Ad
مضامین

احتساب! پیمانۂ عدل جادۂ انصاف

✍️:. ش م احمد / سرینگر 


7006883587

ہماری یہ وسیع وعریض دُنیا کسی کھلنڈرے کا کھیل نہیں‘ بلکہ یہ ایک باضابطہ دارالامتحان اور آزمائش گاہ ہے۔ یہاں مستقل طورامتحانات میں جی رہے ہر انسان پر زندگی کے مختلف پرچے حل کرنے کی پیدائشی ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔ خود ہی اندازہ لگایئے کہ خا لق ِ کائنات ممتحن ہو ‘ امتحانی ہال میں ہمہ وقت ہر فردبشر کی ایک ایک نیت اور حرکت کی منصفانہ نگرانی کر رہاہو‘ نہ کوئی اس امتحانی ہال میں کہیں روپوشی اختیار کر سکتا ہو نہ فرار ہوسکتا ہو‘ نہ امتحان کو کسی بہانے ایک منٹ بھی ٹالا جاسکتا ہو ‘مارکنگ میں کسی ہیرا پھیری یا ڈنڈی مار ی کی گنجاش ہی نہ ہو کہ امتحانی نتیجہ بدلا جاسکے ۔ امتحان بھی بڑ انرالا کہ ایک ایک پرچہ پہلے ہی آؤٹ ہو ‘ کوئی سوال آؤٹ آف سلیبس نہ ہو‘ رزلٹ بھی عجیب کہ یہ فیصلہ کرنا انسان کی خواہش پر منحصر ہوآیا اُسے کامیابی چاہیے یا ناکامی ۔ ہم اور آپ اس انوکھےتاحیات امتحان اور ممتحن کے بارے میں حضر ت ِانسان کی پوزیشن اس شعر کی روشنی میں شاید کچھ کچھ سمجھ سکتے ہیں   ؎ 

 درمیان ِقعر ِدریا تختہ بندم کردہ ای 

 بازمی گویم کہ دامن ترمہ کن ہشیار باش

ترجمہ: دُنیا کی منجدھار میں تم نے( اللہ نے) مجھے تختہ پر باندھ کر چھوڑ دیا ہے اور پھر کہتے ہو کہ خبردار تمہارا دامن تر نہ ہونے پائے ۔ 

          ا متحان بھی کیساطرفہ تماشہ کہ زندگی کے سمندر میں منہ زور لہروں کے بیچ ایک چھوٹے سے تختہ پر سوار بے بس انسان ہچکولے کھا تار ہے تو شوق سے کھائے مگر حاشا وکلا کہ اُس کا دامن تر ہو ‘ اُس کے لباس یا بدن پر مسلسل سمندر ی سفرمیں لالچ ‘ کذب ‘ہوس‘ گناہ ‘ جرم اور ظلم کی کوئی چھینٹ آلگے!۔ بڑی آزمائش کڑا امتحان!

