مضامین
اجیت پوار کا سانحہ ارتحال

اجیت پوار کا سانحہ ارتحال جب خبر آئی اور معنی بکھر گئے۔
اجیت پوار کے اچانک ارتحال کی خبر محض ایک فرد کی موت کی اطلاع نہیں تھی، بلکہ زندگی کے دروازے پر پڑنے والی ایک سخت دستک تھی، جو یہ بتا گئی کہ دنیا میں کوئی منصب، کوئی طاقت، کوئی سیاسی حیثیت، کوئی منصوبہ اور کوئی خواب ایسا نہیں جو موت کی آمد کو ایک لمحہ بھی مؤخر کر سکے۔ جس صبح کو ہم کامیابیوں کے خاکے بناتے ہیں، اسی صبح کسی کا وجود مٹی میں اتر جاتا ہے۔ جس شام کو ہم مستقبل کی سیاست، کل کے اقتدار اور آنے والے برسوں کے منصوبے ترتیب دیتے ہیں، اسی شام کسی کا نام فہرستِ ماضی میں شامل ہو جاتا ہے۔ اجیت پوار کا سانحہ ارتحال اسی تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ اچانک موت کے سامنے سب برابر ہیں۔
یہ واقعہ خاص طور پر ان نوجوانوں کے لیے ایک آئینہ ہے جو سیاست کو زندگی کا سب سے بڑا مقصد سمجھ بیٹھے ہیں، جو اقتدار کو منزل، شہرت کو کامیابی اور اثر و رسوخ کو حیات کا حاصل مان رہے ہیں۔ سیاست بذاتِ خود کوئی جرم نہیں، قیادت کوئی عیب نہیں، اور عوامی خدمت ایک بلند قدر ہے، مگر جب سیاست خواہشاتِ نفس کی تکمیل کا راستہ بن جائے، جب اقتدار انا کی غذا بن جائے، اور جب قیادت خدا بننے کا متبادل بن جائے، تو انسان آہستہ آہستہ اپنے اصل مقصد سے کٹنے لگتا ہے۔ قرآن صاف لفظوں میں کہتا ہے: وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ۔ دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کا سامان ہے۔ یہی دھوکا اس وقت سب سے زیادہ خطرناک صورت اختیار کر لیتا ہے جب انسان کو اپنی طاقت مستقل دکھائی دینے لگے۔
زندگی درحقیقت ایک مہلت ہے، دو عدم کے درمیان رکھا گیا ایک مختصر وقفہ۔ نہ انسان اپنی آمد کا مختار تھا، نہ اپنی رخصتی کا۔ اس مہلت میں عقل دی گئی، ارادہ دیا گیا، قوت دی گئی، اور ساتھ یہ تنبیہ بھی کہ یہ سب آزمائش ہے۔ خواہشاتِ نفس اسی آزمائش کا سب سے نازک پہلو ہیں۔ منصب کی خواہش، شہرت کی طلب، غلبے کی آرزو، دولت کی ہوس، اثر و رسوخ کی پیاس—یہ سب وہ آگ ہے جو اگر اخلاق اور تقویٰ کی حدوں میں نہ رہے تو انسان کے اندر کی انسانیت کو جلا ڈالتی ہے۔ سیاست میں قدم رکھنے والے بہت سے لوگ ابتدا خدمت کے جذبے سے کرتے ہیں اور انجام اقتدار کی پرستش پر ہوتا ہے۔
اجیت پوار کی اچانک موت اس حقیقت کو اور نمایاں کرتی ہے کہ موت کسی فائل میں درج نہیں ہوتی، کسی شیڈول کا حصہ نہیں بنتی، کسی تجربے کی محتاج نہیں ہوتی۔ قرآن کہتا ہے: أَيْنَمَا تَكُونُوا يُدْرِككُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنتُمْ فِي بُرُوجٍ مُّشَيَّدَةٍ۔ رہی موت تو تم جہاں بھی ہو وہ بہرحال تمہیں آکر رہے گی چاہیے مضبوط عمارتوں میں ہوں (یا مضبوط قلعوں میں)۔ یہ آیت صرف قبرستانوں کے لیے نہیں، اقتدار کے ایوانوں کے لیے بھی ہے، شہرت کے اسٹیج کے لیے بھی ہے، اور عام زندگی کے گوشوں کے لیے بھی۔
