Ad
مضامین

جب دل پتھر ہو جائیں!

✍️:. عابد حسین راتھر


وہ بھی ایک وقت تھا جب کسی انسان کے چہرے پر درد کے آثار ہمیں بے چین کر دیتے تھے۔ کسی بزرگ کی آہ، کوئی روتا ہوا بچہ یا کسی دروازے پر خاموش کھڑی بیوہ ہمارے احساسات کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی تھی۔ مگر آج ہم ایک ایسے عجیب دور میں جی رہے ہیں جہاں ہمیں لوگوں کی چیخیں بھی سنائی نہیں دیتی ہے اور اگر ہمارے سامنے کسی کے آنسو بھی بہہ رہے ہوں تو بھی ہماری نظریں اسکرین سے نہیں ہٹتی۔ اب تو یوں لگتا ہے جیسے ہم نے دیکھنا تو سیکھ لیا ہے مگر محسوس کرنا بھول گئے ہیں۔

موجودہ دور بظاہر رابطوں کا دور ہے۔ ہم سب موبائل فون، سوشل میڈیا، چیٹ ایپس پر ہر وقت ایک دوسرے سے جڑے رہتے ہیں مگر دلوں کے فاصلے کم ہونے کے بجائے بڑھتے جا رہے ہیں۔ ہر سمت باتوں کی بہتات ہے مگر خاموشی گہری ہوتی جارہی ہے۔ ردِعمل فوری ہیں مگر غور و فکر نایاب۔ ایسے ماحول میں ہماری زندگیوں سے ایک انمول نعمت آہستہ آہستہ رخصت ہوتی جارہی ہے اور وہ ہے احساس کی نعمت۔

اب یہ احساس کیا ہے؟ احساس محض ہمدردی کا نام نہیں بلکہ یہ وہ صلاحیت ہے جو ہمیں دوسروں کے درد میں اپنا عکس دکھاتی ہے۔ جو ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ سامنے والا کوئی خبر،کوئی نقطہ،کوئی عدد، کوئی شے یا کوئی اسکرین شاٹ نہیں، بلکہ گوشت پوست کا ایک انسان ہے جس کے پاس احساس اور شعور ہے اور جو ہماری ہی طرح کمزور اور  ہماری ہی طرح محتاجِ توجہ ہے۔ جب یہ احساس ہمارے اندر مر جاتا ہے تو انسانیت کا زوال شروع ہوجاتا ہے اور ظلم شور مچائے بغیر ہمارے معاشرے میں داخل ہوجاتا ہے۔ ناانصافی قانون کے پردے میں چھپ جاتی ہے اور بے حسی تہذیب و ثقافت کا نام لے لیتی ہے۔

اسلام اس زوال کو محض اخلاقی خرابی نہیں سمجھتا بلکہ روحانی بحران قرار دیتا ہے۔ اسلام ہمیں سب سے پہلے یہ سکھاتا ہے کہ کائنات کی بنیاد رحم پر ہے۔ لہذا جب انسان کے دل سے رحم کی روشنی بجھ جاتی ہے تو وہ انسان نہیں رہتا بلکہ محض ایک بے جان ہندسہ بن جاتا ہے۔ ایک ایسا عدد جو صرف مردم شماری کی فہرستوں میں شمار ہونے کے کام آتا ہے مگر زندگی کے حقیقی مفہوم اور انسانی قدروں سے یکسر محروم ہو جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی پوری زندگی احساس کی عملی تفسیر ہے۔ آپ ﷺ نے طاقتور ہو کر بھی کمزور کا ساتھ دیا، غالب ہوکر بھی معاف کیا اور مصروف ترین زندگی میں بھی اپنے خاندان اور ساتھیوں کا خیال رکھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ طاقت پہلوانی میں نہیں بلکہ غصہ پی جانے میں ہے۔ یہ وہ تعلیم ہے جو آج کے شور زدہ معاشرے کو سب سے زیادہ درکار ہے جہاں ہر شخص خود کو درست اور دوسرے کو قابلِ نفرت سمجھتا ہے۔

احساس کے ختم ہونے کی سب سے خطرناک علامت نفرت نہیں بلکہ بے اعتنائی ہے۔ نفرت کم از کم ردِعمل تو پیدا کرتی ہے مگر بے حسی نفرت کے ردِعمل سے بھی خالی ہوتی ہے۔ جب لوگوں کے مرنے کی خبر ہمارے حسب معمول اسکرولنگ کے عمل کو متاثر نہ کریں، جب ظلم و تشدد کی خبریں ہمیں چینل بدلنے پر مجبور کریں، جب ایک بھوکے بچےکی تصویر ہمیں صرف ایک 'اداس' ایموجی تک محدود رکھنے کی طاقت رکھتی ہو تو سمجھ لیجیے کہ ہمارے اندر احساس کمزور پڑ چکا ہے۔ قرآن اس کیفیت کو دلوں کی سختی سے تعبیر کرتا ہے یعنی ایسے دل جو پتھروں جیسے ہو چکے ہو، بلکہ ان سے بھی کہیں زیادہ سخت۔