    اس امتحان کا ایک مقررہ نصاب ہے۔۔۔ یعنی نفس نفس آزمائشیں‘ قدم قدم ابتلائیں‘ جھوٹ کی تنا تنی ‘ سچ کی پسپائی ‘ ہاں نصاب کے شکنجے میں کسا انسان آزاد ہے کہ اپنی کشمکش ِ زندگانی میں چاہےبُرا یابھلا راستہ اپنالے ‘ اتنا ضروریاد رکھے کہ کاتب ِ تقدیر بحیثیت نگران اعلیٰ اپنےفرستادوں ( کراماًکاتبین )سمیت اُس کی کارکردگی کاشب وروز جائزہ لے رہاہے ۔ اب بندے کی مرضی ہے کہ وہ اپنا پرچۂ زندگی یا نامہ ٔاعمال لکھتے وقت مشکلوں بھرے خار زارِ صداقت کی آبلہ پائی کرے یا جھوٹ اور جرائم کی پُرکشش آسائشوں کے دلدل میں دھنسے۔ چوائس خالصتاًاُس کی اپنی ہے۔ آخر روز حشر اللہ کی قائم کردہ بھری عدالت میں امتحانی عمل سے گزرنے والے انسانوں کی ہر نیت ہر عمل کا کچا چھٹا میزانِ احتساب میں تولا جائے گا ‘ نتیجہ برمحل دنیا والوں کے سامنے آؤٹ ہوگا کہ بندہ کامیاب ہوایا ناکام رہا۔ یاد رکھئے یہ امتحانی نتیجہ اندھے کی کوئی بندر بانٹ نہیں ہوگا بلکہ خدا کےمنظم ومربوط نظامِ عدل کے تحت بے لاگ احتسابی ترازو میں مع ثبوت و شہادت بندے کے ہرچھوٹے بڑے کام کو شرطیہ وزن دیاجائے گا ‘ اُس کی کارکردگی کے حُسن وقبح کی جانچ پرکھ ہوگی‘ اس کےا قوال وا فعال کی قباحتوں اورخوبیوں کے اثرات ونتائج کا باریک بینی سے تجزیہ ہوگا کہ ان سے کس کا بھلاہوا ‘ کس کا بُرا ہوا ۔      اسلام کا عقیدہ ٔ آخرت اسی امتحانی ا ور احتسابی عمل کےگرد گھومتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے ننانوے صفاتی ناموں میں ایک نام’’ الحسیب ‘‘یعنی حساب کرنے والا ہے‘ جو اسی امر واقع پر دلالت کرتاہے کہ انسان کے ہرہرکام کا ایک روز حساب وکتاب ہوناہے ۔ لہٰذا جو انسان دنیا میں اپنے عمل کی کھیتی میں اچھا ئی بوئے گا وہ آخرت میں اچھی لہلاتی  فصل کاٹے گا‘ جو برائی بوئے گا وہ لازماً کڑواہٹوں اور کانٹوں کی فصل کا ٹے گا۔ یہ ایک اٹل قانون ِقدرت ہے ۔ قیامت کا برپا ہونا اسی احتسابی عمل اور جزا وسزا کا منطقی لزوم ہے ۔ اللہ سریع الحساب ہے اور بندے کی نیک عملیوں کا اجر اور برے افعال کی سز ا اپنی سریع الحرکۃ عدالت میں تمام دنیا والوں کے سامنے دے گا۔ ان حوالوں سے ایک حقیقی مسلمان دنیا میں زندگی بھر اپنی اُخروی جوابدہی میں کامیابی  کے لئے جہد ِمسلسل کرتاہے‘ اُس کی دُنیوی زندگی ایک کھلی کتاب کی مانند ہوتی ہےجس کے ورق ورق سے شفافیت چھلکتی ہےاور سطر سطر سےانسانیت کے لئے کارآمد فوائد‘ بہتری کےمخلصانہ کام ‘ مثبت کاوشیں ‘ غیر مشروط دردمندیاں اور بے لوث خیرخواہیاں پھوٹتی ہیں۔اللہ کے میزان ِعدل اور احتساب کے پلڑوں میں کھرا اُترنے والی اس کھلی کتاب کو جب فرشتے فخراً چومتے ہوں تو ایسے حقیقی مومن کو جیتے جی کسی ویری فکیشن سے کیا ڈر ہوگا اورکسی پروفائلنگ سے کون سا خوف لا حق ہوگا ؟      

   احتساب وجوابدہی کے بارے میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول مبارک ہے :’’ اپنا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تمہارا ( اللہ کی عدالت میں روزِ محشر) محاسبہ ہو۔ اور آخرت کی پیشی کے لئے تدبیر کرواور جو شخص دنیا ہی میں اپنے نفس کا محاسبہ کرتاہےقیامت کے روز اُس پر حساب وکتاب آسان ہوگا‘‘۔

