مضامین
پاکستان کا افغانستان پر معاشی محاصرہ

کئی دہائیوں سے پاکستان اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ افغانستان میں استحکام اس کی اپنی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔ مگر آج اسلام آباد ایسی پالیسی پر عمل پیرا ہے جو اس دعوے کی صریح نفی کرتی ہے۔ پاکستان عملی طور پر افغانستان کی نازک معیشت کا گلا گھونٹ کر افغان طالبان حکومت کو ''تابع ‘‘یا ''محکوم‘‘ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان ڈیورنڈ لائن سرحد کے ساتھ واقع اہم گزرگاہوں کی طویل بندش—جن میں خیبر پختونخوا اور ننگرہار کے درمیان طورخم، اور بلوچستان و قندھار کے درمیان چمن–اسپن بولدک شامل ہیں—نے جغرافیے کو ایک ہتھیار میں بدل دیا ہے۔ یہ پاکستان کی جانب سے افغانستان کی زمینی طور پر محصورحیثیت کو دانستہ طور پر استعمال کرنے کی ایک مستند مثال ہے، تاکہ معاشی گھٹن کے ذریعےوہ طالبان حکومت کی سیاسی اطاعت حاصل کر سکے۔
اکتوبر 2025 سے جاری شدید فوجی جھڑپوں کے بعد چار ماہ سے زائد عرصے سے یہ سرحدی راستے بندپڑے ہیں۔ دہائیوں سے افغانستان اور پاکستان کے تعلقات میں جو غیر رسمی سرحد پار تجارت ایک لازمی حصہ رہی ہے اور جس پر لاکھوں افغانوں کی روزمرہ زندگی کا دارومدار ہے، تقریباً منہدم ہو چکی ہے۔ افغانستان پاکستان سے خوراک، ادویات، ایندھن اور تعمیراتی سامان جیسی بنیادی ضروریات کی روزانہ نقل و حرکت عملاً طور پر منحصر ہے۔علاوہ اذیں کابل اپنی زرعی و باغبانی کی پیداوار اور کوئلہ بھی بڑی مقدار میں پاکستانی منڈیوں کو برآمد کرتا رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحد پار تجارت 2025 میں 2024 کے مقابلے میں 40 فیصد کم ہو کر 2.64 ارب ڈالر سے گھٹ کر 1.77 ارب ڈالر رہ گئی ہے۔ ایک ایسے ملک جو ہر سمت زمین و پہاڑوں سے بندھا ہوا ہو اور جو پہلے ہی بین الاقوامی پابندیوں، منجمد اثاثوں اور انسانی بحران کا شکار ہے،ایسے ملک کے لیے طورخم جیسے تجارتی گزرگاہ کےبند ہونے کے اثرات نہایت شدید ہیں۔اور پاکستان اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے، اور یہی استدلال اس پالیسی کو دباؤ ڈالنے کا ایک ظالمانہ آلہ بناتا ہے۔
اسلام آباد نے سرحدی بندش کا جواز یہ پیش کیا ہے کہ افغان طالبان تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) جیسے عسکریت پسند گروہوں کو پناہ دے رہے ہیں، اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) جیسے بلوچ شورش پسندوں کے حملوں میں سہولت کاری کر رہے ہیں۔ 20 جنوری کو وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر یہی مانوس مؤقف دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ ناکہ بندی ''نہیں ہونی چاہیے تھی‘‘، مگر ساتھ ہی یہ تنبیہ بھی کی کہ افغانستان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ''امن سے رہنا چاہتا ہے یا نہیں‘‘۔
مگر یہ بیانیہ دراصل ایک ''بہانہ‘‘ ہے۔ اگرچہ عسکریت پسندی کا مسئلہ حقیقی ہےاور پاکستان کے لیے عدم استحکام کا بڑا باعث بن چکا ہے، تاہم موجودہ بحران کی وضاحت محض سکیورٹی خدشات سے نہیں کی جا سکتی۔ درحقیقت یہ اسلام آباد کی افغان پالیسی کی ایک گہری ناکامی کا مظہر ہے۔ یہ ایسی ناکامی ہے جس نے فوج کے زیرِ اثر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو مشتعل کیاہے جو کابل پر دوبارہ سےاپنا گہرا اثرورسوخ حاصل کرنے کے لیےایسے سخت ہتھکنڈے اپنا رہاہے۔
