Ad
مضامین

خاموش کشمکش

✍🏼 اِکز اِقبال / سہی پورا قاضی آباد 


رابطہ: 7006857283

ہمارے معاشروں میں ایک خاموش المیہ برسوں سے جاری ہے، مگر نہ اس پر سنجیدہ گفتگو ہوتی ہے اور نہ ہی اسے ایک حقیقی سماجی مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ وہ کشمکش ہے جو بظاہر ماں اور بہو کے درمیان جنم لیتی ہے، مگر حقیقت میں اس کے بیچ و بیچ شوہر کھڑا ہوتا ہے—خاموش، الجھا ہوا اور رفتہ رفتہ اندر سے ٹوٹتا ہوا۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس صورتحال کو اکثر "گھریلو بات"، "معمول کی ان بن" یا "ہر گھر کی کہانی" کہہ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ ایک گہرا سماجی ، نفسیاتی، اخلاقی اور روحانی بحران ہوتا ہے جو پورے خاندانی نظام کو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے۔

یہ تنازعہ شور سے نہیں، خاموشی سے شروع ہوتا ہے۔ چند جملے، چند نگاہیں، چند غیر ضروری مشورے، اور پھر رفتہ رفتہ ایک ایسا ماحول تشکیل پاتا ہے جہاں محبت مشروط ہو جاتی ہے اور احترام طاقت کے توازن سے جڑ جاتا ہے۔ ماں، بہو اور بیٹے کے درمیان رشتے فطری رہنے کے بجائے مقابلے میں بدلنے لگتے ہیں۔ ہر شخص اپنی جگہ محفوظ رکھنا چاہتا ہے، مگر کسی کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ یہ حفاظت دراصل سب کے لیے زہر بن رہی ہے۔

اس مسئلے کی جڑ میں وہ خوف چھپا ہوتا ہے جسے تسلیم کرنا سب سے مشکل ہے۔ بہت سی مائیں اپنی شناخت، جذباتی تحفظ اور سماجی اہمیت کو بیٹے کے وجود سے جوڑ لیتی ہیں۔ برسوں کی قربانیاں، تنہائیاں، محرومیاں اور ادھوری خواہشیں بیٹے کے گرد گھومنے لگتی ہیں۔ وہ بیٹا صرف اولاد نہیں رہتا بلکہ زندگی کا مقصد، جذباتی سہارا اور بعض اوقات ناکام ازدواجی زندگی کا واحد سہارا بن جاتا ہے۔ ایسے میں جب بیٹا شادی کرتا ہے تو یہ محض ایک نیا رشتہ قائم ہونے کا مرحلہ نہیں ہوتا، بلکہ ماں کے لاشعور میں ایک غیر محسوس خطرے کی گھنٹی بج جاتی ہے—جیسے اس کی جگہ کوئی اور لے رہا ہو، جیسے اس کی اہمیت کم ہو رہی ہو۔

بدقسمتی سے بہت سی مائیں اس فطری تبدیلی کو قبول کرنے کے بجائے کنٹرول کے ذریعے اپنی حیثیت بچانے کی کوشش کرتی ہیں۔

شادی سے پہلے یہی بیٹا ماں کا لاڈلا ہوتا ہے۔ اس کی ہر ضد پیار کہلاتی ہے، اس کی ہر خواہش قربانی۔ اس کی خاموشی معصومیت اور اس کی نافرمانی شرارت سمجھی جاتی ہے۔ مگر جیسے ہی شادی کے بعد وہی بیٹا اپنی شرعی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داریاں نبھانے لگتا ہے—بیوی کے حقوق ادا کرتا ہے، اس کے وقار کا خیال رکھتا ہے، اس کے ساتھ کھڑا ہونا سیکھتا ہے—تو سوچ یکدم بدل جاتی ہے۔ اب وہی ذمہ داری جرم بن جاتی ہے، وہی توازن بغاوت، اور وہی انصاف گستاخی کہلاتا ہے۔