         آں جناب ؓ کایہ قول مبارک ہر مسلمان کے لئے فرداًفرداً لازم قرار دیتا ہے کہ وہ اپنا پیشگی محاسبہ کرے ‘ اپنے سیات کو حسنات سے بدلنے میں ہرزماں ومکاں میں ہوشاںرہے تاکہ کل جب کائنات کے منصف ِاعظم اللہ کے رُوبرو اُس کی زندگی کا گوشوارہ( اعمال نامہ یا کرم کنڈلی) اُس کے دائیں ہاتھ میں تھما دیا جائے تواسے یہ طمانیت و بشارت ملے کہ اللہ اُس سے راضی وہ اللہ سے راضی ‘ ایسا ہی خوش نصیب بندہ اپنی کاوشوں میں بفضل تعالیٰ کامیاب قرارپاتاہے ‘ چاہے دُنیامیں اُسے کتنا ہی ناکام انسان بتایا جتلایا جا رہاہو۔رہا وہ کم نصیب بندہ جو دنیا میں رہ کر خود احتسابی اورمحاسبے سے عمداًوقصداً غافل رہا ‘ جس نے اللہ کے حضور اپنی جوابدہی کا کوئی خیال نہ کیا ‘ گناہوں اور غلطیوں میں لت پت زندگی گزارتا رہا‘ وہ لامحالہ بدیوں ‘برائیوں اور جرائم سےترتیب شدہ اپنے داستان ِحیات کا نوشتہ پیٹھ پیچھے بندھے ہاتھوں کسی خطاکار مجرم کی طرح پائے گا ‘ عدالت ِالہٰیہ میں اس پر سرزنش ہو گی : ’’اپنا عمال نامہ پڑھ لے ‘آج اپنا حساب لینے کے لئے توُہی کافی ہے‘‘ سورہ ٔ اسرا آیت ۱۴ / فاروق ِ عادل ؓ کا متذکرہ بالا انتباہ خاکم بدہن کسی جوشِ خطابت کا نمونہ نہیں کہ بس زبان سے کچھ نکل گیا سو نکل گیا ‘ نہ یہ موجودہ زمانے کی اصطلاح میں کسی انتخابی منشور کا وعدۂ فردا ہے کہ عمل میں نہ بھی ڈھالا جائے کوئی مضائقہ نہیں‘غم نہیں‘پریشانی نہیں ۔ اس کے برعکس یہ متاع ِ ایمانی سے مالامال مومن کے حیاتِ دنیوی کا اُسوہ اور اُخروی کا میابی پانے کی شرطیہ ضمانت کے نصاب سے بندۂ مومن کو روشناس کراتا ہے‘ اللہ کے بے غباروغیر جانب دار عدالتی نظام اوراحتسابی عمل کا جامع تعارف دیتا ہے‘ بندگان ِ خدا کوچوکنا کرتاہے خبردار اللہ عالم الغیب والشہادۃ تم میں سے کسی ایک سے بھی لمحہ بھر کے لئے لاتعلق نہیں ‘ وہ تمہارے حرکات وسکنات کا مدعا ومقصد جانتا ہے ‘ وہ دل کے تہ خانے میں چھپی تمہاری نیتوں کے حالات و کوائف سے بھی واقف ہے ۔ یہ گویا مومنین کے لئے یاد دہانی ہے کہ دنیا میں غفلت کی نیند نہ سوناکیونکہ کراماً کاتبین مسلسل تمہارا روزنامچہ قلم بند کئے جا رہے ہیں‘  اپنا روزنامچہ صداقت و شفافیت کا کھلا بہی کھاتہ بنائے رکھنا۔یہ فرمودہ محض چیتاؤنی نہیں بلکہ ایک اٹل اصولِ عدل ہے جو دنیا میں صاحب ِ ایمان کے واسطے احساسِ ذمہ داری سے لبریز شفافیت والی زندگی گزارنے کا قرینہ اور آخرت میں اللہ کی پکڑ( بطش ِشدید) سے بچنے کا نقشِ راہ عطاکرتا ہے ۔   

  تاریخ شاہد عادل ہے کہ حضرت عمر ؓ نے اس لازوال اصول کا انطباق خوداپنی پاک سیرت میں قدم قدم پہ کیا۔ ا س سلسلے میں اسلامی تواریخ کے سنہری اوراق ایمان افروز واقعات سےبھرے پڑے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ آخرت کی عدالت میں سُرخ رو ہونےوالوں کی سیرتیں کس قدر شفافیت ‘ یک روئی اور احساسِ ذمہ داری کی آئینہ دار ہوتی ہیں ۔ مشتے نمونےاز خروارے ایک واقعہ پیش خدمت ہے ۔ عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ منصب ِخلافت پر متمکن ہیں ‘ آپؓکا تقویٰ مثالی ہے‘ آپؓ کی معاملہ فہمی کا عالمی شہرہ ہے‘ آپ ؓکےحُسن ِانتظام کے کیا کہنے‘ آپؓ کا جلال لاثانی ہے ‘آپؓ کا انصاف بے لاگ ہے ‘ آپؓ کی غیر جانب داری بے بدل ہے‘ آپ ؓ کے سامنےکسی مکار وفریبی کو جرأتِ گفتار کی ہمت نہیں ‘ آپ ؓ کی کوئی اُنگشت نمائی اور تنقیدکا خواب وخیال میں بھی نہیں سوچ نہیں سکتا۔ ایک موقع پر آپ ؓ منبر پر خطبہ دیتے ہیں: ’’اے لوگو! میری بات سنو اور اطاعت کرو‘‘۔ دفعتاً بھرے مجمعے میں سےبر گزیدہ صحابی حضرت سلمان فارسی ؓ بلا جھجک کھڑے ہو کر بآوازبلندفرماتے ہیں : ہم آپ ؓ کی بات نہیں سنیں گے اور نہ ہی اطاعت کریں گے۔ بتایئےمالِ غنیمت میں جو یمنی چادریں تقسیم ہوئی تھیں‘ وہ سب کے حصے میں ایک ایک آئی تھی‘ آپ ؓ قد آور ہیں‘ ایک چادر سے آپ ؓ کا لمبا کرتا نہیں سل سکتا تھا‘ لیکن آپؓ نے جو کرتا پہنا ہوا ہےوہ اتنا لمبا ہے؟‘‘

