ادب
چھبیس جنوری — ایک آئینی مکالمہ

E-mail: enayatnazir2024@gmail.com
آج
ہندوستانی آئین کی سالگرہ ہے،
وہ دن
جب آزادی کو
قانون کی زبان دی گئی۔
کہا گیا تھا:
ہر ہندوستانی شہری
حقوق کے ساتھ جئے گا،
اور ذمہ داری کے ساتھ
ملک کی تعمیر کرے گا۔
-----------------------
آزادی
صرف مطالبہ نہیں تھی،
یہ امانت بھی تھی۔
قانون کی پاسداری،
عدل کی حمایت،
اور سماجی ہم آہنگی کی حفاظت۔
----------------------------
مگر سوال
پھر بھی باقی ہے۔
کیا قانون
ہر شہری کو
برابر تحفظ دیتا ہے؟
اور کیا ہر شہری
قانون کے وقار کو
برابر نبھاتا ہے؟
برطانوی عہد کی غلامی
تاریخ کے اوراق میں دفن ہے،
مگر آزادی کا امتحان
آج بھی جاری ہے۔
----------------------
آئین
مذہبی رواداری کی بات کرتا ہے،
اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے،
اور انصاف کو
ریاست کی بنیاد کہتا ہے۔
مگر یہ بنیاد
عمل سے مضبوط کیوں نہیں ہوتی؟
--------------------------------
فسادات
ملک کے اجتماعی شعور پر
سوالیہ نشان کیوں ہیں؟
-----------------------
کرپشن
اعتماد کی جڑیں کیوں کھوکھلی کرتی ہے؟
-----------------------------------
ڈرگس
نوجوانوں کو
ذمہ داری سے کیوں کاٹ دیتی ہے؟
------------------------------------
چوری، ڈکیتی
اور انتخابی عمل میں بے ضابطگیاں
جمہوریت کے اخلاقی قد کو
کم کیوں کرتی ہیں؟
-------------------
عدالتیں موجود ہیں،
قانونی نظام بھی۔
مگر انصاف کی رفتار
اکثر
صبر کا امتحان کیوں بن جاتی ہے؟
------------------------------
کچھ خطے ایسے بھی ہیں
جہاں شہری
اپنے فرائض نبھاتے ہوئے
سوال کرنے میں
احتیاط برتتے ہیں،
-----------------
جہاں خاموشی
شہری شعور کی مجبوری بن جاتی ہے۔
اور وفاداری
اظہار سے زیادہ
تحمل میں ناپی جاتی ہے۔
------------------------
چھبیس جنوری
صرف پرچم کشائی نہیں،
یہ یاد دہانی ہے:
کہ حقوق
ذمہ داری کے بغیر
ادھورے ہیں،
اور ذمہ داری
انصاف کے بغیر
بوجھ بن جاتی ہے۔
--------------------
اگر آئین
سب کے لیے برابر ہے،
تو پھر
عدل کا رواج بھی
برابر ہونا چاہیے،
-------------------
اور ہر ہندوستانی شہری کو
حق بھی ملے
اور فرض نبھانے کا
مکمل موقع بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