اسلام ہم سے صرف یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ ہم لوگوں کو نقصان نہ پہنچائیں بلکہ یہ بھی کہ ہم لوگوں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کریں۔ عدل کے ساتھ احسان، قانون کے ساتھ اخلاق اور عبادت کے ساتھ انسان دوستی اصلی اسلامی تصورِ حیات ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ایمان کا معیار صرف نماز و روزہ کو نہیں بنایا بلکہ یہ شرط رکھی کہ انسان اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہو۔ اگرچہ یہ ایک کڑی شرط ہے لیکن اسی میں معاشرتی شفا پوشیدہ ہے۔

احساس کوئی غیر معمولی کارنامہ نہیں مانگتا۔ یہ روزمرہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے رویوں میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ کسی تھکے ہوئے چہرے پر مسکراہٹ لانا، کسی کی بات توجہ سے سن لینا، کسی راستے سے تکلیف دہ شے ہٹا دینا، یہ سب وہ اعمال ہیں جنہیں نبی کریم ﷺ نے صدقہ قرار دیا ہے۔ گویا اسلام میں نیکی صرف کسی بڑی قربانی کا نام نہیں بلکہ مسلسل مہربانی کا دوسرا نام ہے۔

آج کے جدید دور میں احساس کو زندہ رکھنا آسان نہیں بلکہ ایک کٹھن کام ہے۔ موجودہ دور رفتار کا دور ہے اور یہاں ٹھہراؤ کو کمزوری سمجھا جاتا ہے۔ اس دور میں نمائش کو کامیابی اور سادگی کو ناکامی کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا نے ہمیں مسلسل موازنوں میں مبتلا کرکے رکھا ہے۔ ہمارے ذہن ہر وقت اسی سوچ میں مبتلا رہتے ہے کہ کون کیا پہن رہا ہے، کہاں جا رہا ہے، کیسے جی رہا ہے۔ اس دوڑ میں انسان یہ بھول جاتا ہے کہ زندگی دکھانے کی چیز نہیں بلکہ جینے کی حقیقت ہے۔

اسی کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں پھیلتی ہوئی جنگیں اور انسانی المیے ہمیں تھکا چکے ہیں۔ دنیا کے مختلف خطّوں میں جاری خونریزی کے مناظر خصوصاً معصوم بچوں کی خون آلود تصویریں اب ہمیں چونکاتی بلکہ صرف بوجھل کردیتی ہیں۔ ہماری یہ بے حسی لاپروائی کا نتیجہ نہیں بلکہ اس حوصلے کے کھو جانے کا المیہ ہے جو ہمیں کسی کے درد کو دل سے محسوس کرنے کی طاقت دیتا تھا۔ ایسے حالات میں قرآن ہمیں ایک سادہ مگر گہرا اصول فراہم کرتا ہے۔ قرآنِ کریم ہمیں یہ شعور عطا کرتا ہے کہ جو چیزیں ہمیں سب سے زیادہ عزیز ہوں انہیں دوسروں کے ساتھ بانٹنا سیکھیں۔ ایثار دل کی سختی کو نرمی میں بدل دیتا ہے اور شکرگزاری دل کو زندہ، بیدار اور نور سے بھرپور رکھتی ہے۔

انسانیت کی بحالی کسی انقلاب سے نہیں بلکہ شعوری انتخاب سے شروع ہوتی ہے۔ یہ ماننے سے کہ ہم کہیں نہ کہیں بے حس ہو چکے ہیں۔ یہ تسلیم کرنے سے کہ ہماری خاموشی بھی جرم بن سکتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فتحِ مکہ کے دن اقتدار کی بلندی پر کھڑے ہو کر عام معافی کا اعلان کیا۔ یہ تاریخ کا وہ لمحہ ہے جس نے ثابت کیا کہ اصل طاقت بدلہ نہیں بلکہ درگزر ہے۔ آج اگر ہم سچّے معنوں میں نبی اکرم ﷺ کی پیروی کے خواہاں ہیں تو ہمیں اپنے طرزِ عمل میں احساس کو ازسرِنو زندہ کرنا ہوگا۔ غصّے کے بجائے نرمی، ذاتی مفاد کے مقابلے میں انصاف اور بے حسی کی جگہ ذمہ داری کو اختیار کرنا ہوگا۔ جب دلوں میں رحمت کی یاد تازہ رہتی ہے تو معاشرے خود بخود سنورنے لگتے ہیں اور جب احساس لوٹ آتا ہے تو انسان ایک بار پھر حقیقی معنوں میں انسان بن جاتا ہے۔

رابطہ:

پتہ: سوپٹ دیوسر کولگام

ای میل: rather1294@gmail.com

موبائیل نمبر: 7006569430



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!