 حضرت عمرفاروق ؓ عوامی تنقید واحتساب کے کٹہرے میں ایستادہ ہوکر غصہ ہوتے ہیں نہ آپا کھو تے ہیں‘ بلکہ نہایت لجاجت سے معقول سوال کا مفصل جواب د ینے کے لئے اپنے فرزند حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کو مجمعے میں بلاتے ہیں ‘ وہ آکر لمبے کرتے کا راز کھولتے ہیں: میرے والد کے پاس صرف ایک چا در تھی جو ان کے قد کے لئے پوری نہیں تھی‘ اس لئے میں نے آپ ؓ کو اپنے حصے کی چادر بھی اُنہیں دی تھی تاکہ والد محترم کا پورا کُرتا بن سکے۔‘‘ یہ اطمینان بخش جواب سن کر حضرت سلمان فارسی ؓ خلیفہ دوئم سے مخاطب ہوتے ہیں : اب آپ ؓ حکم دیجئے ‘ ہم سنیں بھی گے اور اطاعت بھی کریں گے۔‘‘ 

عوامی احتساب کی اس صحت مند مثال پر تاریخ عالم ِدنیا آج بھی عش عش کرتی ہے۔ یہ ہے حقیقی اسلام کی کھلی کتاب کا ایک ورق جو تاقیامت احتسابی عمل کے ذریعے انسانوں کی صداقت و دیانت جانچنے کے لئے ایک لافانی حوالے کے طور سنا اور پڑھا جائےگا اور جہاں جہاں ممکن ہووہاںاس سنہری اصول کو اپنایا جائے گا ۔  

  خلیفہ ٔدوئم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے محولہ بالا قول مبارک کی تزکیاتی اہمیت اپنی جگہ ‘ تاریخ اس کی روشنی میں ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ مومنانہ زندگیوں میں جب شفافیت اور صداقت کی مشعل فروزاں رہےتو چاہے کوئی عام مسلمان ہو ‘ مسلمانوں کےاہل ِ مناصب ہوں‘ ائمہ مساجد ہوں ‘ ذمہ دارانِ مدارس ہوں ‘ مذہبی انجمنیں ہوں ‘خیراتی اداروں کے عہدیدار ان ہوں‘اگر واقعی اُن کی کھلی کتاب میں کسی’’ خفیہ ورق‘‘ کی دراندازی نہ ہوتواُنہیں کسی بھی احتسابی پروسس اور تحقیقاتی عمل کی سرکاری کارروائی یا عوامی استفسار کا خندہ پیشانی سے خیرمقدم کرنا چاہیے‘ نہ کہ ایسے عمل کو خواہ مخواہ اپنی اعتباریت پر چوٹ یا اپنے کردار پر شک وشبہ سے تعبیر کر نے لگیں ۔ ادباً عرض ہے کہ ُانہیں اس کام کو اپنے ایمان و کردار کے کھرے پن کی پرکھ اور حفاظتِ ایمان کا غیبی انتظام سمجھنا چاہیے اوراسی زاویۂ نگاہ سے ذمہ دارمتعلقین کےہر سنجیدہ سوال اور وضاحت طلبی کا جواب دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ دینا چاہیے ‘ اور جہاں مطلوبہ ثبوت میسر نہ ہوں‘ وہاں دلائل اور حقائق کی گرہ کشائی سے مستفسرین کو مطمئن کرنے کی تمام تر کوششیں کر نی چاہیں ۔اس ضمن میں فالتو باتیں ہانکنے یا غیر ضروری خدشات کا اظہار کرنےسے کسی مذہبی ادارے یا فردکی شفافیت پر غیر شعوری طور ہی سہی شکوک وشبہات کی پیوند کاری ہوتی ہے اور پھر بہکی بہکی باتیں چغلی کھاتی ہیں کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ یہ بلاوجہ کسی ادارے یا کسی فرد پر حرف گیری کاجواز پیدا کرنے کے مترادف ہے۔کیا کوئی سلیم العقل انسان اسےدُرست طرزِ عمل قرار دےسکتا ہے؟

