Ad
مضامین

مسلمان — ایک عظیم داستان کے بکھرے ہوئے کردار

✍️: آصف حسین الکشمیری


موبائل نمبر 9797888975

منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک

ایک ہی سب کا نبیؐ، دین بھی، ایمان بھی ایک

حرَمِ پاک بھی، اللہ بھی، قُرآن بھی ایک

کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

زمانہ بدلتا رہا، صدیوں کی گردش چلتی رہی تاریخ اپنے نئے مکالمے لکھتی رہی مگر ایک درد ایسا ہے جو نہ بدلا، نہ ماند پڑا۔ وہ درد امتِ مسلمہ کی شکستہ حالت ہے، وہ دکھ جو ہر درد شناس دل کو اندر سے چِیر کر رکھ دیتا ہے۔ کبھی مسلمان دنیا کے جہانوں کو روشنی دکھاتے تھے وہ صرف فاتح نہیں تھے  معمارِ تہذیب تھے وہ صرف حکمراں نہیں تھے — ڈھال تھے مظلوموں کے لیے، سایہ تھے انسانیت کے لیے ان کے دروازے علم کے چراغوں سے روشن تھے، اور ان کے کردار روشنی کا استعارہ تھا۔ مگر آج وہ امت جو کبھی قوموں کے لیے مشعلِ راہ تھی اپنی ہی اندھیری گلیوں میں بھٹکتی دکھائی دیتی ہے وہ دل جو ایک دھڑکن تھے، آج ہزار ٹکڑوں میں تقسیم ہیں۔ گنتی میں مسلمان اربوں ہیں  لیکن حیثیت تنہا بارش کے قطروں جیسی ہے: جو زمین کو سیراب کر سکتے تھے، مگر الگ الگ گر کر مٹی میں جذب ہو جاتے ہیں. 

ہمارے چہرے بدلے، پہچانیں بدلیں، سرحدیں بدلیں لیکن وہ روح گم ہو گئی جو امت کا مرکز تھی۔ ہم نے شہر بسائے، مگر دل ویران کر لیےہم نے مساجد بلند کیں، مگر کردار پست ہوتے گئے۔ ہم نے دین کے نام پر گروہ بنائے، مگر دین کے مزاج  حلم، شفقت، برداشت  کو بھلا دیا۔ آج امت کا حال یہ ہے کہ ہر ملک میں آباد ہے، مگر کہیں محفوظ نہیں۔ ہر خطے میں موجود ہے مگر کہیں طاقتور نہیں مسلمانوں کی لاشیں ہر جنگ میں گرتی ہیں، لیکن عالمی انصاف کی عدالت کبھی ان کے خون کو پہچان نہیں پاتی دنیا کی میزوں پر فیصلے لکھے جا رہے ہیں  اور ان فیصلوں میں مسلمانوں کے لیے کوئی کرسی موجود نہیں۔ ہماری محرومیوں کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا، اور ہماری بے حسی کا سلسلہ بھی ٹوٹتا نہیں. 

زوال کا سبب بیرونی نہیں  اندرونی ہے ہم اپنے زخموں کا الزام دوسروں پر ڈالتے ہیں، جبکہ چھری تو ہمارے اپنے ہاتھوں میں رہی۔ ہماری شکست دشمن کی چال سے نہیں، بلکہ ہمارے باہمی بغض اور انا سے شروع ہوئی ہمارے اندر علم کی جگہ جذبات نے لے لی تحقیق کی جگہ تشددِ فکر نے لے لی، دلیل کی جگہ طنز نے لے لی، اختلاف کی جگہ عداوت نے لے لی۔ فقہی اختلاف کبھی مسئلہ نہیں تھا، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے دلوں کو اختلاف کی بھٹی میں جھونک دیا۔ ہم ایک دوسرے کی لغزش پکڑتے ہیں، مگر اپنی اصلاح سے بھاگتے ہیں ہم اسلام کے داعی ہیں، مگر اسلامی کردار کہیں نہیں دکھائی دیتا۔ ہم نماز پڑھتے ہیں، مگر دل تکبر اور نفرت سے بھرے ہیں ہمیں یاد رہتا ہے کہ ہم مسلمان ہیں مگر بھول جاتے ہیں کہ مسلمان کیسا ہونا چاہیے. 

دنیا سائنس کی نئی منازل طے کرتی گئی، فلک نورد لہروں تک پہنچ گئی، قومیں تحقیق کے سائے میں آگے بڑھتی رہیں اور ہم ایک دوسرے کی داڑھی کی پیمائش میں الجھ گئے۔ ہم اپنی مسجد کے مؤذن کو حق اور دوسرے کے مؤذن کو باطل قرار دیتے رہے ہمیں علم سے نہیں اختلاف سے توانائی ملتی رہی۔ اسی لیے قومیں آگے نکل گئیں، اور ہم پیچھے رہ گئے۔ اور پھر ہم پیچھے رہنے پر بھی ایک دوسرے سے خوش ہوتے رہے. 

آج سب سے بڑا زخم یہ نہیں کہ ہم کمزور ہیں! سب سے بڑا زخم یہ ہے کہ ہم کمزور بھائی کو کمزور دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ ہم میں وہ ہمت نہیں رہی کہ کسی گرتے ہوئے مسلمان کا ہاتھ تھام سکیں۔ ہماری نظر میں جیت کا مطلب دوسروں کو ہرانا ہے، نہ کہ امت کو بچانا آج اگر ہم روتے ہیں تو حالات پر نہیں اپنی بے بسی چھپانے کے لیے روتے ہیں۔ خود کو بدلنے کی جرات ہمارے اندر باقی نہیں رہی مگر راہ اب بھی بند نہیں تاریک ترین رات بھی ہمیشہ رہتی نہیں عقیدہ زندہ ہو تو فجر ظلمت کو شکست دے دیتی ہے۔ امت کی شفا اسی دن شروع ہوگی: جب ہم ایک دوسرے کے لیے خیر سوچنا شروع کریں گے، جب دین کو محبت کے ساتھ سمجھا جائے گا، تلوار کے ساتھ نہیں، جب مسلک شناخت رہے گا مگر تقسیم نہیں بنے گا جب ہم دوسروں کو نہیں اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش کریں گے۔ یاد رکھیں اتحاد کا آغاز کسی بین الاقوامی کانفرنس کسی تنظیم یا کسی سیاسی نعرے سے نہیں ہوتا اتحاد دل کے اندر جاگنے والی سمجھ سے ہوتا ہے جب دل بدلتے ہیں تاریخ بدلتی ہے جب نیتیں جڑتی ہیں قومیں بنتی ہیں. 

آج ہماری دنیا رنگارنگ عبادتوں سے بھری ہے مگر اسلام کا اصل جوہر  اخلاق، محبت، اخوت  کہیں گم ہو گیا ہے وہی جوہر پھر زندہ ہو جائے تو امت کا مقدر پھر طلوع ہو سکتا ہے تاریخ اب بھی خاموش کھڑی ہے انتظار میں کہ مسلمان خود کو شناخت کر لیں پہچان لیں کہ طاقت تفرقے میں نہیں وحدت میں ہے. 

آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کو اتحاد و اتفاق عطا فرمائے. آمین 



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!