اسلام میں موت اختتام نہیں، مرحلہ ہے۔ ایک دروازہ جس کے بعد جواب دہی شروع ہوتی ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے موت کو یاد رکھنے کو عقل مندی قرار دیا۔ موت کی یاد انسان کو زندگی سے بھگاتی نہیں، بلکہ زندگی کو وزن عطا کرتی ہے۔ وہ انسان جو موت کو سامنے رکھ کر جیتا ہے، وہ اپنے فیصلوں میں محتاط ہوتا ہے، اپنے وعدوں میں سچا ہوتا ہے، اور اپنی خواہشات پر نظر رکھتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ ایک دن ہر لفظ، ہر فائل، ہر فیصلہ اور ہر نیت کھولی جائے گی۔
نوجوانی میں سب سے بڑا فتنہ یہ نہیں کہ خواب بڑے ہوتے ہیں، فتنہ یہ ہے کہ خواب آخرت سے کٹ جاتے ہیں۔ سیاست کو سب کچھ سمجھ لینا، اقتدار کو اصل کامیابی مان لینا، اور اثر و رسوخ کو زندگی کا حاصل سمجھ بیٹھنا دراصل زندگی کی حقیقت سے انکار ہے۔ قرآن توازن سکھاتا ہے: وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا۔ دنیا کو چھوڑنا مطلوب نہیں، مگر آخرت کو بھول جانا تباہی ہے۔ دنیا ذریعہ ہے، مقصد نہیں۔ سیاست میدان ہے، منزل نہیں۔ قیادت امتحان ہے، انجام نہیں۔
اجیت پوار کے ارتحال کے بعد منصب خالی ہوا، نظام چلتا رہا، بیانات بدل گئے، تصویریں فریموں میں لگ گئیں، اور ایک انسان اپنے اعمال کے ساتھ تاریخ کے صفحے سے نکل کر حقیقت کے سفر میں داخل ہو گیا۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں دنیا کے تمام عنوانات خاموش ہو جاتے ہیں اور انسان کی اصل پہچان شروع ہوتی ہے۔ وہاں نہ جماعت ساتھ جاتی ہے، نہ حلقۂ اثر، نہ نعرے، نہ ہجوم۔ وہاں صرف وہ جاتا ہے جو انسان نے اپنے اندر تعمیر کیا ہوتا ہے۔
یہ سانحہ کسی فرد پر تبصرہ نہیں، بلکہ ہر اس شخص پر سوال ہے جو زندگی کو طویل منصوبہ اور موت کو بعید امکان سمجھ کر جیتا ہے۔ سیاست اگر اخلاق سے خالی ہو جائے تو وہ خدمت نہیں رہتی، کاروبار بن جاتی ہے۔ قیادت اگر خوفِ خدا سے خالی ہو جائے تو وہ ذمہ داری نہیں رہتی، تسلط بن جاتی ہے۔ اور جدوجہد اگر آخرت سے کٹ جائے تو وہ اصلاح نہیں رہتی، محض خواہش کی توسیع بن جاتی ہے۔
زندگی کو اگر موت کے آئینے میں دیکھ کر نہ جیا جائے تو انسان طاقت میں اندھا اور کمزوری میں ٹوٹا ہوا رہتا ہے۔ موت کی یاد انسان کو نہ مایوس بناتی ہے نہ سست، بلکہ بیدار رکھتی ہے۔ وہ یاد دہانی بن جاتی ہے کہ ہر صبح نئی شروعات ہو سکتی ہے اور ہر شام آخری بھی ہو سکتی ہے۔ اسی شعور کے ساتھ سیاست میں قدم رکھا جائے تو سیاست عبادت بن سکتی ہے، اور اسی شعور کے بغیر سیاست میں آیا جائے تو عبادت بھی سیاست بن کر رہ جاتی ہے۔
اجیت پوار کا اچانک ارتحال یہ بتاتا ہے کہ زندگی کی اصل قیمت زندگی ، اقتدار ، جاہ و منصب کی قدرو منزلت میں نہیں، سمت میں ہے۔ کئی نوجوانوں نے اجیت پوار کو admire کیا ، اپنا سیاسی گرو بنایا ، اسی سمتِ سیاست پر چل پڑے جس پر آنجہانی تھے ۔ لیکن بدقسمتی سے اجیت پوار کے پاس وہ تصورِ خالص نہیں تھا جو زندگی کی کامیابی کا ضامن ہے ' تصور آخرت ' تو موت / حادثاتی موت بس ایک آنت ( اختتام) بن گیا لیکن جو سمت آخرت کی طرف ہو وہ مختصر زندگی کو بھی بامعنی بنا دیتی ہے، اور جو سمت صرف خواہش کی طرف ہو وہ طویل زندگی کو بھی خالی چھوڑ دیتی ہے۔ اچانک موت انسان سے سب کچھ چھین نہیں لیتی، وہ دراصل یہ ظاہر کر دیتی ہے کہ اصل میں انسان کے پاس تھا ہی کیا۔
یہی اس سانحے کا سب سے گہرا پیغام ہے، اور یہی ہر اس نوجوان کے لیے فکری لمحہ ہے جو سیاست کو اپنی شناخت، اپنے وجود اور اپنے مستقبل کا واحد حوالہ سمجھ بیٹھا ہے۔