 ؑعصر رواں کو اگر زمانہ ٔ اخیر یا کل یُگ کہا جائے تو شاید مبالغہ نہ ہوگا۔ یہاں ہم روز دیکھتے ہیں کہ دین دھرم اور خیراتی سرگرمیوں کے لبادے میں بعض رنگے سیار ایسے ایسے کانڈ کر تے ہیں کہ ان کا تذکرہ کرنے سے رُوح کانپتی ہے۔ ان گھمبیرحالات کے پس منظر میں خلیفہ ٔ دوم حضرت عمر ؓ کی متذکرہ بالا مثال سے سبق لے کر تمام مذہبی حلقوں کوشفافیت اور سچائی کے پرستار ہونے کاثبوت دے کر عملی طور دکھانا چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو تنقید واحتساب سے بالاتر نہیں سمجھتے ‘ اُن کی کارکردگی پر چاہے کوئی ذمہ دار حلقہ معقول سوال وجواب کرے ‘یا چاہےکوئی طالب ِحق اُنہیں عوامی احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کرے‘ مذہب داروں کا فرض ہے کہ اپنی استطاعت کی حدتک بھر پور سچائی سامنے لانے کی کوششیں کر نے میں پس وپیش  نہ کریں تاکہ مغالطوں کا اندھیرا چھٹ جائے ‘ غلط فہمیاں دورہوں اور ٹھوس زمینی حقائق بلا کم وکاست ہرکس وناکس کے سامنے آئیں ۔ اندازہ کیجئے کہ جب حضرت عمر ؓکا ستارہ ٔاقبا ل عروج پر تھا‘ آپ ؓ کامسند ِخلافت لاکھوں مربع کلومیٹر کومحیط تھا‘ شان ِاسلام کا دور ِ زریں اپنی جوبن پر تھا‘تاریخ کی ہمہ بصیرت آنکھیں دین ِاسلام کی صداقت شعاریوں اور عظمتوں کی عینی گواہ بنی ہوئی تھیں‘مسلمان اپنے بلندی ٔ کردار سےمخالفین اور معاندین کے دلوں میں موافقت کی گہری چھاپ ڈالے جارہے تھے‘ ہر چھوٹے بڑے ایمان والے کے قول وفعل میں یکسانیت تھی ‘ کلمہ خوانوں کی جلوت و خلوت میں مکمل یک روئی تھی‘ حکام اور عمال کی پرائیوٹ لائف اور پبلک لائف میں کوئی تضاد نہ تھا ‘ خلوص محبت دیانت کا مزاج عام تھا ‘ شیر اور بکرا ایک ہی گھاٹ آرام سےپانی پیتے تھے‘ خوفِ آخرت سے عوام اور خواص ہمہ وقت لرزاں وترساں رہتے تھے ‘اللہ کی عدالت میں دائیں ہاتھ میں نامہ ٔاعمال پکڑنے کی تڑپ میں آنکھیں اشک بار اور دل متوحش ومغموم رہتے تھے‘ اُسی سنہرے دورمیں تاریخ نے ان سنہری جملوں کو اپنے سینے میں بلائیاں لیتے ہوئے یونہی جگہ نہ دی بلکہ ان کے اندر ہمارے لئے بصیرت اور بصارت کی کائنات بسا دی تاکہ پتہ چلے کہ زمانۂ اخیر میں ہمیں ایمان کی حفاطت کا فریضہ کس شفاف اسلوب اور احساسِ جوابدہی کے ساتھ ادا کرنا ہوگا ۔ علامہ اقبال علیہ رحمہ نے اسی حقیقت کو مزید آشکارا کرتے ہوئے فرمایاہے   ؎ 

 صورتِ شمشیر ہے دست ِ قضا میں وہ قوم 

  کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!