مضامین
بے روزگاری ایک سماجی لعنت — حقیقت، تجزیہ اور حل

بے روزگاری صرف نوکری نہ ملنے کا نام نہیں، یہ ایک ایسا درد ہے جو نوجوان کے ذہن، احساسِ خودی، خاندانی اعتماد اور سماجی امیدوں کو چیر دیتا ہے۔ جب انسان اپنی محنت کو روزگار میں تبدیل نہیں کر پاتا تو وہ صرف پیٹ سے بھوکا نہیں رہتا، بلکہ اپنی شناخت، مقصد اور معنویت سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔
قرآنِ مجید نے انسان کی سعی و کوشش کو زندگی کا سنگِ بنیاد قرار دیا ہے " وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ " — اور بےشک انسان کے لیے نہیں ہے پس وہ جو کچھ اس نے محنت کی۔ ۔۔۔ یہ آیت ہمیں محض دین کا قاعدہ نہیں بلکہ عملی زندگی کا دستور سکھاتی ہے۔ کہ انسان کی عزت اور اس کی بقا اس کی کوشش میں مضمر ہے۔ اسی فکری اصول کو ہم نے بے روزگاری کے تجزیے میں بنیاد بنانا ہے۔
ہندوستان میں بے روزگاری: کیا اعداد و شمار کہتے ہیں؟
2025–26 کے تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہندوستان میں عمومی بے روزگاری کی شرح (15 سال اور اس سے زائد عمر) تقریباً 4.8 فیصد ہے، جو کہ کئی دہائیوں کی مرتب شدہ PLFS سریز میں ٹھہراؤ کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس میں شہری بے روزگاری زیادہ (تقریباً 6.7%) جبکہ دیہی بے روزگاری کم رہی۔ یہ اعداد و شمار محنت تلاش کرنے والے افراد کا فیصد ہیں جو مارکیٹ میں کام ڈھونڈ رہے ہیں مگر کام نہیں پا رہے۔
لیکن اگر ہم نوجوان (عمر 15–29 سال) کی بات کریں تو صورتحال زیادہ تشویشناک ہے سرکاری PLFS رپورٹ کے مطابق نوجوان بے روزگاری کی شرح تقریباً 10.2% ہے، یعنی ہر 10 نوجوانوں میں 1 سے زیادہ مستقل طور پر روزگار سے باہر ہے۔
کچھ غیر سرکاری تجزیے اور عالمی اعداد بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ نوجوان بیروزگاری شرح عموماً 15–24 سال — 15% سے 23% تک دیکھی گئی ہے، خاص طور پر وہ لوگ جو تعلیم یافتہ ہوتے ہیں مگر ملازمتیں نہ پاتے ہیں۔
ایک اور رپورٹ بتاتی ہے کہ بھارت میں بے روزگار افراد میں سے تقریباً 83٪ نوجوان ہی ہیں یعنی بے روزگاری سب سے زیادہ جوانوں پر مرتکز ہے۔
یہ صرف اعداد نہیں یہ وہ حقیقتیں ہیں جو ہمارے محلے، گاؤں، شہروں اور گھرانوں میں روزانہ نظر آتی ہیں۔
• وسائل روزگار کا پرائیویٹائزیشن ۔۔۔ ایک تلخ حقیقت
حکومتِ ہند کے سرکاری شعبۂ سرمایہ کاری، Department of Investment and Public Asset Management (DIPAM) کے مستند اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2014–15 سے 2024–25 کے درمیان مرکزی حکومت نے پبلک اثاثوں اور حصص کی فروخت (Disinvestment) کے ذریعے تقریباً ₹4,38,286 کروڑ حاصل کیے۔ یہ محض ایک سال یا ایک شعبے کی فروخت نہیں، بلکہ دس برسوں میں مسلسل کی گئی سرکاری کمپنیوں کی نجکاری اور حصص فروشی کا مجموعی حاصل ہے۔ ان اعداد میں ہر سال کی سالانہ رسیدیں شامل ہیں کہیں ₹24 ہزار کروڑ، کہیں ایک لاکھ کروڑ سے زائد جو اس حقیقت کی طرف واضح اشارہ کرتی ہیں کہ گزشتہ دہائی میں ہندوستان نے عوامی اثاثوں کو مالی وسائل میں بدلنے کی ایک مستقل پالیسی اختیار کیے رکھی۔ یہ تمام تفصیلات سرکاری طور پر DIPAM کی ویب سائٹ اور بجٹ دستاویزات میں درج ہیں، اور اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ نجکاری محض وقتی قدم نہیں بلکہ ایک طویل المدت حکومتی سمت رہی ہے۔
یہ رقم صرف چھوٹی موٹی حصص فروشی کا نتیجہ نہیں بلکہ اس میں وہ بڑے Strategic Disinvestment بھی شامل ہیں جن کے ذریعے سرکاری اداروں کا نظم و نسق نجی ہاتھوں میں منتقل کیا گیا۔ پارلیمانی رپورٹس کے مطابق 2016 کے بعد درجنوں سرکاری اداروں کے لیے اسٹرٹیجک یا جزوی نجکاری کی اصولی منظوری دی گئی، جن میں ایئر انڈیا، NINL اور دیگر بڑے ادارے شامل رہے۔ بعض بڑی ڈیلز سے حکومت کو دسیوں ہزار کروڑ روپے حاصل ہوئے۔ اس عمل کا مطلب صرف سرمایہ حاصل کرنا نہیں تھا بلکہ ریاستی روزگار کے پورے ڈھانچے میں تبدیلی تھی ۔ وہ ادارے جو کبھی مستقل ملازمت، تربیت اور ترقی کا ذریعہ تھے، اب کارپوریٹ منطق کے تابع ہو گئے، جہاں ملازمت تحفظ نہیں بلکہ پیداوار سے مشروط ہو گئی۔
ان اعداد و شمار کا سب سے اہم اور تکلیف دہ پہلو نوجوانوں کے روزگار پر پڑنے والا اثر ہے۔ پبلک سیکٹر کے سکڑنے اور اسٹرٹیجک نجکاری کے بڑھنے سے ایک طرف مستحکم سرکاری ملازمتوں کا دائرہ محدود ہوا، اور دوسری طرف کنٹریکٹ، آؤٹ سورسنگ اور غیر مستقل روزگار کا رجحان تیز ہوا۔ EPFO کے حالیہ ریکارڈ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ رسمی روزگار کی تخلیق میں شدید اتار چڑھاؤ رہا ہے، اور کئی برسوں میں مستقل ملازمتوں کے بجائے عارضی اندراجات بڑھے ہیں۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ نوجوان نسل کے لیے محفوظ، باوقار اور طویل المدت روزگار کے امکانات کم ہوتے گئے، اور بے یقینی، نفسیاتی دباؤ اور مستقبل کے خوف نے ان کی زندگی کو گھیر لیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نجکاری محض مالی پالیسی نہیں رہتی بلکہ روزگار کے معیار، سماجی توازن اور نوجوان ذہن کی تشکیل کا مسئلہ بن جاتی ہے۔
• روزگار فراہمی اور ہندوستان کا سابقہ بجٹ ۔۔۔ تشویشناک صورتحال
گزشتہ تین مرکزی بجٹس نے اشتراکِ خیال کے ساتھ روزگار کو مضبوط کرنے کے لیے مختلف اسکیموں اور فنڈز کو مختص کیا ہے۔ 2024–25 کے بجٹ میں تعلیم، اسکل ڈیولپمنٹ اور روزگار کے مواقع کو بڑھانے کے لیے تقریباً ₹1.48 لاکھ کروڑ کے وسائل مختص کیے گئے، اور Employment-Linked Incentive جیسے پروگراموں کے ذریعے لرننگ سے جاب پیدا کرنے تک کے عمل کو تقویت دی گئی۔ پھر بھی نوجوان بے روزگاری کی شرح میں خاطر خواہ کمی نہیں آئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بجٹ میں مزید بڑے اہداف اور جامع سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ بعض ماہرین کی آراء ہے کہ حکومت نے روزگار فراہمی کے لئے سنجیدہ کوشش نہیں کی ۔ بلکہ صرف ظاہری طور پر بجٹ میں اسے روزگار فراہمی سے زیادہ سیکھنے کے عمل کو ترجیح دی گئی ۔
ماہرین کے مطابق 2026–27 کے بجٹ میں ۳ سے ۳.۵ لاکھ کروڑ روپے تک کے وسائل مختص کیے جائیں تو روزگار کے مواقع میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہوسکتا ہے، خاص طور پر جب اس میں روزگار پیدا کرنے، ہنر مندی پروگرامز، تعلیم کے جدید نصاب اور اس کی صنعت سے ہم آہنگی کو شامل کیا جائ
• مسئلے کے پیچھے گہرے اسباب
صرف “نوکری دستیاب نہیں” کہنا مسئلے کو چھوٹا کرنا ہے۔ حقیقت میں چند بڑے اسباب ہیں:
• پہلا — تعلیم اور بازار کے درمیان خلا:
تعلیم دینے والے ادارے بہت سے لوگوں کو ڈگری دیتے ہیں مگر وہ ہنر (Skill) نہیں سکھاتے جو کام کی دنیا میں واقعی قابلِ استعمال ہو۔ نتیجہ یہ کہ نوجوان تعلیم یافتہ ہوتا ہے مگر قابل روزگار نہیں۔ یہ رجحان بعض مطالعات میں واضح ہوا ہے کہ گریجویٹس میں بے روزگاری کی شرح غیر تعلیم یافتہ افراد سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ مارکیٹ کی ضروریات اور تعلیمی سسٹم کی تیاری میں گہرا فرق ہے۔
• دوسرا — صنفی اور جغرافیائی تفاوت: عورتوں کی لیبر فورس میں شمولیت ابھی بھی مردوں کے مقابلے میں کافی کم ہے، اور شہری علاقوں میں بے روزگاری دیہی علاقوں کے مقابلے میں بلند رہی ہے۔
• تیسرا — سخت مقابلہ اور کم معاشی مواقع: روزگار کے روایتی ذرائع جیسے سرکاری ملازمتیں محدود ہیں، جبکہ نجی شعبے میں ہر ڈگری یافتہ نوجوان کے لیے مناسب ملازمت تلاش کرنا مشکل ہے۔ ایک اعلیٰ یافتہ نوجوان سے گفتگو کے بعد معلوم ہوا کہ سرکاری آسامیوں کو پُر کرنے کے لئے ہونے امتحانات میں موجود خالی آسامیوں سے 80 گنا زیادہ درخواستیں آتی ہیں ۔ اور ان امتحانات کے ذریعے سرکار بے روزگار تعلیمی یافتہ نوجوانوں سے فارم فِل کرنے اور ہال ٹکٹ کے نام پر ہزاروں روپے جمع کررہی ہے جبکہ جاب Job ملنے کے امکانات 5 فیصد سے بھی کم ہیں ۔
• چوتھا — تربیت کا فقدان: سرکاری اسکل ڈویلپمنٹ پروگراموں نے لاکھوں کو تربیت دی ہے مگر مستقل ملازمت کا حصول بہت کم معاملات میں ممکن ہوا ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق صرف 15 فیصد تربیت یافتہ نوجوانوں کو ہی مناسب روزگار ملا ہے۔
یہ سارے عوامل مل کر نوجوانوں کی بے روزگاری کو نہ صرف اعداد و شمار کی شکل میں ظاہر کرتے ہیں بلکہ ایک گہری سماجی و نفسیاتی بیماری کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔
• نوجوانوں کا نفسیاتی بحران — ایک اندرونی حقیقت