یہاں یہ بات دہرانےکےقابل ہے کہ سال 2021ء میں جب افغان طالبان نے کابل پر پھر سے قبضہ کرکے دوبارہ اقتدار میں آئے تو پاکستان کے سیاسی اور عسکری حلقوں میں کھلے عام جشن منایا گیا۔ امریکہ کے انخلا اور امریکی نواز افغان حکومت کے انہدام کو بہت سے پاکستانی پالیسی سازوں نےاسکو دہائیوں پر محیط ''اسٹریٹجک سرمایہ کاری‘‘ کی توثیق قرار دیا گیا۔ بہت سے سینئر جرنیلوں نےکابل میں ''اسٹریٹجک ڈیپتھ‘‘ (ستراتيعيچ ديپته) کے حصول کی بات کی، اور اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی کی کابل میں کافی پیتے ہوئے تصویر علامتی حیثیت اختیار کر گئی۔ پاکستانی ماہرین اور اسٹیبلشمنٹ کے ایک حصے میں یہ اعتماد آیا تھا کہ اب کابل آخرکار اسلام آباد کی علاقائی ترجیحات کے مطابق صف بندی کرے گا۔
پاکستانیوں کی توقعات بہت وسیع تھیں۔ یہ خیال کیا گیا کہ طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان میں بھارت،جسے پاکستان اپنا بنیادی حریف سمجھتا ہے، کا اثر و رسوخ ختم ہو جائے گا، اور نئی دہلی کی جانب سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے حاصل کردہ سوفت پووير کے فوائد مٹ جائیں گے۔ یہ بھی توقع تھی کہ کابل ڈیورنڈ لائن کی قانونی حیثیت کو تسلیم کر لے گا، یا کم از کم اس پر اعتراض ترک کر دے گا۔ ڈیورنڈ لائن وہ ہندوستان پر برتانوی سامراجیتی دور کی وہ سرحد ہے جو پشتون علاقوں کو تقسیم کرتی ہے اور جسے طالبان کی سابقہ حکومت (1996۔2001) سمیت کسی بھی افغان حکومت نے باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا ہے۔ اورتو اور اسلام آباد میں یہ امیدبھی تھی کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی جیسے پاکستان مخالف عسکریت پسند گروہوں کو لگام دے گا جو دو ملکوں کی سرحد کے ساتھ سرگرم ہیں۔
مگر ان میں سے کوئی بھی توقع پوری نہیں ہوئی۔ اس کے برعکس، پاکستانی قیادت کو آج ایک ایسی افغان طالبان قیادت کا سامنا ہے جو خوداعتماد، قوم پرست اور توقع سے کہیں کم تابع فرمان ثابت ہوئی ہے۔ طالبان عہدیدار افغان خودمختاری کی بات کھل کر کرتے ہیں اور پاکستانی دباؤ پر برہمی کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے ڈیورنڈ لائن کی قانونی حیثیت پر اپنے مؤقف کو مزید سخت کیا ہے، یوں ایک ایسے دیرینہ افغان موقف کو جاری رکھا ہے جو نظریاتی تقسیم سے بالاتر ہے۔ پاکستان کی ضد کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں مسلسل تناؤ بڑھتا جا رہا ہے، جس کا اظہار سرحدی جھڑپوں اور سفارتی سطح پر باہمی الزامات کی صورت میں ہو رہا ہے۔
پاکستانی طالبان کی دوبارہ سرگرمیاں اسلام آباد کے لیے خاص طور پر اذیت ناک ثابت ہوئی ہے۔ 2021 میں طالبان کی واپسی کے بعد اس گروہ نے مزید جرات مندی کے ساتھ پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں متعدد حملے کیے ہیں۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف کنفلیکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کی ایک رپورٹ کے مطابق، صرف 2025 میں 667 پاکستانی فوجی دہشتگردی واقعات یا دہشتگردوں کے خلاف کاروایوں میں ہلاک ہوئے، جو 2024 کے مقابلے میں 26 فیصد زیادہ ہے۔ اسی طرح بلوچستان میں شورش پسندانہ تشدد میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس سے پاکستان کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ شدید دباو میں آیاہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پائی جانے والی ان بغاوتوں کی داخلی وجوہات، جیسے سیاسی محرومی، معاشی نظرانداز اور سخت گیر عسکری پالیسیاں،پرغور کرنے کے بجائے اسلام آباد نے الزام تراشی کو بیرونی سمت موڑ دیا ہے، اور براہِ راست کابل کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ افغان طالبان پر ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی ''سرپرستی‘‘ کا الزام پاکستانی حاکموں کو سیاسی طور پر کارگر دکھتاہے چناچہ اس سے اسٹیبلشمنٹ کو سنگین سکیورٹی ناکامیوں پر جواب دہی سے بچنے اور افغانستان کے خلاف اپنے جابرانہ اقدامات کو دفاعی تنازعے میں پیش کرنے کا موقع فراحم ہوتاہے۔
پاکستان کی جانب سے افغان جغرافیے کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنا کہ جو اس کی سفارت کاری حاصل نہ کر سکی، دراصل اپنی ناکام افغان حکمتِ عملی کو بچانے کی ایک وسیع تر کوشش کا حصہ ہے۔ افغان طالبان پر اپنے اثر و رسوخ کا حد سے زیادہ اندازہ لگانے کے بعد، فوجی غلبے والی اسٹیبلشمنٹ اب دباؤ اور شکایت کے درمیان جھولتی نظر آتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں لاکھوں افغان مہاجرین کی جبری واپسی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اگرچہ اس اقدام کو قانونی اور سکیورٹی دلائل میں لپیٹا گیا ہے، مگر ان بے دخلیوں نے افغانستان کے انسانی بحران میں اضافہ ہی کیا ہے، اور ساتھ ہی یہ پیغام بھی دیا ہے کہ پاکستان کمزور مہاجروں کو بھی بطور دباؤ استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔
اس تمام صورتِ حال میں ستم ظریفی کو نظرانداز کرنا مشکل ہے۔ پاکستان کے رہنما یہ اصرار کرتے ہیں کہ افغانستان میں عدم استحکام علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے، مگر ان کی پالیسیاں خود اسی عدم استحکام کو بڑھاوا دے رہی ہے۔ وہ اس حقیقت کو نظرانداز کر رہے ہیں کہ معاشی گلا گھونٹنا نہ تو ''اطاعت‘‘ پیدا کرتا ہے اور نہ ہی اثر و رسوخ بحال کرتا ہے؛ بلکہ یہ ناراضگی کو جنم ہی نہیں بلکہ بڑھا دیتا ہے اور ایسی پالیسی کی حدود کو بے نقاب کرتا ہے۔
بلآخر، پاکستان کی جانب سے افغانستان کی جغرافیے کو ہتھیار بنانا طالبان کی کسی خاص خطا سے زیادہ اسلام آباد کی اس اسٹریٹجک جھنجھلاہٹ کو ظاہر کرتا ہے جو ایک تابع اور قابو میں رہنے والے کابل کے خواب کے ٹوٹنے سے پیدا ہوئی ہے۔ اس خواب کی جگہ اب ایسی زیادہ تلخ حقیقت نے لے لی ہے جہاں ایک خودمختار ہمسایہ ملک، جسکے آجکے حکمرانوں کے اپنےحکومتی مفادات ہیں، اگرچہ گزشتہ تین دہائیوں میں وہ پاکستان کی حمایت پر انحصار کیا ہو۔
اگر پاکستان سرحدیں بند کرنے، مہاجرین کو نکالنے اور اپنی اسٹریٹجک ناکامیوں کو سکیورٹی بیانیے کے پیچھے چھپانے کے اسی راستے پر چلتا رہا، تو ممکن ہے کہ وہ اپنے مغربی محاذ پر محض دشمنی کو ہی مزید مضبوط کرےگا۔ فوجی سربراہ جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی بہتری یہی سمجھنےمیں ہے کہ ملکی استحکام معاشی محاصرے کے ذریعے مسلط نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے سنجیدہ ازسرِنو جائزہ، علاقائی تعاون، اور اس حقیقت کو تسلیم کرنا ضروری ہے کہ دباؤ سے حاصل کیا گیا اثر و رسوخ ہمیشہ ناپائیدار ہوتا ہے۔ مگر فی الحال ایسا لگتا ہے کہ پاکستان اپنا پھندا مزید کسنے پر تلا ہوا ہے، اس امید میں کہ اقتصادی حربے وہ کام کر دکھائیں گی جو دہائیوں کی پالیسی نہ کر سکی۔ مگریہ بات ایاں ہونی چاہیےکہ آج تک کی تواریخ اس کے برعکس رہی ہے۔
(مضمون میں پیش کی گئی آرا و تجاوز مضمون نگار کی اپنی ہیں، اسے ادارہ نوکِ قلم سے منسوب نہیں کیا جانا چاہیے :شکریہ)