والوں کو بڑے پیمانے پر ڈسنا شروع کیا کہ عام خام لوگ خیالی جنتوں کے آسمان سے دھڑام سے نیچےآگر ے ‘ حقیقت کی دہلیز پر پہنچ کر وہ اس فاسد کلچر سے نجات پانے کی سبیلیں سوچنے لگے ‘ اُدھر ملکی عوام میں کشمیریوں کے تئیں نفرت‘ شکوک و شبہات اور انتقام گیری کے منفی جذبات کالاوا اپنی جگہ بدستور پکتا رہا‘ جس کا خمیازہ بیرونِ ریاست آنے جانے والے کشمیری وقفے وقفے سے گزشتہ تین دہائیوں سے اٹھائے جا رہےہیں۔ اُتراکھنڈ کا واقعہ اسی صورت حال کی ایک کڑی سمجھی جانی چاہیے ۔ بہر کیف برسوں قبل اُس وقت کے وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد نے بھی شمالی ہند کے آٹھ وزرائے اعلیٰ کے نام سرکاری مکتوب بدیں مضمون لکھ کر ان سے استدعا کی تھی کہ وہ اپنی ریاستوں میں موجودکشمیریوں کی جانی ومالی حفاظت اور عزت داری یقینی بنائیں ‘ لیکن ان سارے سرکاری اقدامات کا کوئی دیرپا اثر نہ ہوا۔ زمانے کی گردش نے پھر ۲۰۱۹  کا وہ فیصلہ کن لمحہ بھی دیکھا جب پارلیمنٹ میں دفعہ ۳۷۰  کی تنسیخ کا قانون منظور ہو ا‘ یہ آئینی اقدام کشمیرمیں گن کلچر کے تابوت میں آخری کیل ثابت تو ہو امگر بدقسمتی سے وہ شکوک وشبہات ‘ منافرتیں اور بے اعتمادیاں ملکی عوام کے ایک حصےکے دلوں میں ابھی تک قائم ودائم ہیں جو نوے کے اندھیاروں کی دین ہیں ۔ افسوس کہ پہلگام میں کشمیریوں کی انسانیت پسندی کی نظیر قائم ہونے کے کچھ ہی ماہ بعد دلی بم بلاسٹوں کی قابلِ نفرین وارادت میں وائٹ کالر کشمیریوں کے گھناؤنےکردار نے کشمیریوں کے تئیں نفرت ‘ مغائرت اور شکوک کے زخموں کو یک بار تازہ کرڈالاہے اور ہماری اجتماعی شبیہ دوبارہ مسخ ہوکررہ گئی کہ نہ گھر کے رہے نہ گھاٹ کے۔ آج کی تاریخ میں اُتراکھنڈ کا دلدوزواقعہ اوراس سے پہلے ہماچل‘ یوپی‘ پنجاب وغیرہ میں کشمیریوں کی جو دُرگت ہوتی رہی ‘ اُن سے ہمارے دل چھلنی ہوتے رہے ‘ پھر بھی ہماری اجتماعی بگڑی شبیہ کولے کر ہمارے بارے میں ملک کی دیگر ریاستوں میں جو لوگ اب بھی مشتعل ‘ برہم یاغصہ ہیں ‘اُن کی غلط بینی اپنی جگہ مگرخرابی ٔ بسیار کے باوجود ابھی تک عقل سے پیدل کشمیر کے کچھ نادان دوست ہیں جو کہیں نہ کہیں اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مارنے کے مسلسل مجرم بنے ہیں کہ ہماراحال اس شعر کی عملی تشریح محسوس ہو رہاہے   ؎

  دیدہ ٔ عبرت کشا‘ قدرتِ حق را بہ بیں

شامت ِ اعمال ما صورت ِ نادر گرفت

 ترجمہ : عبرت کی آنکھ کھول کرخدا کی قدرت دیکھو ‘ ہمارے لئے اپنے ہی بُرے اعمال کی نحوست نے نادر شاہ کی شکل اختیار کی۔ 

اس شعر کے پس منظر میں یہ حکایت زبان زد عام ہے کہ نادر شاہ نے لوٹ مار کی نیت سے ۱۷۳۹ میں افغانستان سے دلی پر فوج کشی کی‘ تخت ِدلی پر بدنام زماں کاہل طبع عیاش مست مولا بادہ نوش مغل بادشاہ محمدشاہ رنگیلا براجمان تھا‘ دلی پر تباہ کن حملہ ہوا‘ دلی کی اینٹ سے اینٹ بجاگئی ‘ قتل وغارت کیانتہا ہوئی مگر رنگیلا بادشاہ اپنے شباب ورباب وکباب کی مجالس میں غرق رہا ‘ لوگ بے یارومدگار تھے‘ اُنہیں حملہ زن فوج کی زورزبردستی سے کوئی بچانے والا نہ تھا۔ ایسے میں کوئی نیک شخص وطن کو بچانے کی نیت سے وقت کے کسی ولی ٔ کامل سے دعا تعویذکے لئے ان کےدربار میںحاضر ہوا‘ دوست ِخدا نے اپنے مرید باصفا سے فرمایا کہ نادرشاہ کا حملہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہماری اپنی بدعملیوں نے مکافاتِ عمل کے اٹل اصول کے تحت نادر شاہ کی شکل اختیار کر لی ہے۔ بعینہٖ اُتراکھنڈ اور اب ہماچل کا دلخراش واقعہ انفرادی طور دومتاثرہ بھائیوں کے لئے ناکردہ گناہوں کی سزا ہی سہی مگر یہ غم انگیز وارداتیں ہمارے اجتماعی گناہوں کی صدائے بازگشت ہے جو ہمیں دیدہ  ٔعبرت سے زمینی حالات دیکھنے بھالنے اور سوچنے کا پیغام یہ کہتے ہوئے دیتی ہے کہ جیساکروگے ویسا بھروگے۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!