یوں ماں کی نظر میں وہی بیٹا اچانک "بگڑ جاتا ہے"، اور سب سے آسان الزام یہ لگا دیا جاتا ہے کہ وہ جورو کا غلام بن گیا ہے۔ گویا شوہر بننا جرم ہے، انصاف کرنا نافرمانی، اور ازدواجی رشتے کو سنجیدگی سے لینا بےوفائی۔ اصل مسئلہ مگر بیٹے کی تبدیلی نہیں، بلکہ اختیار کی اس منتقلی کا ہے جو فطری طور پر شادی کے بعد واقع ہوتی ہے—اور جسے قبول کرنا بعض دلوں کے لیے سب سے مشکل مرحلہ بن جاتا ہے۔ وہ خود بھی شعوری طور پر یہ نہیں جانتیں کہ ان کا رویہ محبت سے زیادہ اختیار کا رنگ اختیار کر چکا ہے۔ بہو کو ایک مکمل انسان کے بجائے ایک علامت بنا دیا جاتا ہے—ایسی علامت جو اختیار کے زوال، توجہ کی تقسیم اور جذباتی مرکز کے بدلنے کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اعتراض، تنقید اور مداخلت ہمیشہ "خیرخواہی"، "تجربے" اور "خاندان کی بہتری" کے لبادے میں سامنے آتی ہے۔

جذباتی بلیک میلنگ اس پورے عمل کا سب سے خطرناک اور مؤثر ہتھیار ہے۔ "میں نے تمہارے لیے کیا کچھ نہیں کیا"، "اب مجھے کوئی نہیں پوچھتا"، "سب کچھ بہو کے لیے ہے" جیسے جملے بظاہر درد میں ڈوبے ہوئے محسوس ہوتے ہیں، مگر حقیقت میں یہ احساسِ جرم پیدا کرنے کی نفسیاتی چالیں ہوتی ہیں۔ کبھی بیماری کو ڈھال بنایا جاتا ہے، کبھی آنسوؤں کو ہتھیار، اور کبھی خاموشی کو سزا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے کیا جاتا ہے کہ بیٹا خود کو قصوروار سمجھے اور دوبارہ اسی جذباتی دائرے میں قید ہو جائے۔

اکثر اس پورے عمل میں مذہب کو بھی منتخب انداز میں شامل کر لیا جاتا ہے۔ اطاعت، خدمت اور والدین کی رضا کے حوالے تو بار بار دہرائے جاتے ہیں، مگر عدل، احسان، توازن اور حدود کی تعلیمات کو دانستہ طور پر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ حالانکہ قرآن والدین کی عزت اور خدمت ضرور سکھاتا ہے، مگر غلامی، ناانصافی اور جذباتی استحصال کی اجازت نہیں دیتا۔ قرآن کا تصورِ اطاعت کبھی بھی ظلم کے ساتھ کھڑا نہیں ہوتا۔

اس ساری صورتحال میں سب سے زیادہ الجھن اور نقصان بیٹے کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اسے بچپن سے یہ سکھایا گیا ہوتا ہے کہ ماں سے اختلاف بدتمیزی ہے، جبکہ بیوی سے قربانی مانگنا صبر اور مردانگی کی علامت ہے۔ وہ خاموشی کو حکمت سمجھ لیتا ہے، حالانکہ یہی خاموشی رفتہ رفتہ ظلم کو طاقت فراہم کرتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بیوی خود کو غیر محفوظ، اکیلا اور بے وقعت محسوس کرنے لگتی ہے۔ اس کے لیے شادی ایک ساتھی کے ساتھ زندگی گزارنے کا نام نہیں رہتی بلکہ ایک مسلسل امتحان بن جاتی ہے۔