بے روزگاری کا اثر نفسیاتی طور پر سب سے زیادہ نوجوانوں پر پڑتا ہے۔ ایک نوجوان جو تعلیم مکمل کر کے نکلتا ہے، اس سے امیدیں وابستہ ہوتی ہیں۔ خود کے لیے، اپنے خاندان کے لیے، مستقبل کے خوابوں کے لیے۔ جب وہ مستقل کام نہیں پاتا، تو اس کے اندر ایک نفسیاتی بوجھ پیدا ہوتا ہے جو مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتا ہے ۔ جس چند ایک اس طرح ہیں :
• خود اعتمادی میں کمی
• گھریلو کشیدگی
• مستقبل کے بارے میں خوف
• بار بار انٹریوز میں ناکامی کے بعد مایوسی
• معاشرتی دباؤ اور تقابلی ذہنیت
یہ صرف کسی فرد کی بات نہیں بلکہ ہزاروں نوجوانوں کی حقیقت ہے کہ بے روزگاری کا اثر تعلقات، شادی شدہ نوجوانوں میں فیصلہ سازی، اور حتیٰ کہ روحانی کیفیت پر بھی پڑتا ہے۔
ایک نوجوان جو کئی کئی دنوں تک بار بار انٹرویو دیتا ہے اور ہر بار انکار کا سامنا کرتا ہے، وہ وقت کے ساتھ اندرونی طور پر ناکامی کا مفہوم اپنے اندر لے لیتا ہے۔ یہ نفسیاتی زخمی حالت انسان کو صرف بےکار محسوس نہیں کراتی بلکہ وہ اپنے مقصد سے بے خطَر ہو جاتا ہے۔
• اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کا استحصال
یہ ایک بہت بڑی تلخ حقیقت ہے کہ جو نوجوان زیادہ تعلیم یافتہ ہوتے ہیں، ان میں بے روزگاری اور ذیلی روزگار کی شرح بھی زیادہ ہوتی ہے۔ تعلیم نے ان کی توقعات کو بلند کر دیا ہے مگر زندگی نے مستقبل کے انتظام میں مدد نہیں دی۔
ایک سرکاری اور غیر سرکاری مطالعہ بتاتا ہے کہ گریجویٹس اور پوسٹ گریجویٹس کے درمیان بے روزگاری شرح عام آبادی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ جو ظاہر کرتا ہے کہ ڈگری صرف شناخت دیتی ہے، قابلیت روزگار نہیں۔
جب کوئی نوجوان ڈگری کے نام پر معیاری روزگار کا انتظار کرتا ہے اور چھوٹے یا عارضی کام کو حقیر سمجھتا ہے تو وہ دراصل اپنی امیدوں کو خود کی گرفت میں قید کر رہا ہوتا ہے۔
• قرآن و حدیث — بے روزگاری کے روحانی مضمرات
اسلام وہ نظامِ حیات ہے جس نے محنت کو عبادت کا نام دیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ہمیں سکھایا کہ ضعف، تن پروری اور انتظارِ رزق کی حالت انسان کی عزت نفس کا دشمن ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ شخص کو چاہئے کہ وہ ہاتھ سے کام لے اور حلال رزق کمانے کی کوشش کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ محنت کرنے والوں کو عزت دیتا ہے۔
بے روزگار رہنا صرف معاشی حالت نہیں، ایک ایسی کیفیت ہے جو انسان کو struggle for existence میں مبتلا کرتی ہے۔ یہ ایک اندرونی جنگ ہے جو بعض اوقات خلاف فطرت بھی ہوتی ہے ۔ اسلام نے اسے نہ صرف دنیاوی نقصان بلکہ روحانی پستی کا باعث بھی قرار دیا ہے۔