یہاں ایک اہم مگر نظرانداز شدہ پہلو مرد کی اپنی نفسیات ہے۔ مستقل دباؤ، جذباتی بلیک میلنگ، اور ہر لمحہ کسی ایک کو ناراض کرنے کے خوف نے اسے اندر سے کھوکھلا کر دیا ہوتا ہے۔ گھر سکون کی جگہ بننے کے بجائے اضطراب اور ذہنی تھکن کا مرکز بن جاتا ہے۔ بہت سے مرد خاموشی اوڑھ لیتے ہیں، کچھ جذباتی طور پر کٹ جاتے ہیں، اور کچھ اس زہر کو صبر کا نام دے کر پی جاتے ہیں—یہ جانے بغیر کہ یہ صبر نہیں بلکہ خود فریبی ہے۔

اصل المیہ یہ ہے کہ یہ سب اس لیے ہوتا ہے کیونکہ گھروں میں کوئی اعلیٰ مقصد باقی نہیں رہتا۔ جب قرآن تعلقات کو سمجھنے، تولنے اور سنوارنے کا پیمانہ نہیں بنتا، تو نفس حکمران بن جاتا ہے۔ پھر زندگی کا مقصد اصلاح، تربیت اور اخلاقی بلندی نہیں رہتا بلکہ برتری، اختیار اور کنٹرول بن جاتا ہے۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کی بات چلے، اس کا اثر قائم رہے، اور اس کی اہمیت کو چیلنج نہ کیا جائے۔

قرآن ماں اور بہو کو آمنے سامنے نہیں کھڑا کرتا۔ وہ سب کو اللہ کے سامنے کھڑا کرتا ہے۔ وہ والدین کی عزت کا حکم دیتا ہے، مگر ناانصافی کی اطاعت نہیں سکھاتا۔ وہ نکاح کو سکون، رحمت اور باہمی تحفظ کا ذریعہ قرار دیتا ہے، نہ کہ وفاداری کی جنگ اور جذباتی مقابلے کا میدان۔ جہاں قرآن کو واقعی زندگی میں جگہ دی جائے، وہاں انا خود بخود چھوٹی ہو جاتی ہے اور رشتے سانس لینے لگتے ہیں۔

ایک صحت مند خاندان میں کردار بدلتے ہیں، ختم نہیں ہوتے۔ ماں کو حکمرانی کے مرحلے سے نکل کر حکمت، دعا اور رہنمائی کے مقام پر آنا ہوتا ہے۔ بیٹے کو یہ سیکھنا ہوتا ہے کہ قیادت کا مطلب خاموشی نہیں بلکہ عدل ہے۔ اور بہو کو قربانی کی مشین یا خاموش مجسمہ نہیں بنایا جا سکتا۔ ہر رشتہ اپنی حد اور مقام کے ساتھ ہی خوبصورت رہتا ہے۔

اگر یہ توازن قائم نہ ہو تو نقصان صرف ایک گھر تک محدود نہیں رہتا۔ بچے اسی الجھن، اسی خوف اور اسی جذباتی انتشار کو وراثت میں پاتے ہیں۔ جذباتی استحصال معمول بن جاتا ہے۔ محبت شرطوں سے جڑ جاتی ہے، اور رشتے ذمہ داری کے بجائے بوجھ محسوس ہونے لگتے ہیں۔

ماں اور بیوی کے درمیان پسا ہوا شوہر کمزور نہیں ہوتا—مگر اسے سہولت کے بجائے سچ کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ اور خاندانوں کو انا کے بجائے ایمان کو مرکز بنانا ہوتا ہے۔ کیونکہ جب اللہ گھر کے مرکز سے نکل جائے، تو ہر فرد خود کو حاکم سمجھنے لگتا ہے۔ اور جہاں سب حاکم ہوں، وہاں سکون ناممکن ہو جاتا ہے۔

مضمون نگار مریم میموریل انسٹیٹیوٹ پنڈت پورا قاضی آباد میں پرنسپل ہے۔ رابطہ کے لیے ایمیل: ikkzikbal@gmail.com



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!