حلال کسب معاش کی جستجو کو افضل قرار دیا گیا ہے ۔ جب مسلم نوجوان رزق کے لیے کوشش کرتا ہے تو وہ محض پیسہ نہیں کما رہا ہوتا ہے حقیقت میں وہ اپنے کردار، وقار، ذمہ داری اور ایمان کو بھی پروان چڑھا رہا ہوتا ہے۔
• صرف شکوہ نہیں، عمل کا راستہ منتخب کریں
مسئلہ اگر بڑا ہے تو حل بھی ٹھوس اور عملی ہونا چاہئے۔ ذیل میں چند تجاویز بطور حل دیے گئے ہیں:
1. ذہنی اور عملی پلاننگ : ہر نوجوان کو چاہیے کہ وہ اپنے لیے 90 دن کا عملی پلان بنائے:
• روزانہ ہنر سیکھنا (2–4 گھنٹے)
• روزانہ درخواستیں دینا / نیٹ ورکنگ (2 گھنٹے)
• روزمرہ صحت، عبادت اور ذہنی توازن (1 گھنٹہ)
یہ پلان خود کو “انتظار” والی حالت سے باہر نکالنے کا عملی آغاز ہے۔
2. ہنر کو ترجیح دیں : صرف ڈگری پر انحصار کرنا کافی نہیں۔ نوجوان کو چاہیے کہ وہ مارکٹ میں مانگ والے ہنر سیکھے ۔ جیسے ڈیجیٹل اسکلز، فنی کام، خدمات، تکنیکی مہارتیں وغیرہ۔
3. چھوٹے تجربات کو اہمیت دیں
پارٹ ٹائم، انٹرنشپ اور اپرنٹس شپ دراصل یہی اصل دنیا کی کلاسیں ہیں۔ ان سے سیکھنے والا انسان جلد بڑی ذمہ داریاں سنبھال سکتا ہے۔
4. اہل خیر حضرات نے یا معاشرے کے ذی اثر شخصیات نے معاشی اور نفسیاتی سپورٹ نیٹ ورک قائم کرنا چاہیئے : گھر، مسجد اور کمیونٹی کو چاہیے کہ نوجوانوں کے لیے رہنمائی، مشاورت اور مینٹورشپ کی سہولتیں دیں تاکہ وہ صرف تنہائی میں مسئلہ نہ سوچیں بلکہ حل کے ساتھ آگے بڑھیں۔
5. حکومت اور اداروں کا مثبت کردار : حکومت نے چند پیکجز اور اسکل پروگرام شروع کیے ہیں، لیکن ان کی افادیت کو بڑھانا ضروری ہے ۔ خاص طور پر وہ تربیتی پروگرام جو بے روزگار نوجوانوں کو مستقل روزگار سے جوڑ سکیں۔
6. نوجوان خالی نہ رہیں : معیارِ مطلوب کے انتظار میں بیٹھے رہنا بہت بڑی غلطی اور حماقت ہے ۔ اگر حکومت کی ناکامی ، اور نوجوان کی تقدیر اسے اس کے اصل معیار کے مطابق روزگار فراہم نہیں کرپارہی ہے تو وہ خالی نہ بیٹھیں بلکہ چھوٹا موٹا کام کرتے رہے ۔ کمانے کی کوشش جاری رکھیں ۔ اسکی وجہ سے خودداری برقرار رہے گی ، معمولی حد تک مسائل کنٹرول میں رہیں گے ، اور کام کرنے کی عادت برقرار رہے گی ۔
• امید ہی راستہ ہے
بے روزگاری ایک سماجی لعنت بن سکتی ہے، لیکن جب ہم اسے تشخیص کے ساتھ علاج بھی دیں، تو یہی مسئلہ انسان کو مضبوط بنانے کا وسیلہ بن جاتا ہے۔
میرا یہ احساس صرف ایک تصویر پیش نہیں کرتا حقیقت میں میرے اطراف کئی نوجوانوں کے درد، امید اور اس کی منزل سب کو سامنے لاتا ہے۔ نوجوان کو سمجھنا چاہیے کہ رزق اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، مگر محنت فرد کی ذمّہ داری ہے۔ وہ جو اپنے اندر ہمت، نظم اور مقصدیت لے آئے، وہ نہ صرف خود اپنا رزق کمائے گا بلکہ ایک مضبوط خاندان، مضبوط معاشرہ اور مضبوط قوم بھی بنائے گا۔ یہ ضابطۂ حیات ہے کہ "من جد وجد ومن زرع حصد ۔۔۔۔ "جس نے محنت کی اس نے پا لیا، اور جس نے بوائی کی اس نے کاٹی" ۔